Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

تناسُخ یعنی روح کے ایک بدن سے دوسرے بدن میں  جانے کے قائل ہیں  وہ اس آیت سے اِستدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں  کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں  کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ ان کے گناہوں  کا نتیجہ ہو اور ابھی تک چونکہ اُن سے کوئی گناہ ہوا نہیں  تو لازم آیا کہ اس زندگی سے پہلے کوئی اور زندگی ہو گی جس میں  گناہ ہوئے ہوں  گے۔ ان کا اس آیت سے اپنے باطل مذہب پر اِستدلال باطل ہے کیونکہ بچے اس کلام کے مُخاطَب ہی نہیں  جیسا کہ عام طور پر تمام خطابات عقلمند اور بالغ حضرات کو ہی ہوتے ہیں ۔( خزائن العرفان، الشوریٰٰ، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۸۹۵، ملخصاً)

            نیز بالفرض اگر ان لوگوں  کی بات کو ایک لمحے کے لئے تسلیم کرلیں  تو ان سے سوال ہے کہ بچوں  کو تکالیف تو یقینی طور پر آتی ہی ہیں  خواہ وہ ان لوگوں  کے عقیدے کے مطابق ساتواں  جنم ہو یا پہلا ، تو سوال یہ ہے کہ بچوں  کے پہلے جنم میں  جو تکلیفیں  آتی ہیں  وہ کون سے گناہوں  کی وجہ سے ہوتی ہیں ؟کیونکہ اس سے پہلے تو کوئی جنم ان کے عقیدے کے مطابق بھی نہیں  گزرا ہوتا۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِۚۖ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم زمین میں  قابو سے نہیں  نکل سکتے اور نہ اللہ کے مقابل تمہارا کوئی دوست نہ مددگار۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم زمین میں  (اللہ کو) بے بس نہیں  کرسکتے اور نہ اللہ کے مقابلے میں  تمہارا کوئی دوست ہے اورنہ مددگار۔

{وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ: اور تم زمین میں  (اللہ کو) بے بس نہیں  کرسکتے۔} یعنی جو مصیبتیں  اللہ تعالیٰ نے تمہارے نصیب میں  لکھ دی ہیں  تم ان سے کہیں  بھاگ نہیں  سکتے اور نہ ہی ان سے بچ سکتے ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  تمہارا کوئی دوست ہے اورنہ مددگار کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف تمہیں  مصیبت اور تکلیف سے بچاسکے۔(مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۱۰۹۰)

            یاد رہے کہ اس آیت میں  دعائیں  داخل نہیں  کیونکہ دعا اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کبھی کچھ نہیں  کرتی بلکہ اس کی مرضی کے موافق کرتی ہے اوردعا کے نتیجے میں  خود خدا وند ِ قدوس ہی رحمت فرماتا ہے ،یونہی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں  کا معاملہ ہے کہ ان کی دعاؤں  سے اللہ تعالیٰ تقدیر بدل دیتا اور بلائیں  ٹال دیتا ہے۔حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تقدیر کو دعا ہی بدل سکتی ہے اور نیکی ہی سے عمر بڑھتی ہے۔( ترمذی ،  کتاب القدر ،  باب ما جاء لا یردّ القدر الاّ الدعاء ،  ۴ / ۵۴ ،  الحدیث: ۲۱۴۶)

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اُس کی نشانیوں  سے ہیں  دریا میں  چلنے والیاں  جیسے پہاڑیاں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور سمندر میں  چلنے والی پہاڑوں  جیسی کشتیاں  اس کی نشانیوں میں  سے ہیں ۔

{وَ مِنْ اٰیٰتِهِ: اور اس کی نشانیوں  سے ہیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ سمندر میں  چلنے والی پہاڑوں  جیسی بڑی بڑی کشتیاں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے دلائل اور اس کی قدرت، عظمت اور حکمت کی نشانیوں میں  سے ہیں  کہ بادبانی کشتیاں  ہوا کے ذریعے چلتی اور رکتی ہیں  اور ان ہواؤں  کو چلانے اور روکنے پر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی قدرت نہیں  رکھتااور یہ قدرت والے معبود کے وجود کی دلیل ہے،اور اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ کشتیاں  انتہائی وزنی ہوتی ہیں  لیکن اپنے بھرپور وزن کے باوجود ڈوبتی نہیں  بلکہ پانی کی سطح پر تیرتی جاتی ہیں ۔ان کشتیوں  کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں  پر عظیم انعامات کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے،جیسے ان کشتیوں  کے ذریعے زمین کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک سامان کی نقل و حمل سے تجارت کے عظیم فوائد حاصل ہوتے ہیں  اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔( روح البیان ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۸ / ۳۲۴ ،  تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۹ / ۶۰۲ ،  ملتقطاً)

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ(۳۳) اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘(۳۴) وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَاؕ-مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ چاہے تو ہوا تھما دے کہ اس کی پیٹھ پر ٹھہری رہ جائیں  بے شک اس میں  ضرور نشانیاں  ہیں  ہر بڑے صابر شاکر کو۔ یا اُنھیں  تباہ کردے لوگوں  کے گناہوں  کے سبب اور بہت کچھ معاف فرمادے۔ اور جان جائیں  وہ جو ہماری آیتوں  میں  جھگڑتے ہیں  کہ اُنھیں  کہیں  بھا گنے کی جگہ نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگروہ چاہے تو ہوا کو روک دے تو کشتیاں سمندرکی پشت پرٹھہری رہ جائیں ،بیشک اس میں  ضرور ہر بڑے صبرکرنے والے، شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں  ہیں ۔ یا (اگر اللہ چاہے تو)ان کشتیوں  کو لوگوں  کے گناہوں  کے سبب تباہ کردے اور بہت سے گناہوں  سے درگزرفرمادے۔ اور ہماری آیتوں  میں  جھگڑنے والے جان جائیں  کہ ان کیلئے بھا گنے کی کوئی جگہ نہیں ۔

{اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ: اگروہ چاہے تو ہوا کو روک دے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگراللہ تعالیٰ چاہے تو اس ہوا کو روک دے جوکشتیوں  کو چلاتی ہے تو تمام کشتیاں سمندرکی پشت پرٹھہری رہ جائیں  اور چل ہی نہ پائیں ،یا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو مخالف سمت سے ہوا بھیج کر بعض کشتیوں  کو اس میں  سوار لوگوں  کے گناہوں  کے سبب غرق کردے اور بہت سے لوگوں  کے گناہوں  سے درگزرفرمادے کہ اُن پر عذاب نہ کرے اور انہیں  ڈوبنے سے محفوظ رکھے۔بیشک اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق کشتیوں  کے چلنے اور رکنے میں  ضرورہر بڑے صبرکرنے والے، شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں  ہیں ۔

            یہاں صابر شاکر سے مخلص مومن مراد ہے جو سختی و تکلیف میں  صبر کرتا ہے اور راحت و عیش میں  شکراور مقصد یہ ہے کہ مومن بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے دلائل سے کسی طرح غافل نہ ہو کیونکہ مومن بندہ یا تو سختی اور تکلیف میں  مبتلاء ہو گا یا راحت و عیش میں  ہو گا،لہٰذااسے چاہئے کہ اگر اس پر سختی اور تکلیف آئے تو وہ صبر کرے اور



Total Pages: 250

Go To