Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            اس آیت سے دو مسئلے معلوم ہوئے

(1)… سلام بڑی پرانی سنت ہے کہ دوسرے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین میں  بھی تھی بلکہ حدیث ِمبارک سے ثابت ہے کہ سلام کا طریقہ حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے پیش کیا گیا۔

(2)… آنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے خواہ سارے لوگ سلام کریں  یا ان میں  سے ایک ظاہر یہ ہے کہ یہاں  سب نے سلام کیا۔

فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ(۲۶) فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘(۲۷) فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًؕ-قَالُوْا لَا تَخَفْؕ-وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا۔ پھر اُسے ان کے پاس رکھا کہا کیا تم کھاتے نہیں ۔تو اپنے جی میں  اُن سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈرئیے نہیں  اور اُسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ابراہیم اپنے گھر والوں  کی طرف گئے تو ایک موٹا تازہ بچھڑا لے آئے۔ پھر اسے ان کے پاسرکھ دیا تو فرمایا: کیا تم کھاتے نہیں ؟ تو اپنے دل میں  ان سے خوف محسوس کیا، (فرشتوں  نے) عرض کی: آپ نہ ڈریں  اور انہوں  نے اسے ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سنائی۔

{فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ: پھر ابراہیم اپنے گھر گئے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دوآیات کا خلاصہ یہ ہے کہ سلام کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے گھر تشریف لے گئے اور ایک موٹا تازہ اور نفیس بچھڑا بھون کرلے آئے،پھر اسے ان مہمانوں  کے پاس رکھ دیا تاکہ اسے کھائیں  اور یہ میزبان کے آداب میں  سے ہے کہ مہمان کے سامنے کھانا پیش کرے۔جب اُن فرشتوں  نے نہ کھایا تو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا:کیا تم کھاتے نہیں ؟ فرشتوں  نے کوئی جواب نہ دیا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے دل میں  ان سے خوف محسوس کیا۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اس وقت آپ کے دل میں  بات آئی کہ یہ فرشتے ہیں  اور عذاب کے لئے بھیجے گئے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خوف دیکھ کر فرشتوں  نے عرض کی: آپ ڈریں  نہیں ، ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ہیں  اوراس کے بعد ان فرشتوں  نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سنائی۔( خازن ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۲۶-۲۸ ،  ۴ / ۱۸۳ ،  مدارک ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۲۶-۲۸ ،  ص۱۱۶۹ ،  ملتقطاً)

فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ(۲۹)قَالُوْا كَذٰلِكِۙ-قَالَ رَبُّكِؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اس پر اس کی بی بی چلّاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ ۔ انہوں  نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرمادیاہے اور وہی حکیم دانا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ابراہیم کی بیوی چلاتی ہوئی آئی پھر اپنے چہرے پر ہاتھ مارا اورکہا:کیا بوڑھی بانجھ عورت (بچہ جنے گی۔) فرشتوں نے کہا: تمہارے رب نے یونہی فرمایا ہے، بیشک وہی حکمت والا، علم والا ہے۔

{فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ: تو ابراہیم کی بیوی چلاتی ہوئی آئی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرشتوں  نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو علم والے لڑکے کی خوشخبری سنائی تو یہ بات آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ حضرت سارہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نے بھی سن لی ، اس پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا چِلّاتی ہوئی آئیں  اور حیرت سے اپنے چہرے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا:کیا وہ عورت بچہ جنے گی جو (90 یا 99 برس کی) بوڑھی ہے اور ا س کے ہاں  کبھی بچہ پیدا نہیں  ہوا ۔اس بات سے ان کا مطلب یہ تھا کہ ایسی حالت میں  بچہ ہونا انتہائی تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے کہا: جو بات ہم نے کہی آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ نے یونہی فرمایا ہے، بیشک وہی اپنے اَفعال میں  حکمت والا ہے اور ا س سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔( جلالین ،  الذّاریٰت ،  تحت الآیۃ: ۲۹-۳۰ ،  ص۴۳۳ ،  مدارک ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۲۹-۳۰ ،  ص۱۱۶۹ ،  ملتقطاً)



Total Pages: 250

Go To