Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ماتے ہیں : جب کوئی بڑا بادشاہ تحفہ اور تحائف پیش کرنے کی اجازت دے اور اس کی خدمت میں  امیر ترین لوگ ،بادشاہ، بڑے بڑے مرتبے اور منصب والے،رئیس اور عقلمند لوگ طرح طرح کے قیمتی جواہرات، بہترین ذخیرے اور بے حساب مال و دولت کے تحائف پیش کرنے لگیں ،پھر اگر کوئی سبزی بیچنے والا معمولی قسم کی سبزی یا کوئی دیہاتی کم قیمت انگور کا خوشہ لے کر ان بڑے بڑے رئیسوں  اور دولت مندوں  کی جماعت میں  گھس جائے جو بہترین ،عمدہ اور قیمتی تحائف لے کر کھڑے ہیں  اور بادشاہ کی خدمت میں  ہدیے اور نذرانے کے طور پر وہ سبزی یا انگور کا خوشہ پیش کرے،پھر وہ بادشاہ اس کا نذرانہ قبول کر لے اور اس کے لئے بہترین اور نفیس شاہانہ لباس دینے اور اس کی عزت و احترام کرنے کا حکم دے تو کیا یہ اُس بادشاہ کا اِس کے ساتھ انتہائی فضل و کرم نہ ہو گا اور پھر اگر یہ سبزی بیچنے والا یا دیہاتی بادشاہ پر احسان جتانے لگے اور اپنے اس ہدئیے پر اِترائے اور اسے بہت بڑا سمجھے اور بادشاہ کے احسان و انعام کو فراموش کر دے تو کیا ایسے شخص کو دیوانہ ، بدحواس،بے وقوف،بے ادب،گستاخ اورانتہائی جاہل و ناسمجھ نہیں  کہا جائے گا، لہٰذا (اے مسلمان!) تم پر لازم ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  رات کے وقت نماز پڑھو اور دو رکعت نماز کی ادائیگی سے فارغ ہو کر غور و فکر تو کرو کہ روئے زمین کے مختلف خِطّوں  اور گوشوں  میں  اس رات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  نجانے کتنے خُدّام کھڑے ہوں  گے،اسی طرح سمندروں  میں ، جنگلوں  میں  ،صحراؤں  میں ،پہاڑوں  میں اور شہروں  میں  کتنے اللہ تعالیٰ کے بندے بارگاہِ الہٰی میں  دست بستہ کھڑے ہوں  گے اور صدیقین، خائفین، مشتاقین،مجتہدین اور عاجزی کرنے والوں  کی کتنی جماعتیں  اللہ تعالیٰ کے لئے کھڑی ہوں  گی اور اس وقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں  کتنی ستھری عبادت اور کتنی خالص بندگی ڈرنے والی جانوں ،پاکیزہ زبانوں ،رونے والی آنکھوں ،خوفزدہ دلوں ،کدورتوں  سے پاک سینوں  اور پرہیز گار اعضاء کی طرف سے پیش ہو رہی ہوں  گی اور تمہاری نماز،اگرچہ تم نے ا سے اچھی طرح ادا کرنے، اس کے اَحکام اوراخلاص کی رعایت کرنے میں  بھرپور کوشش کی ہو گی لیکن پھر بھی اس بزرگ و برتر بادشاہ کے دربار میں  پیش ہونے کے کہاں  لائق ہو گی اور ان عبادتوں  کے مقابلے میں  اس کی کوئی حقیقت نہیں  جو وہاں  پیش ہو رہی ہیں  اور کیوں  نہ ہو کہ تم نے ان عبادتوں  کو غافل دل سے ادا کیا اور اس میں  طرح طرح کے عیوب و نقائص بھی ہیں  اور بدن بھی گناہوں  کی پلیدی سے نجس و ناپاک ہے اور زبان قسم قسم کے گناہوں  اور بیہودگیوں  سے آلودہ ہے تو ایسی ناقص نماز کہاں  سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  پیش ہونے کے قابل ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ایسا ہدیہ پیش کرنے کی جرأت کون کر سکتا ہے؟( منہاج العابدین ،  العقبۃ السادسۃ ،  القادح الثانی ،  فصل فی من یعجب بعملہ وینسی فضل اللّٰہ علیہ ،  ص۱۸۷-۱۸۸)

