Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

منسوب کرتے تو اللہ تعالیٰ ضرور آپ کے دل پر مہر لگا دیتا(جس سے قرآن آپ کے سینے سے سَلب ہو جاتااور جب اللہ تعالیٰ نے ایسی مہر نہیں  لگائی تو معلوم ہو اکہ آپ نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں  باندھا بلکہ کفار یہ دعویٰ کرنے میں  جھوٹے ہیں  ) یونہی اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ وہ باطل کو مٹا دیتا اور حق کو اپنے کلام سے ثابت فرماتا ہے ،تو اگر بالفرض آپجھوٹے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور رسوا کر دیتا اور باطل کا پردہ فاش کر دیتا لیکن معاملہ اس کے برخلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قوت اور مدد کے ساتھ آپ کی تائید فرمائی ہے تو یقینا آپ سچے ہیں  اور اس سے بھی معلوم ہواکہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جھوٹے نہیں اور اللہ تعالیٰ پر بہتان لگانے والے ہر گز نہیں  ہیں  ، البتہ کافر جھوٹے ہیں  اور بے شک اللہ تعالیٰ تودلوں  تک کی باتیں  جانتا ہے ، تواسے کافروں  کے عقائد، اَقوال اور اَحوال سب کی خبر ہے اور وہ انہیں  اس کی خوب سزا دے گا۔( تفسیرکبیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۹ / ۵۹۶-۵۹۷ ،  البحر المحیط ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۷ / ۴۹۴ ،  ملتقطاً)

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جو اپنے بندوں  کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں  سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جو اپنے بندوں  سے توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں  سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

{وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ: اور وہی ہے جو اپنے بندوں  سے توبہ قبول فرماتا ہے۔} اس آیت میں  فرمایا گیا کہ جو لوگ اپنے کفر اور بد اعمالیوں  سے توبہ کر لیں  گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے گا کیونکہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ ہر گناہگار کی توبہ قبول فرماتا ہے اگرچہ ا س کا گناہ کتنا ہی بڑا ہو اور اس توبہ کی برکت سے اس کے گناہوں  سے در گزر فرماتا اور اسے معاف فرما دیتا ہے اوراے لوگو! جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے تو وہ تمہارے نیک اعمال پر تمہیں  ثواب اور برے اعمال پر سزا دے گا۔

 توبہ کرنے کی ترغیب:

            یاد رہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت اور فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں  کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اوراس آیت میں  توبہ کی قبولیّت کا مُژدہ سنا کر گناہ کرنے والوں  کو اپنے گناہوں  سے توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

’’اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ‘‘(توبہ:۱۰۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا انہیں معلوم نہیں  کہ اللہ ہی اپنے بندوں  کی توبہ قبول فرماتا ہے اور خود صدقات (اپنے دستِ قدرت میں ) لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والامہربان ہے۔

            اورحضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر ا س سے بھی زیادہ راضی ہوتا ہے جیسے کوئی آدمی پُرخَطر منزل پر ٹھہرے اور اس کے پاس سواری ہو جس کے اوپر کھانے پینے کی چیزیں ہوں  چنانچہ وہ اپنا سر رکھ کر سوجاتا ہے اور جب بیدار ہوتا ہے تو ا س کی سواری کہیں  جاچکی ہوتی ہے،پھر گرمی اور پیاس کی شدت اسے تڑپاتی ہے یا جو اللہ تعالیٰ چاہے(اس کے ساتھ ہوتا ہے)۔پھراس نے کہا میں  اپنی جگہ کی طرف لوٹ جاتا ہوں  چنانچہ وہ لوٹ آتا اور پھر سو جاتا ہے،جب(بیدار ہو کر) سر اٹھاتا ہے تو ا س کی سواری پاس ہوتی ہے(تو وہ اس پر خوش ہوتا ہے)۔( بخاری ،  کتاب الدعوات ،  باب التوبۃ ،  ۴ / ۱۹۰ ،   الحدیث: ۶۳۰۸)

            اور مسلمانوں  کو سچی توبہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًاؕ-عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ‘‘(تحریم:۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جس کے بعد گناہ کی طرف لوٹنا نہ ہو، قریب ہے کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں  تم سے مٹا دے اور تمہیں  ان باغوں  میں  لے جائے جن کے نیچے نہریں  رواں  ہیں ۔

            لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  سچی توبہ کرے ،علما ء فرماتے ہیں  کہ ہر ایک گناہ سے توبہ واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی اور معصِیَت سے باز آجائے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادم ہو اور ہمیشہ گناہ سے بچے رہنے کا پختہ ارادہ کرے اور اگر گناہ میں  کسی بندے کی حق تَلفی بھی تھی تو اس حق سے شرعی طریقے سے بَریٔ الذِّمہ ہوجائے۔( خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۴ / ۹۶)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’سچی توبہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وہ نفیس شی ٔبنائی ہے کہ ہر گناہ کے اِزالہ کو کافی ووافی ہے۔ کوئی گناہ ایسانہیں  کہ سچی توبہ کے بعد باقی رہے یہاں  تک کہ شرک و کفر (بھی باقی نہیں  رہتے)۔ سچی توبہ کے یہ معنی ہیں  کہ گناہ پر اس لئے کہ وہ اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی تھی نادم وپریشان ہو کر فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کبھی اس گناہ کے پاس نہ جانے کا سچے دل سے پورا عزم کرے ،جو چارۂ کار اس کی تَلافی کا اپنے ہاتھ میں  ہو بجالائے مثلاً نماز روزے کے ترک یا غصب، سَرقہ(یعنی چوری)، رشوت، رِبا (یعنی سود) سے توبہ کی توصرف آئندہ کے لئے ان جرائم کا چھوڑ دینا ہی کافی نہیں  بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی ضرورہے کہ جو نماز روزے ناغہ کئے ان کی قضا کرے ،جو مال جس جس سے چھینا ، چُرایا، رشوت، سود میں  لیا انھیں  اور وہ نہ رہے ہوں  تو ان کے وارثوں  کوواپس کردے یا معاف کرائے، پتا نہ چلے توا تنا مال تَصَدُّق کردے اور دل میں  نیت رکھے کہ وہ لوگ جب ملے اگر تَصَدُّق پرراضی نہ ہوئے اپنے پاس سے انھیں  پھیردوں  گا۔( فتاویٰ رضویہ، کتاب الحظروالاباحۃ، اعتقادیات وسیر، ۲۱ / ۱۲۱-۱۲۲)سود میں  لئے گئے مال کے بارے میں  یہ بھی اجازت ہوتی ہے کہ جس سے لیا ہے اسے دینے کی بجائے ابتداء میں  ہی صدقہ کردے یعنی سود دینے والے کو لوٹانا ہی ضروری نہیں  ہوتا۔([1])

{وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ: اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔} اگرہم عمل کرتے وقت یہ سوچ لیا کریں  کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ظاہری اور پوشیدہ ہرعمل کو جانتاہے اور وہ ہمارے تمام کاموں  کو دیکھ رہا ہے تو امید ہے کہ کبھی گناہ کرنے کی ہمت نہ کریں۔ اسی سے متعلق ایک اور مقام پراللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

 



[1] ۔۔۔۔ توبہ سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’توبہ کی روایات وحکایات‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 250

Go To