Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            اور نیک اعمال کرنے والے مومنین کے بارے میں  ارشاد فرمایا:

’’ مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَاۚ-وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىٕذٍ اٰمِنُوْنَ‘‘(نمل:۸۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن و چین میں  ہوں  گے۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَىٕذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا‘‘(فرقان:۲۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جنت والے اس دن ٹھکانے کے اعتبار سے بہتر اور آرام کے اعتبار سے سب سے اچھے ہوں  گے۔

             اللہتعالیٰ ہمیں  بھی ان خوش نصیب حضرات کے گروہ میں  شامل فرمائے جنہیں  قیامت کے دن امن اور چین نصیب ہو گا،اٰمین۔

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ(۹)فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو ہمارے بندے کو جھوٹا بتایا اور بولے وہ مجنون ہے اور اُسے جھڑکا۔تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں  مغلوب ہوں  تو میرا بدلہ لے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انہوں  نے ہمارے بندے کو جھوٹا کہا اور کہنے لگے: یہ پاگل ہے اور نوح کوجھڑکا گیا ۔تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں  مغلوب ہوں  تو تو (میرا) بدلہ لے۔

{ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ : ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا ۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاءِ کرام  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے ہیں تاکہ ان کے حالات سن کر اس کے حبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖوَسَلَّمَ کو تسلی حاصل ہو۔ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفارِ قریش سے پہلے حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجھٹلایا اورانہوں  نے ہمارے بندے کو جھوٹا کہا اور انہیں  دھمکی دی کہ اگر تم اپنے وعظ و نصیحت اوردین کی دعوت دینے سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں  قتل کردیں  گے اور سَنگسار کر ڈالیں  گے اور ان کی شان میں  کہنے لگے: یہ پاگل ہے اور انہوں  نے حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دین کی دعوت دینے پرجھڑکا تو (بہت عرصہ ان کی اَذِیَّتوں  پرصبر کرنے کے بعد)حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی کہ اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ ، میں  مغلوب ہوں  تو تو ان سے میرا بدلہ لے۔( خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۰ ،  ۴ / ۲۰۳ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۰ ،  ص۱۱۸۶ ،  ملتقطاً)

فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ٘ۖ(۱۱) وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًافَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے آسمان کے دروازے کھول دئیے زور کے بہتے پانی سے۔اور زمین چشمے کرکے بہا دی تو دونوں  پانی مل گئے اس مقدار پر جو مقدر تھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے زور کے بہتے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دئیے ۔اور زمین کو چشمے کرکے بہا دیا تو پانی اس مقدار پرمل گیا جو مقدر تھی۔

{ فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍ: تو ہم نے زور کے بہتے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دئیے۔}  جب حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا مانگی تو اللہتعالیٰ نے ان کی قوم پر عذاب بھیج دیا ،اسی عذاب کا ذکر کرتے ہوئے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ ہم نے زور کے بہتے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دئیے اور وہ پانی چالیس دن تک نہ تھما اور زمین سے اس قدر پانی نکالاکہ زمین چشموں کی طرح ہوگئی اور آسمان سے برسنے والے اور زمین سے ابلنے والے دونوں  پانی اس مقدار پر مل گئے جو ان کیلئے مقدّر تھی اور لوحِ محفوظ میں  لکھی ہوئی تھی کہ طوفان اس حد تک پہنچے گا۔( خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲ ،  ۴ / ۲۰۳ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲ ،  ص۱۱۸۶ ،  ملتقطاً)

وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ(۱۳) تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَاۚ-جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے نوح کو سوار کیا تختوں  اور کیلوں  والی پر ۔کہ ہماری نگاہ کے روبرو بہتی اس کے صلہ میں  جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے نوح کو تختوں  اور کیلوں  والی (کشتی)پر سوار کیا ۔جوہماری نگاہوں  کے سامنے بہہ رہی تھی (سب کچھ)اس ( نوح )کو جزا دینے کیلئے(ہوا) جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا۔

{ وَ حَمَلْنٰهُ: اور ہم نے نوح کو سوار کیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  اللہتعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم پر عذاب آیا تو ہم نے حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تختوں  اور کیلوں  والی ایسی کشتی پر سوار کیاجوہماری حفاظت میں بہہ رہی تھی اور حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نجات دینا اور ان کی کافر قوم کو غرق کر دینا اس پیارے نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جزا دینے کیلئے ہوا جس کے ساتھ کفر کیا گیا تھا۔( خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ،  ۴ / ۲۰۳)

وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اسے نشانی چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس واقعہ کو نشانی بناچھوڑا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟

{ وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰیَةً: اور ہم نے اسے نشانی بناچھوڑا ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ہم نے اس واقعہ کو کہ کفار غرق کرکے ہلاک کردیئے گئے اور حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نجات دی گئی،آنے والی امتوں  کے لئے نشانی بنا  چھوڑا تو ہے کوئی دھیان کرنے والا جو اس واقعہ سے نصیحت اور عبرت حاصل کرے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہم نے ا س کشتی کو آنے والی امتوں  کیلئے نشانی بناچھوڑا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔

 



Total Pages: 250

Go To