Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

شگاف اور نقص و عیب کے بغیر بنا سکتا ہے وہی رب تعالیٰ مُردوں  کو دوبارہ زندہ کر دے تو اس میں  کیا بعید ہے؟)۔( مدارک ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ص۱۱۶۰ ،  روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۹ / ۱۰۶ ،  ملتقطاً)

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ(۷) تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں  لنگر ڈالے اور اس میں  ہر بارونق جوڑا اُگایا۔ سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں  مضبوط پہاڑ ڈالے اور اس میں  ہربارونق جوڑا اگایا۔ ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے بصیرت اور نصیحت کیلئے۔

{وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا: اور زمین کو ہم نے پھیلایا۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ کے قادر ہونے کی دوسری دلیل بیان کی جا رہی ہے ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا ان کافروں  نے زمین کی طرف نہیں  دیکھا کہ ہم نے زمین کوپانی کی سطح پر (اس طرح) پھیلایا (کہ پانی میں  گھل کر فنا نہیں  ہوتی ورنہ مٹی پانی میں  گھل جاتی ہے) اورزمین پر بڑے بڑے پہاڑ کھڑے کردئیے ہیں تاکہ زمین قائم رہے اور اس میں  ہر سبزے ،پھلوں  اور پھولوں  کے جوڑے اُگائے جو دیکھنے میں  خوبصورت لگتے ہیں  (تو جو رب تعالیٰ زمین کو پیدا فرما سکتا،پہاڑوں  کے ذریعے اسے قائم رکھ سکتا اور ا س میں  نَشْوْ ونَما کی قوت پیدا کر سکتا ہے تو مُردوں  کو دوبارہ زندہ کر دینا اس کی قدرت سے کہاں  بعید ہے)۔( جمل ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۷ / ۲۵۸ ،  روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۹ / ۱۰۷ ،  ملقتطاً)

{تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى: بصیرت اور نصیحت کیلئے۔} یعنی آسمان و زمین اور ان سے متعلق بیان کی گئی تمام چیزیں  ہر اس بندے کے لئے بصیرت اور نصیحت حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں  جو اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی انوکھی چیزوں  اور خلقت کے عجائبات میں  غورو فکر کرکے اس کی طرف رجوع کرنے والاہو۔

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ(۹)     وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ(۱۰) رِّزْقًا لِّلْعِبَادِۙ-وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًاؕ- كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اُتارا تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے۔ اور کھجور کے لمبے درخت جن کا پکا گابھا۔ بندوں  کی روزی کے لیے اور ہم نے اس سے مردہ شہر جِلایا یونہی قبروں  سے تمہارا نکلنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا تو اس سے باغات اور کاٹا جانے والا اناج اُگایا۔ اور کھجور کے لمبے درخت (اگائے) جن کے گچھے اوپر نیچے تہہ لگے ہوئے ہیں ۔ بندوں  کی روزی کے لیے اور ہم نے اس سے مردہ شہرکو زندہ کیا۔ یونہی (قبروں  سے تمہارا) نکلنا ہوگا۔

{وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا: اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا۔} یہاں  سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی تیسری دلیل بیان کی جا رہی ہے ،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے آسمان سے بارش کا پانی اتارا جس سے ہر چیز کی زندگی بھی ہے اور بہت خیرو برکت بھی ۔ تو اس پانی سے باغ اُگائے اور وہ اناج اُگایا جسے ہر سال بویا اور کاٹا جاتا ہے جیسے گند م اور جَووغیرہ اور خاص طور پر کھجور کے لمبے درخت اُگائے جن کے گچھے اوپر نیچے تہہ لگے ہوئے ہیں  اور یہ چیزیں  بندوں  کی روزی کے لیے اُگائی ہیں  اور ہم نے بارش کے پانی سے اُس شہر کی سر زمین کو جس کے نباتات خشک ہوچکے تھے پھرسے سبزہ زار کردیا اور جس طرح ہم نے بنجر زمین کو سر سبز و شاداب کیا اسی طرح قبروں  سے تمہارا نکلنا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے یہ آثار دیکھ کر مرنے کے بعد پھر زندہ ہونے کا کیوں  انکار کرتے ہو۔(مدارک ،  ق ،  تحت الآیۃ:۹-۱۱ ، ص۱۱۶۰ ،  خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۱ ،  ۴ / ۱۷۵ ،  جلالین ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۱ ،  ص۴۲۹-۴۳۰ ،  ملتقطاً)

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ(۱۲) وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ(۱۳) وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍؕ-كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: ان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں  اور ثمود۔ اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں ۔ اور بَن والوں  اور تُبَّع کی قوم نے ان میں  ہر ایک نے رسولوں  کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان (کفارِ مکہ) سے پہلے نوح کی قوم اور رس (نامی کنویں ) والوں  نے اور ثمودنے جھٹلایا۔ اور عاد اور فرعون نے اور لوط کے ہم قوم لوگوں  نے۔ اور جنگل والوں  اور تبع کی قوم نے، ان سب نے رسولوں  کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔

{كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ: ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا۔} یہاں  سے ان سابقہ قوموں  کا حال اور انجام بیان کیا جا رہاہے جنہوں  نے اپنے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تاکہ ان کے حال اور وبال سے کفارِ مکہ نصیحت حاصل کریں  اور ا س کے ساتھ ساتھ انہیں  سابقہ قوموں  کی ہلاکت اور عذاب سے ڈرایا بھی گیا ہے ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کفارِ مکہ سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور رَس والوں  اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ثمودنے اپنے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا ،اسی طرح حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم عاد اور فرعون نے ، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہم قوم لوگوں  نے اور حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے جنگل والوں  اور تُبَّع نامی بادشاہ کی قوم نے ، ان سب نے اپنے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو ان پر میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا،لہٰذا اے اہلِ مکہ !تم بھی سابقہ قوموں  جیسے عذاب سے ڈرو اور میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نہ جھٹلاؤ۔

            اس میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے تسلی بھی ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفارِ مکہ کے جھٹلانے سے غمزدہ نہ ہو ں  کیونکہ آپ سے پہلے تشریف لانے والے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ بھی ان کی قوم کے لوگ اسی طرح کیا کرتے تھے ، لہٰذا جس طرح انہوں  نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر فرمائیں ، (نیز ہم ہمیشہ رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد فرماتے اور ان کے دشمنوں  پر عذاب کرتے رہے ہیں  تو آپ کی بھی مدد فرمائیں  گے اور آپ کے دشمنوں  کو بھی عذاب میں  مبتلا کریں  گے)۔( تفسیرکبیر ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۴ ،  ۱۰ / ۱۳۲ ،  جلالین ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۴ ،  ص۴۳۰ ،  روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۴ ،  ۹ / ۱۰۹-۱۱۱ ،  ملتقطاً)

          نوٹ:یاد رہے کہ یہاں  آیات میں  جتنی قوموں  کا ذکر ہوا ان سب کے تذکرے، سورہِ حجر، سُورہِ فرقان اور سورہِ دُخان وغیرہ میں  گزر چکے ہیں ۔

 



Total Pages: 250

Go To