Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{ وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤى: اور ابراہیم کے جس نے (احکام کو) پوری طرح ادا کیا۔} اس آیت میں  حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شان کا بیان ہے کہ انہیں  جو کچھ حکم دیا گیا تھا وہ انہوں  نے پورے طورپر ادا کیا، اس میں  بیٹے کو ذبح کرنا بھی داخل ہے اور اپنا آگ میں  ڈالا جانا بھی شامل ہے اور اس کے علاوہ اور اَحکامات بھی داخل ہیں  ۔( ابو سعود ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۵ / ۶۴۹-۶۵۰ ،  ملخصاً)

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں  اٹھاتی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (وہ بات یہ ہے) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں  اٹھائے گی۔

{ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى: کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں  اٹھائے گی۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے وہ مضمون بیان فرمایا ہے جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیفوں  میں  ذکر فرمایا گیا تھا،چنانچہ ارشاد فرمایا :وہ بات یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں  اٹھائے گی اور کوئی دوسرے کے گناہ پر پکڑا نہیں  جائے گا۔اس میں  اس شخص کے قول کوباطل کر دیاگیا ہے جو ولید بن مغیرہ کے عذاب کا ذمہ دار بنا تھا اور اس کے گناہ اپنے ذمے لینے کو کہتا تھا۔

             حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے سے پہلے لوگ آدمی کو دوسرے کے گناہ پر بھی پکڑ لیتے تھے، اگر کسی نے کسی کو قتل کیا ہوتا تو اس قاتل کی بجائے اس کے بیٹے یا بھائی یا بیوی یا غلام کو قتل کردیتے تھے۔جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا زمانہ آیا تو آپ نے اس کی ممانعت فرمائی اوران تک اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچایا کہ کوئی کسی کے گناہوں  کے بوجھ کی وجہ سے پکڑ انہیں  جائے گا۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۴ / ۱۹۹)

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔

{ وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى: اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔} اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی ہی نیکیوں  سے فائدہ پاتا ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ مضمون بھی حضرت ابراہیم اورحضرت موسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیفوں  کا ہے ، اور کہا گیا ہے کہ یہ اُن ہی امتوں کے لئے خاص تھا جبکہ اس امت کے لئے ان کا اپنا عمل بھی ہے اور وہ عمل بھی ہے جو ان (کو ثواب پہنچانے) کے لئے کیا گیا ہو۔اس آیت کے بارے میں  مفسرین کے اور بھی اَقوال ہیں :

(1)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا کہ یہ حکم ہماری شریعت میں اس آیت ’’ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ‘‘ سے منسوخ ہوگیا۔

(2)… یہاں  انسان سے کافر مراد ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں  کہ کافر کو کوئی بھلائی نہ ملے گی البتہ اس نے دنیا میں  جو بھلائی کی ہو گی تو دُنیا ہی میں  رزق کی وسعت یا تندرستی وغیرہ کے ذریعے اس کا بدلہ اسے دے دیا جائے گاتاکہ آخرت میں  اس کا کچھ حصہ باقی نہ رہے۔

(3)…مفسرین نے اس آیت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا ہے کہ آدمی عدل کے تقاضے کے مطابق وہی پائے گا جو اس نے کیا ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جو چاہے عطا فرمائے۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۴ / ۱۹۹ ،  مدارک ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ص۱۱۸۲ ،  ملتقطاً)

 میت کو نیک اعمال کا ثواب پہنچتا ہے:

            اس مقام پر ایک بات ذہن نشین رکھیں  کہ میت کو نیک اعمال کا جو ثواب پہنچایا جاتا ہے وہ اسے پہنچتا ہے اور یہ بات کثیر اَحادیث سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں  :ایک شخص نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  عرض کی :میری مالدہ ماجدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں  ،میرا خیال ہے کہ اگر وہ کوئی بات کرتیں  توصدقہ دینے کا کہتیں  ،اگر میں  ان کی طرف سے خیرات کروں  تو کیا انہیں  ثواب ملے گا۔ ارشاد فرمایا:ہاں ۔( بخاری ،  کتاب الجنائز ،  باب موت الفجأۃ البغتۃ ، ۱ / ۴۶۸ ،  الحدیث: ۱۳۸۸)

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور وہ اس وقت وہاں  موجود نہیں  تھے تو انہوں  نے بارگاہِ رسالت میں  عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میری والدہ کا انتقال ہو گیا تھا اور میں  ان کے پاس موجود نہیں  تھا ،اگر میں  ان کی طرف سے کوئی خیرات کروں  تو کیا انہیں  ثواب پہنچے گا ۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ ہاں ۔حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی :میں  آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں  کہ میرا مخراف نامی باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے۔( بخاری ،  کتاب الوصایا ،  باب اذا قال: ارضی او بستانی صدقۃ عن امّی فہو جائز۔۔۔ الخ ،  ۲ / ۲۳۹ ،  الحدیث: ۲۷۵۶)

            حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’میں  نے (ایک مرتبہ) بارگاہِ رسالت میں  عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، سعد کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ،تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ارشاد فرمایا ’’پانی۔ چنانچہ انہوں نے کنوا ں کھدوایااور کہا’’ہٰذِہٖ لِاُمِّ سَعْدٍ‘‘یہ سعد کی والدہ (کے ایصالِ ثواب ) کے لئے ہے۔( ابو داؤد ،  کتاب الزکاۃ ،  باب فی فضل سقی الماء ،  ۲ / ۱۸۰ ،  الحدیث: ۱۶۸۱)

             نیزایصالِ ثواب کے درست ہونے پر صحیح العقیدہ علماء ِامت کا اِجماع ہے اور فقہ کی کتابوں  میں  بھی بکثرت مقامات پر اس کا جواز مذکور ہے، اسی لئے مسلمانوں  میں  جویہ معمول ہے کہ وہ اپنے مُردوں  کو فاتحہ ،سوم، چہلم ،برسی اور عرس وغیرہ میں  عبادات اور صدقات سے ثواب پہنچاتے رہتے ہیں ، ان کا یہ عمل اَحادیث کے بالکل مطابق ہے۔ نیز یہ بھی یا د رکھیں  کہ ایصالِ ثواب کے لئے شریعت کی طرف سے کوئی دن خاص نہیں  بلکہ جب چاہیں  جس وقت چاہیں  ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں  اور اگر عزیزرشتہ داروں  یا دوست اَحباب کی سہولت کے لئے دن مُعَیّن کر کے ایصالِ ثواب کیا جائے تو اس میں  بھی کوئی حرج نہیں  ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To