Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ہو اور اس کی روح حلق تک پہنچ چکی ہو تو تم(اپنی طاقت و قوت کے بل بوتے پر)اس کی روح کولوٹادو، حالانکہ تم ا س وقت دیکھ رہے ہوتے ہو کہ اس پر موت کی غَشی طاری ہے اور ا س کی روح بس نکلنے ہی والی ہے لیکن تم اس مرنے والے کی روح لوٹانے اور اس کی جان بچانے پر قادر نہیں  البتہ ہم اس وقت اپنے علم وقدرت کے ساتھ تم سے زیادہ اس مرنے والے کے قریب ہوتے ہیں  کہ ہر چیز کو جانتے بھی ہیں  اور سب کچھ کر بھی سکتے ہیں  لیکن تم اس چیز کو جانتے نہیں  ۔ جب تمہیں  معلوم ہے کہ روح کو لوٹا دینا تمہارے اختیار میں  نہیں  ہے تو سمجھ جاؤکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں  ہے، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اس پر ایمان لاؤ۔(مدارک ، الواقعۃ ،  تحت الآیۃ:۸۳-۸۷ ،  ص ۱۲۰۴-۱۲۰۵ ،  جلالین مع جمل ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۸۳-۸۷ ،  ۷ / ۴۰۶- ۴۰۷ ،  خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۸۳-۸۷ ،  ۴ / ۲۲۴-۲۲۵ ،  ملتقطاً)

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۸۸) فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ ﳔ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ(۸۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر وہ مرنے والا اگر مقربوں  سے ہے ۔ تو راحت ہے اور پھول اور چین کے باغ ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر وہ فوت ہونے والا اگر مقرب بندوں  میں  سے ہے۔ تو راحت اور خوشبودارپھول اور نعمتوں کی جنت ہے۔

{ فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ: پھر وہ فوت ہونے والا اگر مقرب بندوں  میں  سے ہے۔} یہاں  سے موت کے وقت مخلوق کے طبقات کے احوال اور ان کے درجات بیان فرمائے جا رہے ہیں ،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر مرنے والا آگے بڑھ جانے والے اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں  میں  سے ہے تو ا س کے لئے (موت کے وقت) راحت ، خوشبودارپھول اور آخرت میں  نعمتوں کی جنت ہے۔

             حضرت ابوالعالیہ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ مُقَرَّبین سے جو کوئی دنیا سے جدا ہوتا ہے تواس کے پاس جنت کے پھولو ں  کی ڈالی لائی جاتی ہے،وہ جب اس کی خوشبو لیتا ہے تو اس وقت ا س کی روح قبض ہوتی ہے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ:۸۸ -۸۹ ،  ۴ / ۲۲۵)

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ(۹۰) فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ(۹۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر د ہنی طرف والوں  سے ہو۔تو اے محبوب تم پر سلام ہے د ہنی طرف والوں  سے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر وہ دائیں  جانب والوں  میں  سے ہو۔تو (اے حبیب!) تم پردائیں  جانب والوں  کی طرف سے سلام ہو۔

{وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ: اور اگر وہ دائیں  جانب والوں  میں سے ہو۔} اس آیت اورا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر مرنے والا دائیں  جانب والوں  میں  سے ہو تو اے اَنبیاء کے سردار! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان کا سلام قبول فرمائیں  اور ان کے لئے غمگین نہ ہوں  وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامت اور محفوظ رہیں  گے اور آپ ان کو اسی حال میں  دیکھیں  گے جو آپ کو پسند ہو۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۹۰-۹۱ ، ۴ / ۲۲۵)

            بعض مفسرین نے ان آیات کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں  کہ اگر مرنے والا دائیں  جانب والوں  میں  سے ہو تو اے دائیں  جانب والے! موت کے وقت اور اس کے بعد تمہارے ساتھی تم پر سلام بھیجیں  گے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۹۰-۹۱ ،  ۹ / ۳۴۱ )

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ(۹۲) فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ(۹۳) وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ(۹۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر جھٹلانے والوں  گمراہوں  میں  سے ہو ۔تو اس کی مہمانی کھولتا پانی۔اور بھڑکتی آگ میں  دھنسانا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگرمرنے والا جھٹلانے والوں  گمراہوں  میں  سے ہو۔ تو کھولتے ہوئے گرم پانی کی مہمانی ۔ اور بھڑکتی آگ میں  داخل کیا جانا ہے۔

{ وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَ: اور اگرمرنے والا جھٹلانے والوں  گمراہوں  میں  سے ہو۔ } اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اگر مرنے والا جھٹلانے والوں  گمراہوں  میں  سے ہو جو کہ بائیں  جانب والے ہوں  گے تو ا س کے لئے (آخرت میں ) کھولتا ہوا گرم پانی تیار کیا گیا ہے اور اسے جہنم کی بھڑکتی آگ میں  داخل کیا جانا ہے۔(خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۹۲-۹۴ ،  ۴ / ۲۲۵)

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ(۹۵) فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠(۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے ۔ تو اے محبوب تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بولو ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ بیشک اعلیٰ درجہ کی یقینی بات ہے۔ تو اے محبوب! تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔

{ اِنَّ هٰذَا: یہ بیشک۔ } یعنی مرنے والوں  کے اَحوال اور جو مَضامین اس سورت میں  بیان کئے گئے، اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لئے تیار کی گئی جن نعمتوں  اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں  کے لئے تیار کئے گئے جن عذابات کا ذکر ہوا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے جو دلائل بیان ہوئے ،یہ بے شک اعلیٰ درجے کی یقینی بات ہے اور ا س میں  تَرَدُّد کی کوئی گنجائش نہیں۔(خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۹۵ ،  ۴ / ۲۲۵)

{ فَسَبِّحْ: تو اے محبوب! تم پاکی بیان کرو۔ } حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  ’’جب یہ آیت ’’ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ‘‘نازل ہوئی توسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:’’ اسے اپنے رکوع میں  داخل کرلو اور جب یہ آیت ’’سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى‘‘نازل ہوئی تو فرمایا اسے اپنے سجدوں میں  داخل کرلو۔( ابوداؤد ،  کتاب الصلاۃ ،  باب مایقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ ،  ۱ / ۳۳۰ ،  الحدیث: ۸۶۹)

اس آیت سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجود کی تسبیحات قرآنِ کریم سے ماخوذ ہیں ۔



Total Pages: 250

Go To