Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: اور بہت سے میووں  میں ۔جو نہ ختم ہوں  اور نہ روکے جائیں  ۔اور بلند بچھونوں  میں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بہت سے پھلوں  میں ۔جو نہ ختم ہوں  گے اور نہ روکے جائیں  گے۔اور بلند بچھونوں  میں ہوں  گے۔

{وَ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ: اور بہت سے پھلوں  میں ۔}  اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ دائیں  جانب والے ان جنتوں  میں  ہوں  گے جن میں  مختلف اَجناس اور اَقسام کے بہت سے پھل ہیں  اور وہ پھل کبھی ختم نہ ہوں  گے کیونکہ جب بھی کوئی پھل توڑ اجائے گا تو فوراً اس کی جگہ ویسے ہی دو پھل آ جائیں  گے اور اہلِ جنت کوان پھلوں  کے استعمال سے نہ کوئی روک ٹوک ہوگی، نہ شرعی رکاوٹ، نہ طبی پابندی اور نہ کسی بندے کی طر ف سے ممانعت ہو گی۔

{وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ: اور بلند بچھونوں  میں  ہوں  گے۔} اس آیت کے معنی یہ ہیں  کہ دائیں  جانب والے جنتوں  میں  آرام کے بستروں  میں  ہوں  گے جوجواہرات سے سجے ہوئے اونچے اونچے تختوں  پربچھے ہوئے ہوں  گے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۴ / ۲۱۹ ،  ملتقطاً)

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ(۳۵) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ(۳۶) عُرُبًا اَتْرَابًاۙ(۳۷) لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ(۳۸)ﮒ

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے ان عورتوں  کو اچھی اُٹھان اُٹھایا ۔تو انہیں  بنایا کنواریاں  اپنے شوہر پر پیاریاں ۔ اُنہیں  پیار دِلاتیاں  ایک عمر والیاں  ۔د ہنی طرف والوں  کے لیے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں  کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا ۔توہم نے انہیں  کنواریاں  بنایا ۔ محبت کرنے والیاں ،سب ایک عمر والیاں ۔ دائیں  جانب والوں  کے لیے۔

{ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءً: بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں  کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں  کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا توہم نے انہیں  ایسی کنواریاں  بنایا کہ جب بھی ان کے شوہر ان کے پاس جائیں  گے وہ انہیں  کنواریاں  ہی پائیں  گے اور وہ عورتیں  اپنے شوہروں  سے بے پناہ محبت کرنے والیاں  ہیں  اور ان سب کی عمر بھی ایک ہو گی کہ 33سال کی جوان ہوں  گی،اسی طرح ان کے شوہربھی جوان ہوں  گے اور یہ جوانی ہمیشہ قائم رہنے والی ہو گی۔( مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۵-۳۷ ،  ص ۱۲۰۰ ،  ملخصاً)

            بعض مفسرین کے نزدیک ان عورتوں  سے دنیا کی عورتیں  مراد ہیں  اور بعض مفسرین کے نزدیک ان سے مراد حوریں  ہیں ۔ (صاوی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۶ / ۲۰۹۱)

 کوئی بوڑھی عورت جنت میں  نہ جائے گی:

            یہاں  ہم اسی آیت سے متعلق ایک دلچسپ روایت ذکر کرتے ہیں  ، چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُسے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں  کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک بوڑھی عورت سے فرمایا کہ جنت میں  کوئی بوڑھی عورت نہ جائے گی۔انہوں  نے(پریشان ہو کر) عرض کی : تو پھر ان کا کیا بنے گا ؟ (حالانکہ)وہ عورت قرآن پڑھاکرتی تھی۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا تم نے قرآن میں  یہ نہیں  پڑھا کہ

’’ اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ(۳۵) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ(۳۶)‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں  کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا۔توہم نے انہیں  کنواریاں  بنایا۔( مشکاۃ المصابیح ،  کتاب الآداب ،  باب المزاح ،  الفصل الثانی ،  ۲ / ۲۰۰ ،  الحدیث: ۴۸۸۸)

{ لِاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ: دائیں  جانب والوں  کے لیے۔}اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ہم نے ان عورتوں  کو دائیں  جانب والوں  کے لئے پیدا کیا اور ایک تفسیر یہ ہے کہ جو نعمتیں  بیان کی گئیں  یہ ان لوگوں  کے لئے ہیں  جو دائیں  جانب والے ہیں ۔ (خازن ، الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۴ / ۲۱۹)

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۳۹) وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اگلوں  میں  سے ایک گروہ۔اور پچھلوں  میں  سے ایک گروہ ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  پہلے لوگوں  میں  سے ایک بڑاگروہ ہے۔اور بعدوالے لوگوں  میں  سے بھی ایک بڑاگروہ ہے۔

{ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ: پہلے لوگوں  میں  سے ایک بڑاگروہ ہے۔}  اس سے پہلے رکوع میں  آگے بڑھ جانے والے اور بارگاہِ الہٰی کے مُقَرّب بندوں  کی دو جماعتوں  کا ذکر کیا گیا تھا اور یہاں  اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  دائیں  جانب والوں  کے دو گروہوں  کا بیان کیا گیا ہے کہ وہ اس اُمت کے پہلوں  اور بعد والوں  دونوں  گروہوں  میں  سے ہوں  گے، پہلا گروہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ ہیں  اور بعد والوں  سے قیامت تک کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے بعد والے مراد ہیں ۔

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بائیں  طرف والے کیسے بائیں  طرف والے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بائیں  جانب والے کیا بائیں  جانب والے ہیں ۔

{وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ: اور بائیں  جانب والے۔} اہلِ جنت کے دو گروہوں  کا حال اور ان کی جزا بیان کرنے کے بعد اب اہلِ جہنم کے گروہ کا حال اور اس کا انجام بیان کیا جا رہاہے ،چنانچہ اس آیت میں  ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جن کے نامہ ٔ       اعمال بائیں  ہاتھوں  میں  دیئے جائیں  گے،بدبختی میں  ان کا حال عجیب ہے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۴ / ۲۲۰ ،  ملخصاً)

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ(۴۲) وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ(۴۳) لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: جلتی ہوا اور کھولتے پانی میں ۔ اور جلتے دھوئیں  کی چھاؤں  میں  ۔جو نہ ٹھنڈی نہ عزت کی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: شدید گرم ہوا اور کھولتے پانی میں  ہوں  گے۔ اورشدید سیاہ دھوئیں  کے سائے میں  ہوں  گے ۔ جو ( سایہ) نہ ٹھنڈا ہوگا اورنہ آرام بخش۔

 



Total Pages: 250

Go To