Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ(۱۷)وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ رات میں  کم سویا کرتے۔ اور پچھلی رات استغفار کرتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ رات میں  کم سویا کرتے تھے۔اور رات کے آخری پہروں  میں  بخشش مانگتے تھے۔

{كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ: وہ رات میں  کم سویا کرتے تھے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ پرہیز گار لوگوں  کانیک اعمال کرنے میں  حال یہ تھا کہ وہ رات تہجُّد اور شب بیداری میں  گزارتے اور رات میں  بہت تھوڑی دیر سوتے تھے اور اتنا سو جانے کو بھی اپنا قصور سمجھتے تھے اور رات تہجُّد اور شب بیداری میں گزار نے کے باوجود بھی وہ خود کو گناہگار سمجھتے تھے اور رات کا پچھلا حصہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے میں  گزارتے تھے۔(مدارک ، الذّاریات ، تحت الآیۃ:۱۷-۱۸ ، ص۱۱۶۷ ،  جلالین مع جمل ، الذّاریات ، تحت الآیۃ:۱۷-۱۸ ، ۷ / ۲۷۹ ، ملتقطاً)

رات کا آخری حصہ مغفرت طلب کرنے اور دعا مانگنے کے لئے انتہائی مَوزوں  ہے:

            اس سے معلوم ہوا کہ رات کا آخری حصہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنے اور دعا کے لئے بہت مَوزوں  ہے۔ یہاں  اس سے متعلق ایک حدیث پاک بھی ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ہمارا رب تعالیٰ ہر رات اس وقت دنیا کے آسمان کی طرف نزولِ اِجلال فرماتاہے جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے’’ کوئی ایساہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں  اس کی دعا قبول کروں، کوئی ایساہے جو مجھ سے سوال کرے تاکہ میں  اسے عطا کروں ، کوئی ایساہے جو مجھ سے معافی چاہے تاکہ میں  اسے بخش دوں۔( بخاری ،  کتاب التّھجّد ،  باب الدّعاء والصّلاۃ من آخر اللّیل ،  ۱ / ۳۸۸ ،  الحدیث: ۱۱۴۵)

وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے مالوں  میں  حق تھا منگتا اور بے نصیب کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے مالوں  میں  مانگنے والے اور محروم کا حق تھا۔

{وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ: اور ان کے مالوں  میں  حق تھا۔} اس آیت میں  پرہیز گار وں  کے بارے میں  بیان کیا گیا کہ ان کے مالوں  میں  مانگنے والے اور محروم کا حق تھا۔ مانگنے والے سے مراد وہ ہے جو اپنی حاجت کے لئے لوگوں سے سوال کرے اور محروم سے مراد وہ ہے جو حاجت مند ہو اور حیاء کی وجہ سے سوال بھی نہ کرے۔( مدارک ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ص۱۱۶۷)

پرہیزگاروں  کی 4صفات:

            اس آیت سے پرہیز گاروں  کی 4 صفات معلوم ہوئیں :

(1)…ان کے مال میں  غریبوں  کا حصہ ہوتا ہے۔

(2)…وہ ہر قسم کے فقیر کو دیتے ہیں  چاہے اسے پہچانتے ہوں  یا نہیں ۔

(3)… ان کا دینا سائل کے مانگنے پر مَوقوف نہیں  ،وہ مانگنے والوں  کو بھی دیتے ہیں  اور تلاش کرکے ان مَساکین کو بھی دیتے ہیں جو حیاء اور شرم کی وجہ سے مانگ نہ سکیں ۔

(4)… وہ فقیروں  کو دے کر ان پر اپنا احسان نہیں  جتاتے بلکہ اپنی کمائی میں  ان کا حق سمجھتے ہیں  اور ان کا احسان مانتے ہیں  کہ انہوں  نے ہمارا مال قبول کرلیا۔اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرے کے مسلمانوں  کو بھی یہ اوصاف اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین میں  نشانیاں  ہیں  یقین والوں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین میں  یقین والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں ۔

{وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ: اور زمین میں  نشانیاں  ہیں ۔} یعنی زمین میں  پہاڑ،دریا،درخت،پھل اور نباتات وغیرہ ان لوگوں  کے لئے اللہ تعالیٰ کی وحدانیَّت اور اس کی قدرت و حکمت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  ہیں  جو اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں۔(جلالین ،  الذّاریٰت ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ص۴۳۳ ،  ملخصاً)

 زمین میں  اللہ تعالٰی کی وحدانیّت اور قدرت پردلالت کرنے والی نشانیاں :

             زمین میں  اپنی وحدانیَّت اور قدرت پردلالت کرنے والی نشانیوں  کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًاؕ-وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۳)وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ- وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ‘‘(رعد:۳ ، ۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں  پہاڑاور نہریں  بنائیں  اور زمین میں  ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے، وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں  غور وفکر کرنے والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں ۔ اور زمین کے مختلف حصے ہیں جو ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں  اور انگوروں  کے باغ ہیں اور کھیتی اور کھجور کے درخت ہیں  ایک جڑ سے اگے ہوئے اور الگ الگ اگے ہوئے، سب کو ایک ہی پانی دیا جا تا ہے اور پھلوں  میں  ہم ایک کو دوسرے سے بہتر بناتے ہیں ، بیشک اس میں  عقل مندوں  کے لیے نشانیاں  ہیں ۔

             اور ارشاد فرمایا:

 



Total Pages: 250

Go To