Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

آپس میں  لڑائی رہنے لگتی ہے اور آخر کاران میں  طلاق اور جدائی کی نوبت آجاتی ہے ،بھائی اور بہن کے درمیان تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں  اور یوں  ایک ہنستا بستا گھر اجڑ کر رہ جاتا ہے۔

(2)… دوسروں  کے لئے برے خیالات رکھنے والے افراد پر فالج اور دل کی بیماریوں  کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے جیسا کہ حال ہی میں  امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ایک تحقیقی رپوٹ میں  یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ افراد جو دوسروں  کے لئے مخالفانہ سوچ رکھتے ہیں  اور اس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار اور غصے میں  رہتے ہیں  ان میں  دل کی بیماریوں  اور فالج کا خطرہ86%بڑھ جاتا ہے۔

 بد گمانی کا علاج:

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  : شیطان آدمی کے دل میں  بدگمانی ڈالتاہے تومسلمان کوچاہیے کہ وہ شیطان کی تصدیق نہ کرے اوراس کوخوش نہ کرے حتّٰی کہ اگرکسی کے منہ سے شراب کی بوآرہی ہوتوپھربھی اس پر حد لگانا جائز نہیں  کیونکہ ہوسکتاہے اس نے شراب کاایک گھونٹ پی کرکلی کردی ہویاکسی نے اس کو جَبراً شراب پلادی ہو اوراس کااِحتمال ہے تووہ دل سے بدگمانی کی تصدیق کرکے شیطان کوخوش نہ کرے (اگرچہ مذکورہ صورت میں  بدگمانی کا گناہ نہیں  ہوگا لیکن بچنے میں  پھر بھی بھلائی ہی ہے) (احیاء علوم الدین ،  کتاب آفات اللسان ،  بیان تحریم الغیبۃ بالقلب ،  ۳ / ۱۸۶ملخصاً)۔([1])

{وَ لَا تَجَسَّسُوْا: اورجستجونہ کرو۔} اس آیت میں  دوسرا حکم یہ دیاگیا کہ مسلمانوں کی عیب جوئی نہ کرو اور ان کے پوشیدہ حال کی جستجو میں  نہ رہوجسے اللہ تعالیٰ نے اپنی سَتّاری سے چھپایا ہے۔

 مسلمانوں  کے عیب تلاش کرنے کی ممانعت:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ مسلمانوں  کے پوشیدہ عیب تلاش کرنا اور انہیں  بیان کرنا ممنوع ہے ،یہاں  اسی سے متعلق ایک عبرت انگیز حدیث ِپاک ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت ابوبرزہ اسلمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’اے ان لوگوں  کے گروہ، جو زبان سے ایمان لائے اور ایمان ان کے دلوں  میں  داخل نہیں  ہوا، مسلمانوں  کی غیبت نہ کرو اور ان کی چھپی ہوئی باتوں  کی ٹٹول نہ کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی چھپی ہوئی چیز کی ٹٹول کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ چیز کی ٹٹول کرے (یعنی اسے ظاہر کر دے) گا اور جس کی اللہ (عَزَّوَجَلَّ) ٹٹول کرے گا (یعنی عیب ظاہر کرے گا) اس کو رسوا کردے گا، اگرچہ وہ اپنے مکان کے اندر ہو۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی الغیبۃ ،  ۴ / ۳۵۴ ،  الحدیث: ۴۸۸۰)

            اس سے معلوم ہو اکہ مسلمانوں  کی غیبت کرنا اور ان کے عیب تلاش کرنا منافق کا شِعار ہے اور عیب تلاش کرنے کا انجام ذلت و رسوائی ہے کیونکہ جو شخص کسی دوسرے مسلمان کے عیب تلاش کر رہا ہے، یقینا اس میں  بھی کوئی نہ کوئی عیب ضرور ہو گا اور ممکن ہے کہ وہ عیب ایسا ہو جس کے ظاہر ہونے سے وہ معاشرے میں  ذلیل و خوار ہو جائے لہٰذا عیب تلاش کرنے والوں  کو اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ ان کی اس حرکت کی بنا پر کہیں  اللہ تعالیٰ ان کے وہ پوشیدہ عیوب ظاہر نہ فرما دے جس سے وہ ذلت و رسوائی سے دوچارہو جائیں  ۔

عیب چھپانے کے دو فضائل:

            یہاں  موضوع کی مناسبت سے مسلمانوں  کے عیب چھپانے کے دو فضائل ملاحظہ ہو ں  ،

(1)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے کسی مسلمان کے عیب پرپردہ رکھااللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیوب پرپردہ رکھے گا۔( بخاری ،  کتاب المظالم والغصب ،  باب لا یظلم المسلم... الخ ،  ۲ / ۱۲۶ ،  الحدیث: ۲۴۴۲)

(2)…حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’جو شخص ایسی چیز دیکھے جس کو چھپانا چاہیے اور اس نے پردہ ڈال دیا (یعنی چھپادی) تو ایسا ہے جیسے مَوْء ُوْدَہ (یعنی زندہ زمین میں  دبا دی جانے والی بچی) کو زندہ کیا۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی الستر علی المسلم ،  ۴ / ۳۵۷ ،  الحدیث: ۴۸۱۹)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی اپنے مسلمان بھائیوں  کے عیب چھپانے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

لوگوں  کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے عیبوں  کی اصلاح کی جائے:

            جو شخص لوگوں کے عیب تلاش کرنے میں  رہتا ہے اسے خاص طور پر اور تمام لوگوں  کو عمومی طور پر چاہئے کہ کسی کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے اندر موجود عیبوں  کو تلاش کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں  کہ اسی میں  ان کی اور دوسروں کی دنیا و آخرت کابھلا ہے ۔

            حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم میں  سے کوئی شخص اپنے بھائی کی آنکھ میں  تنکادیکھتاہے اوراپنی آنکھ کوبھول جاتاہے۔( شعب الایمان ،  الرابع والاربعون من شعب الایمان... الخ ،  فصل فیما ورد... الخ ،  ۵ / ۳۱۱ ،  الحدیث: ۶۷۶۱)

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  :جب تم اپنے ساتھی کے عیب ذکر کرنے کا ارادہ کرو تو (اس وقت) اپنے عیبوں  کو یاد کرو۔( شعب الایمان ،  الرابع والاربعون من شعب الایمان... الخ ،  فصل فیما ورد... الخ ،  ۵ / ۳۱۱ ،  الحدیث: ۶۷۵۸)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  دوسروں  کے عیب تلاش کرنے سے بچنے،اپنے عیبوں  کو تلاش کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

انسان کی عزت و حرمت کی حفاظت میں  اسلام کا کردار:

            دین ِاسلام کی نظر میں  ایک انسا ن کی عزت و حرمت کی قدر بہت زیادہ ہے اور اگر وہ انسان مسلمان بھی ہو تو اس کی عزت و حرمت کی قدر اسلام کی نظر میں  مزید بڑھ جاتی ہے،



[1] ۔۔۔ بد گمانی سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’بد گمانی‘‘ (مطبوعہ مکتبہ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 250

Go To