Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

نعمتیں  ملیں  تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔( روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۸ / ۳۲۴ ،  تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۹ / ۶۰۲ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۴ / ۹۸ ،  مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ص۱۰۹۰ ،  ملتقطاً)

شکرکے 15 فضائل:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے شکر کے 15 فضائل ملاحظہ ہوں :

(1)…شکر ادا کرتے ہوئے کھانے والے کا اجر صبر کرتے ہوئے روزہ رکھنے والے کی طرح ہے ۔( مستدرک ،  کتاب الاطعمۃ ،  الطاعم الشاکر مثل الصائم الصابر ،  ۵ / ۱۸۸ ،  الحدیث: ۷۲۷۷)

(2)…اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں  کو اس کا صلہ دے گا۔( اٰل عمران:۱۴۴)

(3)…شکر کرنے سے بندہ عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔( النساء:۱۴۷)

(4)…شکر کرنے سے نعمتوں  میں  اضافہ ہوتا ہے۔( سورۃ ابراہیم:۷)

(5)…اللہ تعالیٰ اپنی حمد و شکر کئے جانے کو پسند فرماتا ہے۔( معجم الکبیر ،  الاسود بن شریع المجاشعی ،  ۱ / ۲۸۳ ،  الحدیث: ۸۲۵)

(6)…شکر کرنے والا دل بندے کے ایمان پر مددگار ہے۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ التوبۃ ،  ۵ / ۶۵ ،  الحدیث: ۳۱۰۵)

(7)…شکر گزار دل دین و دنیا کے اُمور پر مددگار ہے۔( شعب الایمان ،  الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۴ / ۱۰۴ ،  الحدیث: ۴۴۳۰)

(8)…عطا پر شکر کرنا اللہ تعالیٰ کی رحمت میں  داخل ہونے کا سبب ہے۔( شعب الایمان ،  الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۴ / ۱۰۵ ،  الحدیث: ۴۴۳۲)

(9)…وہ خیر جس میں  کوئی شر نہیں  ،عافِیَّت کے ساتھ شکر کرنا ہے۔( شعب الایمان ،  الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۴ / ۱۰۶ ،  روایت نمبر: ۴۴۳۶)

(10)…آسانی میں  شکر کرنے والا زاہد ہے۔( شعب الایمان ،  الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۴ / ۱۰۶ ،  روایت نمبر: ۴۴۳۸)

(11)…شکر ایمان کا نصف حصہ ہے۔( شعب الایمان ،  الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۴ / ۱۰۹ ،  روایت نمبر: ۴۴۴۸)

(12)…اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا دنیا کی تمام نعمتوں  سے بہتر ہے۔( ابن عساکر ،  محمد بن عبد اللّٰہ بن محمد بن عبید اللّٰہ بن ہمام۔۔۔ الخ ،  ۵۴ / ۱۶)

(13)…قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے افضل ترین بندے وہ ہوں  گے جو بہت شکر گزار ہوں  گے۔( معجم الکبیر ،  عبد الرحمٰن بن مورق العجلی عن مطرف ،  ۱۸ / ۱۲۴ ،  الحدیث: ۲۵۴)

(14)…شکر ادا کرنے سے بندہ زوالِ نعمت سے بچ جاتا ہے۔( مسند الفردوس ،  باب الحاء ،  ۲ / ۱۵۵ ،  الحدیث: ۲۷۸۳)

(15)…جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمر دراز کر دیتا اور انہیں  شکر کا اِلہام فرماتا ہے۔( مسند الفردوس ،  باب الالف ،  ۱ / ۲۴۶ ،  الحدیث: ۹۵۳)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  ہر حال میں  اپنا شکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

{وَ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا: اور ہماری آیتوں  میں  جھگڑنے والے جان جائیں ۔} یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں  کو سمندر میں  غرق کردے اور قرآنِ پاک کو جھٹلانے والے جان جائیں  کہ ان کیلئے اللہ تعالیٰ کی گرفت اور ا س کے عذاب سے بھا گنے کی کوئی جگہ نہیں ۔( جلالین ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ص۴۰۴ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۴ / ۹۸ ،  ملتقطاً)

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تمہیں  جو کچھ ملا ہے وہ جیتی دنیا میں  برتنے کا ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو(اے لوگو!)تمہیں  جو کچھ دیا گیاہے وہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے اور وہ جو اللہ کے پاس ہے وہ ایمان والوں  اور اپنے رب پر بھروسہ کرنے والوں  کیلئے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والاہے۔

{فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ: تو تمہیں  جو کچھ دیا گیاہے۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں  صدقہ کردیا ، اس پر عرب کے لوگوں نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو ملامت کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے حق میں  یہ آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! تمہیں  جو کچھ دُنْیَوی مال و اَسباب دیا گیاہے وہ آخرت کا زادِ راہ نہیں  بلکہ صرف چند روز کی دُنْیَوی زندگی کا سازو سامان ہے اور یہ ہمیشہ باقی نہیں  رہے گا، جبکہ جو اجرو ثواب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ ایمان والوں  اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ کرنے والوں  کیلئے بہتر اور زیادہ باقی رہنے والاہے۔ (مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۱۰۹۰ ،  جلالین ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۴۰۴ ،  ملتقطاً)

دنیا کی نعمتوں  کے مقابلے میں  اُخروی اجر و ثواب ہی بہتر ہے: