Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کی جائے گی،پھر تمام اعمال کا یہی حال ہو گا۔(ترمذی ،  ابواب الصلاۃ ،  باب ما جاء انّ اوّل یحاسب بہ العبد۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۴۲۱ ،  الحدیث: ۴۱۳)

مشورہ کرنے کی اہمیت:

            اور ایک وصف یہ بیان ہو اہے کہ وہ باہمی مشورے سے اپنے کام کرتے ہیں  ۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی اِجتہادی اُمور میں  صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے مشورہ کرنے کا حکم دیا ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا:

’’وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِ‘‘(ال عمران:۱۵۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کاموں  میں  ان سے مشورہ لیتے رہو۔

            اورتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بعدصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ بھی دینی اور دُنْیَوی اہم اُمور باہمی مشورے سے طے کیا کرتے تھے ۔

            اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے حاکم اچھے لوگ ہوں ،تمہارے مالدار سخی لوگ اور تمہارے کام باہمی مشورے سے طے ہوں  تو زمین کا ظاہر اس کے باطن سے تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور جب تمہارے حاکم شریر لوگ ہوں ، تمہارے مالدار بخیل ہوں  اور تمہارے معاملات عورتوں  کے سپرد ہوں  تو اس وقت زمین کا پیٹ تمہارے لئے اس کے ظاہر سے زیادہ بہتر ہے۔( ترمذی ،  کتاب الفتن ،  ۷۸-باب ،  ۴ / ۱۱۸ ،  الحدیث: ۲۲۷۳)

            اورحضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا :جو قوم مشورہ کرتی ہے وہ صحیح راہ پر پہنچتی ہے۔( مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ص۱۰۹۰)

صدقہ دینے کی اہمیت:

            اور ایک وصف یہ بیان ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوئے رزق میں  سے کچھ راہِ خدا میں  خرچ کرتے ہیں ۔ اس سے مراد تمام قسم کے صدقات ہیں ، حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ مال میں  کمی نہیں  کرتا اور بندہ جب صدقہ دینے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ سائل کے ہاتھ میں  جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دست ِقدرت میں  آجاتا ہے اور جو بندہ بلا ضرورت سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فَقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔( معجم الکبیر ،  وما اسند عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما ،  مقسم عن ابن عباس ،  ۱۱ / ۳۲۰ ،  الحدیث: ۱۲۱۵۰)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے،اپنے اہم کاموں  میں  صحیح مشورہ دینے والوں  سے مشورہ کرنے اور صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ جب اُنھیں  بغاوت پہنچے بدلہ لیتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (ان کے لیے) جنہیں  جب کوئی زیادتی پہنچے تو وہ (انصاف کے ساتھ) بدلہ لیتے ہیں ۔

{وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ: اور وہ کہ جنہیں  جب کوئی زیادتی پہنچے۔} یعنی اجر و ثواب ان کیلئے بھی ہے کہ جن پر کوئی ظلم کرے تو وہ اس سے انصاف کے ساتھ بدلہ لیتے ہیں  اور بدلہ لینے میں  حد سے تجاوُز نہیں  کرتے۔

             ابنِ زید کا قول ہے کہ مومن دو طرح کے ہیں  ایک وہ جو ظلم کو معاف کرتے ہیں ۔ پہلی آیت میں  اُن کا ذکر فرمایا گیا۔ دوسرے وہ جو ظالم سے بدلہ لیتے ہیں ، ان کا اس آیت میں  ذکر ہے۔

            اورحضرت عطا رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ یہ وہ مومنین ہیں  جنہیں  کفار نے مکہ مکرمہ سے نکالا اوراُن پر ظلم کیا پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں  اس سرزمین میں  تَسَلُّط دیا اور اُنہوں نے ظالموں  سے بدلہ لیا۔( مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ص۱۰۹۱ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۴ / ۹۸-۹۹ ،  ملتقطاً)

ظالم سے بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دینا بہتر ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے اور اس سے اتنا ہی بدلہ لیا جائے گا جتنا اس نے ظلم کیا لیکن بدلہ لینے پر قدرت کے باوجود معاف کر دینا بہت بہتر ہے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک زندگی میں  اس کی بہت ساری مثالیں  موجود ہیں  ،ان میں  سے 4 مثالیں  درج ذیل ہیں ،

(1)… صلحِ حُدَیْبِیَہ کے سال جبل ِتنعیم کی طرف سے اسّی افراد کا گروہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوشہید کرنے کے ارادے سے آیا،جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان پر غلبہ پا لیا تو انتقام پر قدرت کے باوجود ان پر احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔

(2)…غورث بن حارث جس نے نیند کی حالت میں  سر کارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وار کرنے کی کوشش کی، لیکن حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیدار ہو گئے اور جب اس کی تلوار آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قبضے میں  آگئی اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو بلا کر ا س کے ارادے سے باخبر بھی کر دیاتو قدرت کے باوجود آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے معاف کر دیا۔

(3)… لبید بن عاصم جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرجادو کیا ،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کر دیا۔

(4)…مرحب یہودی کی بہن زینب جس نے زہر لگی ران بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  بھیجی، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی ذات کی وجہ سے ا س سے کوئی بدلہ نہ لیا لیکن جب حضرت بشر بن براء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اس زہر کے اثر کی وجہ سے انتقال کر گئے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس عورت پر شرعی سزا جاری کی۔( تفسیر ابن کثیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۷ / ۱۹۳-۱۹۴)

 



Total Pages: 250

Go To