Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اسی کی عبادت کریں  اور یہ بتایاگیا کہ تمام مخلوق کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ ٔکرم پر لیا ہو اہے،نیز کفار و مشرکین سے قیامت کے دن شدید عذاب کا وعدہ کیا گیا اور انہیں  دنیا میں  سابقہ امتوں  جیساعذاب نازل ہونے سے ڈرایا گیا ہے۔

سورۂ قٓ کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ ذارِیات کی اپنے سے ماقبل سورت ’’ قٓ ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قٓ  کے آخر میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے کا ذکر کیا گیا اور سورۂ ذارِیات کی ابتداء میں قسموں  کے ساتھ فرمایاگیا کہ لوگوں  سے جو وعدہ کیا گیا ہے یہ سچاہے اور اعمال کی جزاء یا سزا ضرور ملے گی ۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ قٓ میں  جن انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اِجمالی طور پر ذکر ہوا ان کا سورۂ ذارِیات میں  تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔

وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ(۱) فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ(۲) فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ(۳) فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان:قسم ان کی جو بکھیر کر اُڑانے والیاں ۔ پھر بوجھ اٹھانے والیاں ۔ پھر نرم چلنے والیاں ۔ پھر حکم سے بانٹنے والیاں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بکھیر کر اڑادینے والیوں  کی قسم۔ پھر بوجھ اٹھانے والیوں کی۔ پھر آسانی سے چلنے والیوں کی۔ پھر حکم کو تقسیم کرنے والیوں کی۔

{وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا: خاک وغیرہ کو بکھیر کر اڑادینے والی ہواؤں  کی قسم۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں  خاک وغیرہ کو بکھیر کر اُڑادینے والی ہواؤں  کی قسم ارشاد فرمائی، دوسری آیت میں  بارش کے پانی کا بوجھ اٹھانے والی بدلیوں  اور گھٹاؤں  کی قسم ارشاد فرمائی،تیسری آیت میں پانی پر آسانی کے ساتھ چلنے والی کشتیوں  کی قسم ارشاد فرمائی اور چوتھی آیت میں  فرشتوں  کی ان جماعتوں  کی قسم ارشاد فرمائی جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارش اور رزق وغیرہ تقسیم کرتی ہیں  اور جنہیں  اللہ تعالیٰ نے کائنات کا نظام چلانے پر مامور کیا ہے اور عالَم کے نظام میں  تَصَرُّف کرنے کا اختیار عطا فرمایا ہے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ تمام صفتیں  ہواؤں کی ہیں  کہ وہ خاک بھی اُڑاتی ہیں ، بادلوں  کو بھی اُٹھائے پھرتی ہیں  ،پھر اُنہیں  لے کرسہولت کے ساتھ چلتی ہیں  ،پھر اللہ تعالیٰ کے شہروں  میں  اُس کے حکم سے بارش کو تقسیم کرتی ہیں ۔

            یاد رہے کہ ان چیزوں  کی قسم ارشاد فرمانے کا اصلی مقصود اس چیز کی عظمت بیان کرنا ہے جس کے ساتھ قسم ارشاد فرمائی گئی کیونکہ یہ چیزیں  اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال پر دلا لت کرنے والی ہیں  اور ان چیزوں  کو بیان فرما کر اربابِ دانش کو موقع دیا جارہا ہے کہ وہ ان میں  غور کرکے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور آخرت میں  اعمال کی جزا ملنے پر اِستدلال کریں  کہ جو قادرِ برحق ایسے عجیب و غریب اُمور پر قدرت رکھتا ہے تو وہ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں  کو فنا کرنے کے بعد دوبارہ ہستی عطا فرمانے پر بھی بے شک قادر ہے۔( خازن ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۱-۴ ،  ۴ / ۱۸۰ ،  جمل ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۱-۴ ،  ۷ / ۲۷۶-۲۷۷ ،  ملتقطاً)

اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ(۵)وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک جس بات کا تمہیں  وعدہ دیا جاتا ہے ضرور سچ ہے۔اور بیشک انصاف ضرور ہونا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جس کی تمہیں  وعید سنائی جا رہی ہے وہ ضرور سچ ہے۔ اور بیشک بدلہ دیا جانا ضرور واقع ہونے والا ہے۔

{اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ: بیشک جس کی تمہیں  وعید سنائی جا رہی ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہواؤں  ،بدلیوں ،کشتیوں  اور فرشتوں  کی قسم یاد کرکے فرمایا کہ اے لوگو!بے شک مرنے کے بعد زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے کی جس بات کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے عذاب کی جو وعید سنائی جا رہی ہے وہ ضرور سچ ہے اور اس میں  جھوٹ کا امکان بھی نہیں  ہے اور بیشک قیامت کے دن انصاف ضرور ہونا ہے اور حساب کے بعد نیک اور برے اعمال کا بدلہ ضرور ملنا ہے۔( روح البیان ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۵-۶ ،  ۹ / ۱۴۹ ،  جلالین ،  الذّاریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵-۶ ،  ص۴۳۲ ،  ملتقطاً)

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ(۷) اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: آرائش والے آسمان کی قسم۔ تم مختلف بات میں  ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  راستوں  والے آسمان کی قسم۔ تم طرح طرح کی بات میں  ہو۔

{وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ: راستوں  والے آسمان کی قسم۔} اس آیت کے آخری لفظ ’’ذَاتِ الْحُبُکِ‘‘ کا ایک معنی ہے زینت والا اور دوسرا معنی ہے راستوں  والا۔ان دونوں  معنی کے اعتبار سے اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اس حسن و جمال والے آسمان کی قسم جسے ہم نے ستاروں  سے مُزَیَّن فرمایا ہے (یا) سیاروں  کی گردش کے راستوں  والے آسمان کی قسم! اے اہلِ مکہ ! تم نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  اور قرآنِ پاک کے بارے میں  مختلف باتوں  کے قائل ہو، کبھی رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جادو گر کہتے ہو، کبھی شاعر ،کبھی کاہِن اورکبھی مجنون کہتے ہو (مَعَاذَ اللہ تَعَالٰی ) اسی طرح قرآنِ کریم کو کبھی جادو بتاتے ہو ،کبھی شعر ،کبھی کہانَت اور کبھی اگلوں  کی داستانیں  کہتے ہو۔(خازن  ،  الذّاریات  ،  تحت الآیۃ : ۷-۸  ،  ۴ / ۱۸۰-۱۸۱  ،  روح البیان  ،  الذّاریات  ،  تحت الآیۃ : ۷-۸  ،  ۹ / ۱۴۹-۱۵۰ ،  جلالین ،  الذّاریٰت ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ص۴۳۲ ،  ملتقطاً)

یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت ہی میں  اوندھایا جانا ہو۔

 



Total Pages: 250

Go To