Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِؕ-بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا ہم پہلی بار بنانے کی وجہ سے تھک گئے؟ بلکہ وہ نئی پیدائش کے متعلق شبے میں  ہیں ۔

{اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ: تو کیا ہم پہلی بار بنانے کی وجہ سے تھک گئے؟} اس صورت کی ابتدا میں  یہ بیان کیا گیا تھا کہ کفارِ مکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے ہیں  اور اب یہاں  سے ان منکروں  کے انکار کا جواب دیاجارہاہے کہ کیا ہم پہلی بار بنانے کی وجہ سے تھک گئے ہیں  جس کی وجہ سے دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لئے دشوار ہے؟ ہم تھکے ہر گز نہیں  بلکہ وہ لوگ موت کے بعد پیدا کئے جانے سے متعلق شبے میں  ہیں ۔( تفسیرکبیر ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۱۰ / ۱۳۳ ،  خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۴ / ۱۷۶ ،  ملتقطاً)

کفارِ مکہ کی انتہائی جہالت:

            کفارِ مکہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا،اس کے باوجود وہ اس بات کو محال اور بعید سمجھتے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔یہ ان کی کمال جہالت تھی کیونکہ ایجاد کے مقابلے میں  دوبارہ بنانا ظاہرنظر میں  زیادہ آسان ہے اور یہ لوگ ایجاد پر تو قدرت مان رہے ہیں  اور اس سے زیادہ آسان پر قدرت کا انکار کر رہے ہیں۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ ۚۖ-وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں  جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں  جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔

{وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ: اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے علم کا حال بیان کیا گیا ہے چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی ایک اعلیٰ دلیل ہے اور ہم اس وَسْوَسے تک کو بھی جانتے ہیں  جواس کا نفس ڈالتا ہے اور اس کے پوشیدہ اَحوال اور دلوں  کے رازہم سے چھپے ہوئے نہیں  ہیں اور ہم اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے انسان کے دل کی رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں  اور بندے کے حال کو خود اس سے زیادہ جاننے والے ہیں  ۔

            علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :وَرِید وہ رگ ہے جس سے خون جاری ہو کر بدن کے ہر جُزْوْ میں  پہنچتا ہے ،یہ رگ گردن میں  ہے اورآیت کے معنی یہ ہیں  کہ انسان کے اَجزاء ایک دوسرے سے پردے میں  ہیں  مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پردے میں  نہیں ۔( تفسیر خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۴ / ۱۷۶)

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان:  جب اس سے لیتے ہیں  دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب اس سے لینے والے دو فرشتے لیتے ہیں  ،ایک دائیں  جانب اور دوسرا بائیں  جانب بیٹھا ہوا ہے۔

{اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ:  جب اس سے لینے والے دو فرشتے لیتے ہیں ۔} یعنی ہم اس وقت بھی انسان کے دل کی رگ سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں  جب انسان کا ہر عمل اور ہر بات لکھنے پر مامور دو فرشتے ا س کا ہر قول اور فعل لکھ لیتے ہیں  ،ان میں  سے ایک فرشتہ دائیں  جانب نیکیاں  لکھنے کیلئے اور دوسرا بائیں  جانب برائیاں  لکھنے کیلئے بیٹھا ہوا ہے۔

            اس سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں  کے لکھنے سے بھی بے نیاز ہے کیونکہ وہ سب سے زیادہ پوشیدہ چیز کو بھی جاننے والا ہے اور نفس کے وسوسے تک اس سے چھپے نہیں  ہیں  البتہ یاد رہے کہ فرشتوں  کا لکھنا حکمت کے تقاضے کے مطابق ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کے اعمال نامے اس کے ہاتھ میں  دے دیئے جائیں ۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۴ / ۱۷۶ ،  مدارک ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۱۱۶۱ ،  ملتقطاً)

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں  نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ زبان سے کوئی بات نہیں  نکالتامگر یہ کہ ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس تیار بیٹھاہوتا ہے۔

{مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ: جو بات وہ زبان سے نکالتا ہے۔} یعنی بندہ جو بات زبان سے نکالتا ہے اسے لکھنے کیلئے ایک محافظ فرشتہ اس کے پاس تیار ہوتا ہے خواہ وہ بندہ کہیں  بھی ہو۔

اعمال لکھنے والے فرشتوں  سے متعلق3اَہم باتیں :

            یہاں  اعمال لکھنے والے فرشتوں  سے متعلق تین باتیں  ملاحظہ ہوں ،

(1)… قضائے حاجت اور جماع کے وقت فرشتے آدمی کے پاس سے ہٹ جاتے ہیں  ۔

(2)… ان دونوں  حالتوں میں  آدمی کو بات کرنا جائز نہیں  تاکہ اسے لکھنے کے لئے فرشتوں  کو اس حالت میں  اس سے قریب ہونے کی تکلیف نہ ہو۔

(3)… یہ فرشتے آدمی کی ہر بات حتّٰی کہ بیماری کی حالت میں  کراہنا تک لکھتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف وہی چیزیں  لکھتے ہیں  جن میں  اجرو ثواب یا گرفت و عذاب ہو۔

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی ، یہ وہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔

{وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ: اور موت کی سختی حق کے ساتھ آگئی۔} اس سے پہلی آیات میں  مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکروں  کارد فرمایا گیا اوراللہ تعالیٰ نے اپنی



Total Pages: 250

Go To