Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

میوے اہلِ جنت کے پاس لائیں  گے جووہ پسند کریں  گے اوران پرندوں  کا گوشت لائیں  گے جن کی وہ تمنا کریں  گے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۷-۲۱ ،  ۴ / ۲۱۷-۲۱۸ ،  مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۷-۲۱ ،  ص۱۱۹۹ ،  ملتقطاً)

اہلِ جنت کی خصوصی خدمت:

            اہلِ جنت پر کئے گئے ان انعامات کو ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ(۲۲)یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ(۲۳)وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ‘‘(طور:۲۲-۲۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور پھلوں ، میووں  اور گوشت جو وہچاہیں  گے ان کے ساتھ ہم ان کی مدد کرتے رہیں  گے۔ جنتی لوگ جنت میں  ایسے جام ایک دوسرے سے لیں  گے جس میں  نہ کوئی بیہودگی ہوگی اورنہ گناہ کی کوئی بات۔اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں  گے گویا وہ چھپاکر رکھے ہوئے موتی ہیں  ۔

            یاد رہے کہ خدمت گار لڑکوں  کا اہلِ جنت کو پھل اور گوشت پیش کرناان کی خصوصی خدمت کے طور پر ہو گا ورنہ جنَّتی درختوں  پر لگے ہوئے پھل ان کے اتنے قریب ہوں  گے کہ وہ کھڑے ،بیٹھے، لیٹے ہر حال میں  اسے پکڑ سکیں  گے اور جس پرندے کی تمنا کریں  گے وہ بھنا ہوا ان کے سامنے حاضر ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ‘‘(رحمٰن:۵۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دونوں  جنتوں  کے پھل جھکے ہوئے ہوں  گے۔

             اور ارشاد فرماتا ہے:

’’ قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ ‘‘(حاقہ:۲۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کے پھل قریب ہوں  گے ۔

            اورحضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اگر جنَّتی کو پرندوں کا گوشت کھانے کی خواہش ہوگی تو اس کی مرضی کے مطابق پرندہ اڑتا ہوا سامنے آ جائے گا، اورایک قول یہ ہے کہ رِکابی میں (بھنا ہوا) آکر سامنےپیش ہوگا،اس میں  سے جتنا چاہے گا جنتی کھائے گا ،پھر وہ اُڑ جائے گا۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۲۱۸)

جنَّتی پرندوں  سے متعلق3اَحادیث:

            آیت نمبر21 میں  اہلِ جنت کے لئے پرندوں  کے گوشت کا ذکر کیا گیا ،اس مناسبت سے ان پرندوں  کے بارے میں  3 اَحادیث ملاحظہ ہوں ۔

(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک جنت کا پرندہ بُختی اونٹ کی طرح ہو گا اور وہ جنت کے درختوں  میں  چرے گا۔(یہ سن کر) حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی : یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک وہ پرندہ تو بہت اچھا اور عمدہ ہو گا۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اسے کھانے والا اس سے زیادہ عمدہ اور اعلیٰ ہو گا اور میں  یہ امید رکھتا ہوں  کہ تم بھی اسے کھاؤگے ۔( مسند امام احمد ،  مسند المکثّرین من الصحابۃ ،  مسند انس بن مالک ،  ۴ / ۴۴۱ ،  الحدیث: ۱۳۳۱۰)

(2)…حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک تم جنت میں  اڑتے ہوئے پرندے کودیکھو اور تمہارے دل میں  اسے کھانے کی خواہش پیدا ہو تو وہ اسی وقت بھونا ہوا تمہارے سامنے پیش ہو جائے گا۔( رسائل ابن ابی الدنیا ،  صفۃ الجنۃ ،  ۶ / ۳۴۲ ،  الحدیث: ۱۰۳)

(3)…حضرت میمونہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک جنت میں  جب کوئی آدمی پرندے کا گوشت کھانے کی خواہش کرے گا تو بُختی اونٹ کی طرح(بڑا) پرندہ آجائے گا یہاں  تک کہ اس کے دستر خوان پرایسے (بُھن کر) پیش ہو جائے گاکہ اسے کوئی دھواں  لگا ہوا ہوگا اور نہ ہی کسی آگ نے اسے چھواہو گا،وہ آدمی اس سے پیٹ بھر کر کھائے گا،پھر وہ پرندہ اُڑ جائے گا۔( رسائل ابن ابی الدنیا ،  صفۃ الجنۃ ،  ۶ / ۳۴۶ ،  الحدیث: ۱۲۳)

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ(۲۲) كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ(۲۳) جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بڑی آنکھ والیاں  حوریں  ۔جیسے چھپے رکھے ہوئے موتی ۔صلہ ان کے اعمال کا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بڑی آنکھ والی خوبصورت حوریں  ہیں ۔جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی ہوں ۔ان کے اعمال کے بدلے کے طور پر ۔

{ وَ حُوْرٌ عِیْنٌ: اور بڑی آنکھ والی خوبصورت حوریں  ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مُقَرّب اہلِ جنت (کی خدمت )کے لئے بڑی آنکھ والی خوبصورت حوریں  ہوں  گی اور وہ حوریں  ایسی ہوں  گی جیسے موتی صَدَف میں  چھپا ہوتا ہے کہ نہ تو اسے کسی کے ہاتھ نے چھوا، نہ دھوپ اور ہوا لگی اوراس وجہ سے وہ ا نتہائی صاف اور شفاف ہوتا ہے،الغرض جس طرح یہ موتی اچھوتا ہوتا ہے اسی طرح وہ حوریں  اچھوتی ہوں  گی۔ یہ بھی مروی ہے کہ حوروں  کے تَبَسُّم سے جنت میں  نورچمکے گا اور جب وہ چلیں  گی تو اُن کے ہاتھوں  اور پاؤں  کے زیوروں  سے تقدیس اور تمجید کی آوازیں  آئیں  گی اور یاقوتی ہاراُن کے گردنوں  کے حسن و خوبی سے ہنسیں  گے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۲-۲۳ ،  ۴ / ۲۱۸)

{جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ: ان کے اعمال کے بدلے کے طور پر۔} یعنی بارگاہِ الہٰی کے مُقَرّب بندوں  کو یہ سب کچھ ان کے دُنْیَوی نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے کے صِلہ میں  ملے گا۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۴ / ۲۱۸)

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ(۲۵) اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اس میں  نہ سُنیں  گے نہ کوئی بیکار با ت نہ گنہگاری ۔ہاں  یہ کہنا ہوگا سلام سلام۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس میں  نہ کوئی بیکار با ت سنیں  گے اورنہ کوئی گناہ کی بات ۔مگر سلام سلام کہنا۔

 



Total Pages: 250

Go To