Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(3)… ان بتوں  کا ذکر کیا گیا جن کی مشرکین پوجا کرتے تھے اور ان کے معبود ہونے کواور ان کی شفاعت سے متعلق کفار کے نظریّے کا رد کیا گیا، نیز جوکفار فرشتوں  کے نام عورتوں  جیسے رکھتے تھے ان کا رد اور کفار کے علم کی حد بیان فرمائی گئی۔

(4)…کبیرہ گناہوں  سے بچنے والوں  کی جزاء بیان کی گئی اور ریا کاری کی مذمت فرمائی گئی۔

(5)… اسلام قبول کر کے ا س سے مُنْحَرِف ہونے والے ایک کافر کی مذمت فرمائی گئی اوراس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ مضمون بیان فرمایا جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کتاب اور حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے صحیفوں  میں  ذکر فرمایا گیا تھا کہ کوئی دوسرے کے گناہ پر پکڑا نہیں  جائے گا اور آدمی اپنی ہی نیکیوں  سے فائدہ پاتا ہے۔

(6)…قیامت کے دن اعمال دیکھے جانے اور ان کے مطابق جزاملنے کا ذکر کیا گیا اور یہ بیان فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ ہی زندگی اورموت دیتا ہے اور وہی مرنے کے بعد لوگوں  کو زندہ کرے گا۔

(7)…اس سورت کے آخر میں  قومِ عاد، قومِ ثمود ،حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر آنے والے عذابات کا ذکر کیا گیا تاکہ ان کا انجام سن کر کفارِ مکہ عبرت حاصل کریں  اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلانے سے باز آ جائیں ۔

سورۂ طور کے ساتھ مناسبت:

             سورۂ نجم کی اپنے سے ما قبل سورت ’’طور‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ طور کے آخر میں  ستاروں  کا ذکر ہوا اور سورۂ نجم کی ابتداء میں  بھی ستارے کا ذکر ہوا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ طور میں  کفار کایہ اعتراض ذکر کیا گیا کہ قرآنِ مجید نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی طرف سے بنالیا ہے ، اور سورۂ نجم کی ابتداء میں  کفار کے اس اعتراض کا رد کیاگیا ہے ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم جب یہ معراج سے اُترے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تارے کی قسم،جب وہ اترے۔

{وَ النَّجْمِ: تارے کی قسم۔} اس آیت میں نَجم سے کیا مراد ہے اس بارے میں  مفسرین کے بہت سے قول ہیں  اور ان اَقوال کے اعتبار سے آیت کے معنی بھی مختلف ہیں ۔

          پہلا قول:اس سے مراد ’’ثُرَیّا ‘‘ ہے ، اس صورت میں  آیت کے معنی یہ ہوں  گے کہ ثریا تارے کی قسم! جب وہ فجر کے وقت غروب ہو۔یاد رہے کہ اگرچہ ثریا کئی تارے ہیں  لیکن ان پر نَجم کا اِطلاق عرب والوں  کی عادت ہے ۔

          دوسرا قول:نجم سے نجوم کی جنس یعنی تمام تارے مراد ہیں ۔اس صورت میں  آیت کے معنی یہ ہوں  گے کہ آسمان کے تمام تاروں  کی قسم!جب وہ غروب ہوں ۔

          تیسرا قول: اس سے وہ نباتات مراد ہیں جو تنا نہیں  رکھتیں  بلکہ زمین پر پھیلتی ہیں ۔ اس صورت میں  آیت کے معنی یہ ہوں  گے کہ زمین پر پھیلے ہوئے بیل بوٹوں  کی قسم! جب وہ جنبش کریں ۔

          چوتھا قول: نجم سے مراد قرآنِ پاک ہے۔اس صورت میں  آیت کے معنی یہ ہوں  گے کہ قرآن کی قسم !جب وہ رفتہ رفتہ نازل ہو۔

          پانچواں  قول: نجم سے مراد تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات ِمبارکہ ہے،اس صورت میں  آیت کے معنی یہ ہوں  گے کہ (اس پیارے چمکتے) تارے محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قسم !جب وہ معراج کی رات آسمانوں  سے اترے۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۴ / ۱۹۰ ،  قرطبی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۹ / ۶۲ ،  الجزء السابع عشر ،  ملتقطاً)

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمہارے صاحب نہ بہکے اورنہ ٹیڑھا راستہ چلے۔

{ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ: تمہارے صاحب نہ بہکے۔} اس آیت میں  ’’صَاحِبْ‘‘ سے مراد نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  اور ’’نہ بہکنے‘‘ کے معنی یہ ہیں  کہ حضورِ اَنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی حق اور ہدایت کے راستے سے عدول نہیں  کیا اور ہمیشہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی توحید پر اور عبادت کرنے میں  رہے، آپ کے دامنِ عِصْمَت پر کبھی کسی مکروہ کام کی گَرد نہ آئی اور’’ ٹیڑھا راستہ نہ چلنے‘‘ سے مرادیہ ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیشہ رُشد و ہدایت کی اعلیٰ منزل پرفائزرہے، فاسد عقائد کا شائبہ بھی کبھی آپ کی مبارک زندگی تک نہ پہنچ سکا۔( ابو سعود ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۵ / ۶۴۱)

صَفی اور حبیب میں  فرق:

             یہاں ایک نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے صَفی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  قرآنِ پاک میں  ارشاد فرمایا:

’’ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى‘‘( طہ:۱۲۱)

 



Total Pages: 250

Go To