Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

علامات سے پہچان لینا اور صرف مجرموں  کو ذلت اور توہین سے دوچار کرنا اور اطاعت گزاروں  کو محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ، توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ۱۱ / ۶۰۰)

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ یُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ(۴۳) یَطُوْفُوْنَ بَیْنَهَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍۚ(۴۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے ہیں ۔ پھیرے کریں  گے اس میں  اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں ۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  یہ وہ جہنم ہے جسے مجرم جھٹلاتے تھے۔ جہنمی جہنم اور انتہائی کھولتے ہوئے پانی میں  چکر لگائیں  گے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{هٰذِهٖ جَهَنَّمُ: یہ وہ جہنم ہے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ جہنم جسے مجرم جھٹلاتے تھے وہ ان سے دور نہیں  بلکہ ان کے قریب ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جب کفار جہنم کے قریب ہوں  گے تو اس وقت جہنم کے خازن ان سے کہیں  گے کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم دنیا میں  جھٹلاتے تھے۔ (تفسیرکبیر ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۱۰ / ۳۶۸ ،  تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۳ / ۳۰۹ ،  ملتقطاً)

{یَطُوْفُوْنَ: جہنمی چکر لگائیں  گے۔} اس آیت میں  جہنمیوں  کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جہنمی جہنم اور اس کے انتہائی کَھولتے ہوئے پانی میں  چکر لگائیں  گے۔اس کی ایک صورت یہ ہو گی کہ جب وہ جہنم کی آگ سے جل بُھن کر فریاد کریں  گے تو اُنہیں  اس جگہ لے جایا جائے گا جہاں  کھولتے ہوئے پانی کا چشمہ ہے، وہاں  انہیں  جلتا اورکَھولتا ہواپانی پلایا جائے گا اور جب اس عذاب پر فریاد کریں  گے تو انہیں  اس جگہ لے جایا جائے گا جہاں  آگ کا عذاب ہے۔دوسری صورت یہ ہو گی کہ جہنمیوں  پر بھوک کا عذاب مُسلّط کیا جائے گا ،جب وہ کھانے کے لئے چیخیں  گے تو انہیں  تھوہڑ کھلایا جائے گااور وہ ان کے حَلق میں  چبھ جائے گا، تب پانی کے لئے شور مچائیں  گے تو پھر انہیں  وہاں  لے جایا جائے گا جہاں  کَھولتے پانی کا چشمہ ہے۔جب وہ پانی اپنے چہرے کے قریب کریں  گے تو ان کے چہرے کا گوشت گل کر اس میں  گر پڑے گا ،پھر اسے پئیں  گے تو وہ ان کے پیٹوں  میں  جوش مارے گا اور ان میں  موجود ہر چیز نکال دے گا۔پھر ان پر بھوک مُسلّط کی جائے گی اور وہ اسی طرح جہنم کے ایک طبقے سے دوسرے طبقے میں  چکر لگائیں  گے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۴ / ۲۱۳ ،  جلالین ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ص۴۴۵ ،  تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۳ / ۳۰۹ ،  ملتقطاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ کا اپنی نافرمانی کے اس انجام سے دنیا میں  ہی آگاہ فرمادینا بھی اس کی نعمت ہے، توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں  ہیں ۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں  ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے۔} یہاں  سے اللہ تعالیٰ نے وہ نعمتیں  بیان فرمائی ہیں  جو ا س نے اپنی بارگاہ میں  کھڑے ہونے سے ڈرنے والے متقی اور مومن بندوں  کے لئے تیار فرمائی ہیں ۔

            اس آیت کاایک معنی یہ ہے کہ جسے دنیا میں  قیامت کے دن اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حساب کی جگہ میں  حساب کے لئے کھڑے ہونے کا ڈر ہو اور وہ گناہوں  کو چھوڑ دے اور فرائض کی بجا آوری کرے تو ا س کے لئے آخرت میں  دو جنتیں  ہیں ۔( مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ص۱۱۹۵ ،  خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۴ / ۲۱۳ ،  ملتقطاً)

            اس معنی کی تائید اس آیتِ مبارکہ سے بھی ہوتی ہے،ارشادِ باری تعالیٰ ہے

’’وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰى‘‘(نازعات:۴۰ ، ۴۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔تو بیشک جنت ہی ٹھکانہ ہے۔

          دوسرا معنی یہ ہے کہ جو اس بات سے ڈرے کہ اس کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ جانتا ہے اوروہ اس کے اعمال کی نگرانی رکھتا ہے اور اس خوف کی وجہ سے وہ بندہ گناہ چھوڑ دے تو ا س کے لئے آخرت میں  دو جنتیں  ہیں  ۔

            اس معنی کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے:

’’ اَفَمَنْ هُوَ قَآىٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ‘‘(رعد:۳۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا وہ خدا جو ہر شخص پر اس کے اعمالکی نگرانی رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرنے والے کودو جنتیں  ملنے کی وجوہات:

            دو جنتوں  سے مراد جنت ِعَدن اور جنت ِنعیم ہے اوردو جنتیں  ملنے کی وجوہات مفسرین نے مختلف بیان فرمائی ہیں ۔

(1)… ایک جنت اللہ تعالیٰ سے ڈر نے کا صلہ ہے اور ایک نفسانی خواہشات ترک کرنے کا صلہ ہے ۔

(2)…ایک جنت اس کے درست عقیدہ رکھنے کا صلہ ہے اور ایک جنت اس کے نیک اعمال کا صلہ ہے ۔

(3)…ایک جنت اس کے فرمانبرداری کرنے کا صلہ ہے اور ایک جنت گناہ چھوڑ دینے کا صلہ ہے۔

(4)…ایک جنت ثواب کے طور پر ملے گی اور ایک جنت اللہ تعالیٰ کے فضل کے طور پر ملے گی ۔

 



Total Pages: 250

Go To