Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

وَسَلَّمَ کے سچے ہونے پر دلائل ارشاد فرمائے اور سب سے پہلے اپنی ذات سے ابتدا فرمائی، گویا کہ ارشاد فرمایا اے کافرو! تم میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو توحید اور حشر و نشر کی بات میں  کیسے جھٹلاتے ہو حالانکہ ان کی سچائی کی دلیل تو تمہاری اپنی ذات میں  موجود ہے ۔تم غور کرو کہ کیا تم ماں  باپ سے پیدا نہ ہوئے اور کیا تم بے جان اوربے عقل ہوکہ جن پر حجت قائم نہ کی جائے گی ،ایسا توہر گز نہیں  ہے۔ (یا) کیا تم نطفہ سے پیدا نہیں  ہوئے اور کیا تمہیں  خدا نے نہیں  بنایا یا تم خود ہی اپنے خالق ہو کہ تم نے اپنے آپ کو خود ہی بنالیا ہو،اور جب یہ بھی محال ہے تو لامحالہ تمہیں  اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ تمہیں  اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے،اور جب تم یہ اقرار بھی کرتے ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں  کرتے اور بتوں  کو پوجتے ہو اور کیا وجہ ہے کہ تم مرنے کے بعد زندہ کئے جانے اورجزا و سزا کا انکار کرتے ہو۔( تفسیر کبیر  ،  الطور  ،  تحت الآیۃ : ۳۵ ،  ۱۰ / ۲۱۵-۲۱۶ ،  جلالین ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ص۴۳۶ ،  قرطبی ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۹ / ۵۵ ،  الجزء السابع عشر ،  ملتقطاً)

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: یا آسمان اور زمین اُنھوں  نے پیدا کئے بلکہ انھیں  یقین نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا آسمان اور زمین انہوں  نے پیدا کئے ہیں ؟ بلکہ وہ یقین نہیں  رکھتے۔

{ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ: یا آسمان اور زمین انہوں  نے پیدا کئے ہیں ؟} اس آیت میں  ایک اور دلیل ارشاد فرمائی کہ کیا آسمان اور زمین ان مشرکین نے پیدا کئے ہیں ؟ جب یہ بھی نہیں  اور اللہ تعالیٰ کے سوا آسمان و زمین پیدا کرنے کی کوئی قدرت ہی نہیں  رکھتا تو کیوں  یہ لوگ اس کی عبادت نہیں  کرتے ،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت اور خالقِیَّت کا یقین نہیں  کرتے، اگر انہیں  اس بات کایقین ہوتا تو ضرور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لاتے۔( جلالین ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ص۴۳۶ ،  خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۴ / ۱۸۹ ،  ملتقطاً)

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: یا اُن کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں  یا وہ کڑوڑے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں  ؟یا وہ بڑے حاکم ہیں ۔

{ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىٕنُ رَبِّكَ: یا ان کے پاس تمہارے رب کے خز انے ہیں ؟} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا اللہ تعالیٰ کی آیتوں  کو جھٹلانے والوں  کے پاس آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کے رزق او ر اس کی رحمت وغیرہ کے خزانے ہیں  کہ اس وجہ سے انہیں  اختیار ہو کہ جہاں  چاہیں  خرچ کریں  اور جسے چاہیں  نبوت دیں  اور جسے چاہیں  نبوت سے محروم کردیں  یا وہ بڑے حاکم اور خود مختارہیں  کہ جو چاہے کریں  اورکوئی انہیں  پوچھنے والا نہ ہو، ایسا نہیں  ہے۔( جلالین مع جمل  ،  الطور  ،  تحت الآیۃ : ۳۷  ،  ۷ / ۳۰۷  ،  خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۴ / ۱۸۹ ،  روح البیان ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۹ / ۲۰۳ ،  ملتقطاً)

            بلکہ کفار کا حال تو یہ ہے کہ اگر بِالفرض وہ رب کی رحمت کے خزانوں  کے مالک ہوتے تو خرچ ہوجانے کے خوف سے کنجوسی کی وجہ سے انہیں  روک لیتے ،جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

’’قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآىٕنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِؕ-وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا‘‘(بنی اسرائیل:۱۰۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں  کے مالک ہوتے تو خرچ ہوجانے کے ڈر سے تم انہیں  روک رکھتے اور آدمی بڑا کنجوس ہے۔

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِۚ-فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے جس میں  چڑھ کر سن لیتے ہیں  تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند لائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس میں  چڑھ کر وہ سن لیتے ہیں ۔ (اگر ایسا ہے) تو ان کے اس طرح سننے والے کو کوئی روشن دلیل لانی چاہیے۔

{ اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ: یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ یا ان مشرکین کے پاس کوئی سیڑھی ہے اور وہ آسمان کی طرف لگی ہوئی ہے جس پر چڑھ کر وہ فرشتوں  کی باتیں  سن لیتے ہیں  اور انہیں  معلوم ہوجاتا ہے کہ کون پہلے ہلاک ہوگا اور کس کی فتح ہوگی۔اگر انہیں  اس بات کا دعویٰ ہو تو ان کے اس طرح سننے والے کو کوئی روشن دلیل لانی چاہیے جیسا کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی صداقت پر دلیل پیش فرمائی ہے۔( جلالین ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ص۴۳۶ ،  مدارک ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ص۱۱۷۶ ،  تفسیر طبری ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۱۱ / ۴۹۶ ،  ملتقطاً)

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اس کو بیٹیاں  اور تم کو بیٹے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا اللہ کیلئے بیٹیاں  اور تمہارے لئے بیٹے ہیں ؟

{ اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ: کیا اللہ کیلئے بیٹیاں  ہوں ؟۔} اس آیت میں  کفار کی حماقت اور بے وقوفی کا بیان ہے کہ وہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہیں  اور اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیوں  کی نسبت کرتے ہیں  حالانکہ بیٹیوں  کو وہ خود اپنے لئے برا جانتے ہیں ، جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ‘‘(زخرف:۱۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان میں  کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں  بھرا رہتا ہے۔

 



Total Pages: 250

Go To