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ(۳۳) وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا۔ اور کچھ تھوڑا سا دیا اور روک رکھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم نے اسے دیکھا جو پھر گیا۔ اور اس نے تھوڑا سا مال دیا اور روک رکھا۔

{ اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰى: تو کیا تم نے اسے دیکھا جو پھر گیا۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں  نازل ہوئی ،اس نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ان کے دین میں  پیروی کی تھی،جب بعض مشرکین نے اسے عار دلائی اور کہا کہ تو نے اپنے بزرگوں  کا دین چھوڑ دیا اور تو گمراہ ہوگیا ہے تو اُس نے کہا: میں  نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خوف سے ایسا کیا ہے۔ عار دلانے والے کافر نے اس سے کہا کہ اگر تو شرک کی طرف لوٹ کر آئے اور اتنامال مجھے دے تو تیرا عذاب میں  اپنے ذمے لیتا ہوں ۔ اس پر ولید اسلام سے مُنْحَرِف اور مُرتَد ہو کر پھر شرک میں  مبتلا ہوگیا اور جس شخص کومال دینا ٹھہرا تھا،اسے ولید نے تھوڑا سا مال دیا اور باقی سے منع کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ کیا تم نے اسے دیکھا جو ایمان اور اسلام سے پھر گیااور اس نے عذاب اپنے ذمے لینے والے کو طے شدہ مال میں  سے تھوڑا سا مال دیا اور باقی مال روک لیا۔ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل سہمی کے بارے میں  نازل ہوئی، وہ اکثر کاموں  میں  نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تائید و موافقت کیا کرتا تھا، پھر اس سے پھر گیااور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں  نازل ہوئی کہ اس نے کہا تھا اللہ تعالیٰ کی قسم! محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ہمیں  بہترین اَخلاق کا حکم فرماتے ہیں ۔ اس صورت میں  اس آیت اور بعد والی آیت کے معنی یہ ہیں  کہ کیا تم نے اسے دیکھا جس نے تھوڑا سا اقرار کیا اور لازم حق میں  سے تھوڑا سا ادا کیا اور باقی حق کی ادائیگی سے باز رہا یعنی ایمان نہ لایا۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴ ،  ۴ / ۱۹۸)

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے۔

{ اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ: کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے۔} اس آیت کامعنی یہ ہے کہ کیا اس شخص کے پاس غیب کا علم ہے جس کے ساتھی نے اس کے اُخروی عذاب کو اپنے ذمے لیا ہے اور ا س غیب کے علم کی بنا پر اسے معلوم ہو گیا ہے کہ واقعی اس کا ساتھی اس کے گناہوں  کا بوجھ اٹھا لے گا اور ا س کے اُخروی عذاب کو اپنے ذمے لے لے گا۔ایساہر گز نہیں  ہے۔(جلالین ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ص۴۳۹ ،  تفسیر طبری ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۱۱ / ۵۳۱-۵۳۲ ،  ملتقطاً)

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ(۳۶) وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اُسے اس کی خبر نہ آئی جو صحیفوں  میں  ہے موسیٰ کے۔ اور ابراہیم کے جو احکام پورے بجا لایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاکیا اسے اس کی خبر نہیں  دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں  میں  ہے۔ اور ابراہیم کے جس نے (احکام کو) پوری طرح ادا کیا۔

{ اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰى: یاکیا اسے اس کی خبر نہیں  دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں  میں  ہے۔} اس آیت میں  صحیفوں  سے مراد یا توریت شریف کی تختیاں  ہیں  یا وہ صحیفے مراد ہیں  جو توریت شریف سے پہلے نازل ہوئے اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا پہلے ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ ان کا زمانہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقابلے میں  کفارِ قریش سے زیادہ قریب ہے۔( جلالین مع صاوی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۶ / ۲۰۵۴)

 



Total Pages: 250

Go To