Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں  ڈال دیا اس حال میں  کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں  ڈال دیا اس حال میں  کہ وہ (خود کو)  ملامت کررہا تھا۔

{ فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ: اور ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑا۔} ارشاد فرمایا کہ جب فرعون اور ا س کی قوم نے سرکشی کی تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں  ڈال دیا اور اس وقت اس کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو ملامت کررہا تھا کہ ا س نے رب ہونے کا دعویٰ کیوں  کیا اور وہ کیوں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہ لایا اور کیوں  ان پراعتراضات کئے۔( ابو سعود ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۵ / ۶۳۱ ،  جلالین ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ص۴۳۴ ،  ملتقطاً)

وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ(۴۱) مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور عاد میں جب ہم نے اُن پر خشک آندھی بھیجی۔جس چیز پر گزرتی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح کر چھوڑتی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور قومِ عاد میں  (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان پرخشک آندھی بھیجی۔ وہ جس چیز پر گزرتی تھی اسے گلی ہوئی چیز کی طرح کرچھوڑتی ۔

{ وَ فِیْ عَادٍ: اور عاد میں ۔} اس آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ عاد کو ہلاک کرنے میں  بھی قابلِ عبرت نشانیاں  ہیں  ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر خشک آندھی بھیجی جس میں  کچھ بھی خیرو برکت نہ تھی اوریہ ہلاک کرنے والی ہوا تھی اور یہ ہوا آدمی ،جانور یا دیگر اَموال میں  سے جس چیز کوبھی چھو جاتی تھی تو ا سے ہلاک کرکے ایسا کردیتی تھی کہ گویا وہ مدتوں  کی ہلاک شدہ اور گلی ہوئی ہے۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲ ،  ۴ / ۱۸۴ ،  ملخصاً)

          نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد پر صرف ا س حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہوا بھیجی، پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: ’’اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ(۴۱) مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِ‘‘۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الذاریات ،  ۵ / ۱۸۱ ،  الحدیث: ۳۲۸۴)

وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ(۴۳)فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ(۴۴)فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ(۴۵) وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ثمود میں  جب ان سے فرمایا گیا ایک وقت تک برت لو۔ تو اُنہوں  نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں  کے سامنے انہیں  کڑک نے آلیا۔ تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے۔ اور اُن سے پہلے قومِ نوح کو ہلاک فرمایا، بے شک وہ فاسق لوگ تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ثمود میں ( نشانی ہے) جب ان سے فرمایا گیا: ایک وقت تک فائدہ اٹھالو۔ تو انہوں  نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی تو ان کی آنکھوں  کے سامنے انہیں  کڑک نے آلیا۔ تو وہ نہ کھڑے ہوسکے اور نہ وہ بدلہ لے سکتے تھے۔اور ان سے پہلے قومِ نوح کو ہلاک فرمایا، بیشک وہ فاسق لوگ تھے۔

{وَ فِیْ ثَمُوْدَ: اور ثمود میں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ ثمود کو ہلاک کرنے میں  بھی عبرت کی نشانیاں ہیں ۔ جب انہوں  نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے سرکشی کی اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور ان کی اونٹنی کی رگیں کاٹ دیں  توان سے فرمایا گیا کہ تین دن تک دنیا میں  اپنی زندگی سے فائدہ اٹھالو، یہی زمانہ تمہاری مہلت کا ہے اورجب تین دن گزر گئے تو ان کی آنکھوں  کے سامنے انہیں  کڑک نے آلیا اوروہ ہَولناک آواز کے عذاب سے ہلاک کردیئے گئے اور عذاب نازل ہونے کے وقت نہ وہ کھڑے ہوکر بھاگ سکے اور نہ ہی وہ اس سے بدلہ لے سکتے تھے جس نے انہیں  ہلاک کیا۔( جلالین مع جمل ،  الذاریات ،  تحت الآیۃ: ۴۳-۴۵ ،  ۷ / ۲۸۷ ،  ملخصاً)

{ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ: اور ان سے پہلے قومِ نوح کو ہلاک فرمایا۔} یعنی ہلاک کی جانے والی ان قوموں  سے پہلے ہم نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو ہلاک کیا اور انہیں  ہلاک کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود سے تجاوُز کر کے کفر اور گناہوں  پر قائم رہے۔( روح البیان ،  الذاریات ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۹ / ۱۶۹)

وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ(۴۷)وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور آسمان کو ہم نے ہاتھوں  سے بنایا اور بے شک ہم وسعت دینے والے ہیں ۔ اور زمین کو ہم نے فرش کیا تو ہم کیا ہی اچھے بچھانے والے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمان کو ہم نے (اپنی) قدرت سے بنایا اور بیشک ہم وسعت وقدرت والے ہیں ۔ اور زمین کو ہم نے فرش بنایا تو ہم کیا ہی اچھا بچھانے والے ہیں ۔

{ وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ: اور آسمان کو ہم نے (اپنی) قدرت سے بنایا۔} یہاں  سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیَّت اور قدرت کے دلائل ذکر کئے جا رہے ہیں  اور اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے دست ِقدرت سے بنایا اور بے شک ہم اسے اتنی وسعت دینے والے ہیں  کہ زمین اپنی فضا کے ساتھ اس کے اندر اس طرح آجائے جیسے کہ ایک وسیع و عریض میدان میں  گیند پڑی ہو ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہم نے آسمان کو اپنے دست ِقدرت سے بنایا اور بیشک ہم اپنی مخلوق پر رزق وسیع کرنے والے ہیں ۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۴ / ۱۸۴)

{ وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا: اور زمین کو ہم نے فرش بنایا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش بنایا کہ زمین اس قدر وسیع ہے کہ گول ہونے کے باوجود فرش کی طرح بچھی ہوئی معلوم ہوتی ہے، نیز نہ تو لوہے کی طرح سخت ہے کہ اس پر چلنا پھرنا دشوار ہو جائے اور نہ پانی کی طرح پتلی کہ مخلوق اس میں  ڈوب جائے۔یہ رب تعالیٰ کی قدرت کی بڑی دلیل ہے۔

وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے ہر چیز کے دو جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے ہر چیز کی دو قسمیں  بنائیں  تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

{ وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ: اور ہم نے ہر چیز کی دو قسمیں  بنائیں ۔} ارشاد فرمایا کہ اور ہم نے ہر چیز کی دو قسمیں  بنائیں  جیسے آسمان اور زمین ،سورج اور چاند ، رات اور دن،خشکی



Total Pages: 250

Go To