Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے دو سمندروں  کو ملا دیا (ان میں ) یہ (ایک) میٹھا نہایت شیریں  ہے اور یہ (ایک) کھاری نہایت تلخ ہے اور ان کے بیچ میں  اس نے ایک پردہ  اور روکی ہوئی آڑ بنادی۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ ﳓ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآىٕغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌؕ-وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَاۚ-وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ‘‘(فاطر:۱۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دونوں  سمندر برابر نہیں  (ان میں  سے ایک) یہ میٹھا خوب میٹھا ہے اس کا پانی خوشگوارہے اور یہ (دوسرا) نمکین بہت کڑوا ہے اور (ان دونوں  سمندروں  میں  سے) ہر ایک سے تم (مچھلی کا) تازہ گوشت کھاتے ہو اور وہ زیور (قیمتی موتی) نکالتے ہو جسے تم پہنتے ہو اور تو کشتیوں  کو اس میں  پانی کو چیرتے ہوئے دیکھے گا تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن و انسان کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے میٹھے اور کھاری دو سمندر بہا کر اور ان میں  تمہارے پہننے کا زیور رکھ کر تم پر جوا نعام کیا ،تم ان نعمتوں  میں  سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۱۱ / ۵۸۸)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان سمندروں  میں  مَنافع پیدا فرما کر تم پر جو انعام کیا تم ان نعمتوں  میں  سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۱۱ / ۵۹۰)

وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٴٰـتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِۚ(۲۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۠(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اسی کی ہیں  وہ چلنے والیاں  کہ دریا میں  اٹھی ہوئی ہیں  جیسے پہاڑ۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دریا میں  پہاڑوں  جیسی اٹھی ہوئی کشتیاں  اسی کی ہیں ۔توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{وَ لَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٴٰـتُ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ: اور دریا میں  پہاڑوں  جیسی اٹھی ہوئی کشتیاں  اسی کی ہیں ۔} یعنی جن چیزوں  سے وہ کشتیاں  بنائی گئیں  وہ بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں  اور ان کو ترکیب دینے اور کشتی بنانے اور کاریگری کرنے کی عقل بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کی اور دریاؤں میں  ان کشتیوں  کا چلنا اور تیرنا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے ۔( ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۵ / ۶۶۳)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ !اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدے کے لئے سمندر میں  (پہاڑوں  کی مانند) بڑی بڑی کشتیاں  جاری فرما کر تم پر جو انعام فرمایا ،تم ان نعمتوں  میں  سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۱۱ / ۵۹۱)

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ(۲۷) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: زمین پر جتنے ہیں  سب کو فنا ہے۔ اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے۔ اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ: زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے۔} یعنی زمین پر جتنے جاندار ہیں  سب ہلاک ہونے والے ہیں  کیونکہ دنیا میں  انسان (اور دیگر جانداروں ) کا وجود عارضی ہے لہٰذا وہ باقی نہیں  رہے گا اور جو چیز باقی نہ رہے وہ فانی ہوتی ہے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۴ / ۲۱۰)

ہر جاندار کو ایک دن دنیا سے رخصت ضرور ہونا ہے:

            تفسیر روح البیان میں  ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو فرشتوں  نے کہا کہ انسان ہلاک ہو گئے اور جب یہ آیت ’’ كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ‘‘ نازل ہوئی تو فرشتوں  کو اپنی موت کا بھی یقین ہو گیا۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ۹ / ۲۹۷-۲۹۸)

{وَ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ: اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، زمین پر موجود تمام مخلوق فنا ہو جائے گی اور صرف تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی ذات باقی رہے گی جو عظمت و کِبریائی والی ہے اور وہ اپنی عظمت و جلالت کے باوجود اپنے اَنبیاء، اولیاء اور اہلِ ایمان پر لطف وکرم فرمائے گااور مخلوق کے فنا ہونے کے بعد انہیں  دوبارہ زندہ کرے گا اور انہیں  اَبدی زندگی عطا فرمائے گا۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۴ / ۲۱۱ ،  ملتقطاً)

سورہِ رحمٰن کی آیت نمبر27کے آخری الفاظ ’’ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ‘‘ کی برکت:

            اس آیت کے آخری الفاظ کو اپنی دعا میں  شامل کرنے کی برکت سے دعا قبول ہو جاتی ہے،چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس دعا ’’یَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِکْرَام‘‘ کو لازم پکڑ لو اور اس کی کثرت کیا کرو۔( ترمذی ،  کتاب الدعوات ،  ۹۱-باب ،  ۵ / ۳۱۱ ،  الحدیث: ۳۵۳۵)

            اورحضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ’’یَاذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَام‘‘ کہہ رہا تھا،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشاد فرمایا: ’’بے شک تیری دعا قبول کر لی جائے گی تودعا مانگ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الدعاء ، ما ذکر فیمن سأل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان یعلّمہ ما یدعو بہ فعلّمہ ، ۷ / ۵۶ ، الحدیث:۷)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی جو نعمتیں  سب کے فنا ہونے پر مُرَتَّب ہیں  جیسے دوبارہ زندہ ہونا، دائمی زندگی ملنا اور ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتیں  عطا ہونا وغیرہ،تم دونوں  ان میں  سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( بیضاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۵ / ۲۷۶)

 



Total Pages: 250

Go To