Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

منع نہ کرے۔ اس غلام کو ایک شخص نے خرید لیا، پھر وہ غلام بیمار ہوگیا تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے ،پھر اس کی وفات ہوگئی اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی تدفین میں  تشریف لائے، اس کے بارے میں  لوگوں  نے کچھ کہا تو اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔( مدارک ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ص۱۱۵۶ ،  جلالین ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۳ ،  ص۴۲۸ ،  ملتقطاً)

عزت اور فضیلت کا مدار پرہیزگاری ہے :

            اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  عزت و فضیلت کا مدار نسب نہیں  بلکہ پرہیزگاری ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ نسب پر فخر کرنے سے بچے اور تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اسے عزت و فضیلت نصیب ہو، ترغیب کے لئے یہاں  اس سے متعلق3اَحادیث ملاحظہ ہوں  

(1)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  :فتحِ مکہ کے دن حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلِیَّت کا غرور اور ایک دوسرے پر خاندانی فخر دور کر دیاہے اور اب صرف دو قسم کے لوگ ہیں  (1)نیک اور متقی شخص جو کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  معزز ہے۔ (2)گناہگار اور بد بخت آدمی ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ذلیل و خوار ہے ۔تمام لوگ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد ہیں  اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیاہے،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو!ہم نے تمہیں  ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں  قومیں  اور قبیلے بنایاتاکہ تم آپس میں  پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں  تم میں  زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں  زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔( ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ الحجرات ،  ۵ / ۱۷۹ ،  الحدیث: ۳۲۸۱)

(2)…حضرت عداء بن خالد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :میں  حجۃ الوداع کے دن نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ کے منبر ِاقدس کے نیچے بیٹھا ہو اتھا،آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ،پھر فرمایا’’ بے شک اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو! ہم نے تمہیں  ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں  قومیں  اور قبیلے بنایا تاکہ تم آپس میں  پہچان رکھو، بیشک اللہ کے یہاں  تم میں  زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں  زیادہ پرہیزگارہے۔

            تو کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں  اور نہ ہی کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے ،کسی کا لے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں  اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر فضیلت حاصل ہے بلکہ فضیلت صرف تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے (تو جو مُتَّقی اور پرہیز گار ہے وہ افضل ہے)۔( معجم الکبیر ،  عداء بن خالد بن ہوذہ العامری ،  ۱۸ / ۱۲ ،  الحدیث: ۱۶)

(3)…حضر ت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب قیامت کادن ہوگاتوبندوں  کواللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑاکیاجائے گااس حال میں  کہ وہ غیرمختون ہوں  گے اوران کی رنگت سیاہ ہوگی،تواللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا: ’’اے میرے بندو!میں  نے تمہیں  حکم دیا اورتم نے میرے حکم کو ضائع کردیااورتم نے اپنے نسبوں  کوبلندکیااورانہی کے سبب ایک دوسرے پرفخرکرتے رہے ،آج کے دن میں  تمہارے نسبوں  کوحقیروذلیل قراردے رہاہوں  ،میں  ہی غالب حکمران ہوں  ،کہاں  ہیں  مُتَّقی لوگ؟کہاں  ہیں  متقی لوگ؟ بیشک اللہ تعالیٰ کے یہاں  تم میں  زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں  زیادہ پرہیزگار ہے۔( تاریخ بغداد ،  ذکر من اسمہ علیّ ،  حرف الالف من آباء العلیین ،  ۶۱۷۲-علیّ بن ابراہیم العمری القزوینی ،  ۱۱ / ۳۳۷)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  نسبی فخرو تکبر سے بچائے اور تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاؕ-قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْؕ-وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: گنوار بولے ہم ایمان لائے تم فرماؤ تم ایمان تو نہ لائے ہاں  یوں  کہو کہ ہم مطیع ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں  میں  کہاں  داخل ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو تمہارے کسی عمل کا تمہیں  نقصان نہ دے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: دیہاتیوں  نے کہا: ہم ایمان لے آئے، تم فرماؤ: تم ایمان تو نہیں  لائے ہاں  یوں  کہوکہ ہم فرمانبردار ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں  میں  داخل نہیں  ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو تمہارے اعمال سے کچھ کمی نہیں  کرے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا: دیہاتیوں  نے کہا: ہم ایمان لے آئے۔} شانِ نزول:بنو اسد بن خزیمہ کے کچھ لوگ خشک سالی کے زمانہ میں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کیا ، ان لوگوں  نے مدینہ کے راستوں  میں  گندگی پھیلائی اوران کی وجہ سے وہاں  غلہ کے دام بڑھ گئے اور دوسری طرف صبح و شام رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  آکر اپنے اسلام لانے کا احسان جتاتے اور کہتے: ہمیں  کچھ دیجئے۔ ان کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا:دیہاتیوں  نے کہا: ہم ایمان لے آئے، اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرمادیں  تم سچے دل سے ایمان تو نہیں  لائے ہاں  یوں  کہوکہ ہم ظاہری طور پر فرمانبردار ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں  میں  داخل نہیں  ہوا اور اگر تم ظاہری و باطنی طوپر، سچائی اور اخلاص کے ساتھ نفاق کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے نیک اعمال کے ثواب سے کچھ کمی نہیں  کرے گا بلکہ تمہیں  اپنی شان کے لائق جزا دے گا جو تمہارے وہم و گمان سے باہر ہے، بیشک اللہ تعالیٰ بندوں  کے  گناہوں  پر پردہ ڈال کر انہیں  بخشنے والا اور



Total Pages: 250

Go To