Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            جن جنتوں  کا اس آیت میں  بیان ہواان کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ یہ دائیں  جانب والوں  کے لئے ہیں  کیونکہ ان کا مرتبہ ان لوگوں  سے کم ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں  اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں  جنتیں  بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کھڑے ہونے سے ڈرنے والوں  کے لئے ہیں ۔( صاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۶ / ۲۰۸۴)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن و انسان کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے پہلے متقی لوگوں  کے لئے دو جنتوں  کا ذکر فرمایا اور اب ان کی فضیلت و کرامت میں  اضافہ کرتے ہوئے دو اور جنتوں  کا ذکر فرمایا تو تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرامت کا انکار کس طرح کر سکتے ہو۔( تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۳ ،  ۳ / ۳۱۱)

مُدْهَآ مَّتٰنِۚ(۶۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان: نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں ۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ دونوں  جنتیں  نہایت سبز درختوں  کی وجہ سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{مُدْهَآ مَّتٰنِ: وہ دونوں  جنتیں  نہایت سبز درختوں  کی وجہ سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں ۔} اس آیت میں  ان جنتوں  کا وصف بیان کیا گیا ہے کہ ان کے درختوں  کے پتے اتنے سبز ہیں  کہ وہ سیاہی کی جھلک دے رہے ہیں ۔

سبز رنگ کافائدہ:

            یہ انتہائی خوشنما رنگ ہے اور نورِ نظر کے لئے بہت مفید ہے۔حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سبز رنگ کی طرف دیکھنے سے بصارت میں  اضافہ ہوتا ہے۔( مسند الشہاب ،  الباب الاول ،  النظر الی الخضرۃ یزید فی البصر۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۱۹۳ ،  الحدیث: ۲۸۹)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسانوں  کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے سبز جنتیں  بنائیں  کیونکہ سبز رنگ کی طرف دیکھنے سے بصارت میں  اضافہ ہوتا ہے تو تم ا س کی وحدانیّت کا انکار کس طرح کر سکتے ہو۔( تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۵ ،  ۳ / ۳۱۱)

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ(۶۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۶۷)

ترجمۂ کنزالایمان: ان میں  دو چشمے ہیں  چھلکتے ہوئے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان میں  دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{فِیْهِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ: ان میں  دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔} یعنی ان دونوں  جنتوں  میں  پانی کے چھلکتے ہوئے دو چشمے ہیں  جن کا پانی ٹوٹتا نہیں ۔

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  کہ ان دونوں  جنتوں  میں  اہلِ جنت پر خیرو برکت کے ساتھ پانی کے دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں  ۔

            اورحضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اس کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  کہ ان دونوں  جنتوں  میں  اللہ تعالیٰ کے پیاروں  پر مشک اور کافور (کی خوشبو) کے ساتھ پانی کے دو چھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔

            اورحضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’اہلِ جنت کے گھروں  میں  مشک اور عنبر (کی خوشبو) کے ساتھ پانی کے دوچھلکتے ہوئے چشمے ہیں ۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۶ ،  ۴ / ۲۱۵)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! تم میں  سے نیک اعمال کرنے والوں  کو ایسا عظیم ثواب عطا کر کے اللہ تعالیٰ نے تم پر انعام کیا توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۷ ،  ۱۱ / ۶۱۳)

فِیْهِمَا فَاكِهَةٌ وَّ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌۚ(۶۸) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: ان میں  میوے اور کھجوریں  اور انار ہیں ۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان جنتوں  میں  میوے اور کھجوریں  اور انار ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{وَ نَخْلٌ وَّ رُمَّانٌ: اور کھجوریں  اور انار۔} یعنی جنتوں  میں  ہر طرح کے میوے ہوں  گے ۔کھجورا ور انار اگرچہ میوے میں  داخل ہے لیکن ان کی فضیلت اور شرف کی وجہ سے انہیں  خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۸ ،  ۴ / ۲۱۵)

 کھجور اور انار کے فضائل:

             یہاں  آیت میں  کھجور اورا نار کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ،اسی مناسبت سے ہم یہاں  کھجور اور انار کے چند فضائل بیان کرتے ہیں ،چنانچہ

             حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ درختوں  میں  سے ایک ایسا بھی ہے جس کے پتے نہیں  گرتے اور اس کی مثال ایک مسلمان جیسی ہے،مجھے بتاؤ وہ کونسا ہے؟لوگ جنگل کے درختوں  کے بارے میں  سوچنے لگے اور مجھے خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن مجھے (بولنے سے) شرم آئی (کیونکہ اس وقت بڑے بڑے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ موجود تھے) پھر لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ خود بتادیجئے کہ وہ کونسا درخت ہے؟ارشاد فرمایا:وہ کھجور کا درخت ہے۔( بخاری ،  کتاب العلم ،  باب قول المحدّث: حدّثنا او اخبرنا۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۳۷ ،  الحدیث: ۶۱)

             حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا فرماتی ہیں ،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا، جس گھر میں  کھجوریں  نہ ہوں  وہ



Total Pages: 250

Go To