Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ‘‘(ال عمران:۱۴ ، ۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگوں  کے لئے ان کی خواہشات کی  محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں  اور بیٹوں  اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں  اور نشان لگائے گئے گھوڑوں  اورمویشیوں  اور کھیتیوں  کو (ان کے لئے آراستہ کردیا  گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔ (اے حبیب!) تم فرماؤ ،کیا میں  تمہیں  ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں ؟ (سنو، وہ یہ ہے کہ) پرہیزگاروں  کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں  ان میں  وہ ہمیشہ رہیں  گے اور (ان کیلئے) پاکیزہ بیویاں  اور اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

            اور اُخروی ثواب اور انعامات حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ‘‘(صافات:۶۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں  کو عمل کرنا چاہیے۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  اُخروی نعمتوں  کی اہمیت کو سمجھنے اور ان نعمتوں  کو حاصل کرنے کے لئے بھرپور کوششیں  کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو بڑے بڑے گناہوں  اور بے حیائیوں  سے بچتے ہیں  اور جب غصہ آئے معاف کردیتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور(ان کیلئے) جو بڑے بڑے گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے اجتناب کرتے ہیں  اور جب انہیں  غصہ آئے تومعاف کردیتے ہیں ۔

{وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ: اور جو بڑے بڑے گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے اجتناب کرتے ہیں ۔} یعنی اجر وثواب ان کیلئے بھی ہے جو کبیرہ گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے اِجتناب کرتے ہیں ۔ کبیرہ گناہ وہ ہے جس کے کرنے پر دنیا میں  حد جاری ہو جیسے قتل، زنا اور چوری وغیرہ یا اس پر آخرت میں  عذاب کی وعید ہو جیسے غیبت،چغل خوری،خود پسندی اور ریا کاری وغیرہ ۔بے حیائی کے کاموں  سے وہ تمام کام اور باتیں مراد ہیں  جو معیوب اور قبیح ہوں ۔( روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۸ / ۳۲۸ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۴ / ۹۸ ،  ملخصاً)

کبیرہ گناہوں  سے بچنے والے کا ثواب:

            اس آیت میں  کبیرہ گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے بچنے والوں  کے لئے قیامت کے دن اجر و ثواب کی بشارت سنائی گئی ہے۔کبیرہ گناہوں  سے بچنے والوں کے بارے میں  ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا‘‘(النساء:۳۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر کبیرہ گناہوں  سے بچتے رہو جن سے تمہیں  منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں  گے اور تمہیں  عزت کی جگہ داخل کریں  گے۔

             اورحضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا،نماز قائم کی،زکوٰۃ ادا کی، رمضان کے روزے رکھے اور کبیرہ گناہوں  سے بچتا رہا تو ا س کے لئے جنت ہے۔ایک شخص نے عرض کی:( یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)، کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا،کسی مسلمان کو (ناحق) قتل کرنا اور کفار سے جنگ کے دن میدان سے فرار ہونا۔( مسند امام احمد ،  مسند الانصار ،  حدیث ابی ایوب الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ ،  ۹ / ۱۳۲ ،  الحدیث: ۲۳۵۶۵)

            اور بے حیائی کے کاموں سے بچنے والوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ-اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ‘‘(النجم:۳۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ جو بڑے گناہوں  اور بے حیائیوں  سے بچتے ہیں  مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے۔

            اور حضرت سہل بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو مجھے ا س چیز کی ضمانت دے جو دونوں  ٹانگوں  کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ) اور جو دونوں  جبڑوں  کے درمیان ہے (یعنی زبان)تو میں  اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔( بخاری ،  کتاب المحاربین من اہل الکفر والرّدۃ ،  باب فضل من ترک الفواحش ،  ۴ / ۳۳۷ ،  الحدیث: ۶۸۰۷)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  کبیرہ گناہوں  اور بے حیائی کے کاموں  سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

          نوٹ:کبیرہ گناہوں  سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے سورۂ نساء ،آیت نمبر31کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں  اور تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’اَلزَّوَاجِر لِاِقْتِرَافِ الْکَبَائِر‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔([1])

{وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَ: اور جب انہیں  غصہ آئے تومعاف کردیتے ہیں ۔} اس آیت میں  کسی پر غصہ آنے کی صورت میں  معاف کر دینے والے کو بھی اجر و ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔ علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو اس وقت در گُزر کرنا اور بُردباری کا مظاہرہ کرنا اَخلاقی اچھائیوں  میں  سے ہے لیکن اس میں  شرط یہ ہے کہ در گزر کرنے سے کسی واجب میں  خَلَل واقع نہ ہو اور اگر کسی واجب میں  خَلَل واقع ہو تو غضب کا اظہار کرنا ضروری ہے جیسے کوئی اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ کسی کام کو کرے تو اس وقت در گزر سے کام نہیں  لیا جائے گا بلکہ اس پر غصہ کرنا واجب ہے۔(مراد یہ کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پردل میں  ناراضگی کا آنا ضروری ہے ،یہ ضروری نہیں  کہ گناہ کے مُرتکِب پر



[1] ۔۔۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ بنام ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال‘‘ مکتبۃ المدینہ سے شائع ہو چکا ہے، وہاں سے ہدیۃً حاصل کر کے اس کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 250

Go To