Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کسی شخص میں  فقر کے آثار دیکھ کر اس کا مذاق نہ اُڑایا جائے :

            آیت کے دوسرے شانِ نزول سے معلوم ہو اکہ اگر کسی شخص میں  فقر،        محتاجی اور غریبی کے آثار نظر آئیں  تو ان کی بنا پرا س کا مذاق نہ اڑایا جائے ،ہو سکتا ہے کہ جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والے کے مقابلے میں  دینداری کے لحاظ سے کہیں  بہتر ہو۔

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’کتنے ہی لوگ ایسے ہیں  جن کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہوتے ہیں  ،ان کے پاس دو پُرانی چادریں  ہوتی ہیں  اور انہیں  کوئی پناہ نہیں  دیتا (لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  ان کا رتبہ ومقام یہ ہوتا ہے کہ) اگروہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں  (کہ اللہ تعالیٰ فلاں  کام کرے گا) تو اللہ تعالیٰ (وہ کام کر کے) ان کی قسم کو سچا کر دیتا ہے۔( ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب مناقب البراء بن مالک رضی اللّٰہ عنہ ،  ۵ / ۴۵۹ ،  الحدیث: ۳۸۸۰)

            حضر ت حارث بن وہب خزاعی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں  تمہیں  جنتی لوگوں  کے بارے میں  نہ بتاؤں ؟یہ ہر وہ شخص ہے جو کمزور اور (لوگوں  کی نگاہوں  میں ) گرا ہو اہے ،اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی قسم سچی کر دے گا۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ جہنّم ،  ۱۳-باب ،  ۴ / ۲۷۲ ،  الحدیث: ۲۶۱۴)

{وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ: اور نہ عورتیں  دوسری عورتوں  پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنےوالیوں  سے بہتر ہوں ۔} شانِ نزول: آیت ِمبارکہ کے اس حصے کے نزول سے متعلق دو رِوایات درج ذیل ہیں:

(1)…حضر ت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :یہ آیت رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُنَّ کے متعلق نازل ہوئی ہے،انہوں  نے حضرت ِاُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا  کوچھوٹے قد کی وجہ سے شرمندہ کیا تھا۔

(2)… حضرت عبداللہ بن عبا س رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : آیت کا یہ حصہ اُمُّ المومنین حضرت صفیہ بنت حُیَی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا کے حق میں  اس وقت نازل ہوا جب انہیں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک زوجۂ مُطَہَّرہ نے یہودی کی بیٹی کہا۔( خازن ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۴ / ۱۶۹)

            اس واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : اُمُّ المومنین حضرت صفیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا کو معلوم ہوا کہ حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نے انہیں  یہودی کی لڑکی کہا ہے،(اس پر انہیں  رنج ہوا اور)آپ ر ونے لگیں  ، جب سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں  روتا ہوا پایا تو ارشاد فرمایا’’تم کیوں  رو رہی ہو؟عرض کی:حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نے مجھے یہودی کی لڑکی کہا ہے۔ حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا ’’ تم نبی زادی ہو،تیرے چچا نبی ہیں  اور نبی کی بیوی ہو ،توتم پر وہ کیا فخر کرتی ہیں  اور حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے فرمایا’’ اے حفصہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔( ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فضل ازواج النّبی ،  ۵ / ۴۷۴ ،  الحدیث: ۳۹۲۰)

            نوٹ: آیت ِمبارکہ میں  عورتوں  کا جداگانہ ذکر اس لئے کیا گیا کہ عورتوں  میں  ایک دوسرے کامذاق اُڑانے اوراپنے آپ کوبڑاجاننے کی عادت بہت زیادہ ہوتی ہے ،نیز آیت ِمبارکہ کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ عورتیں  کسی صورت آپس میں  ہنسی مذاق نہیں کر سکتیں  بلکہ چند شرائط کے ساتھ ان کا آپس میں  ہنسی مذاق کرنا جائز ہے ،جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (عورتوں  کی ایک دوسرے سے) جائز ہنسی جس میں  نہ فحش ہو نہ ایذائے مُسلم،نہ بڑوں  کی بے ادبی،نہ چھوٹوں سے بد لحاظی،نہ وقت و محل کے نظر سے بے موقع،نہ اس کی کثرت اپنی ہمسر عورتوں  سے جائز ہے۔(فتاوی رضویہ، ۲۳ / ۱۹۴)

مذاق اُڑانے کا شرعی حکم اور اس فعل کی مذمت:

            مذاق اُڑانے کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اہانت اور تحقیر کیلئے زبان یا اشارات، یا کسی اور طریقے سے مسلمان کا مذاق اڑانا حرام و گناہ ہے کیونکہ اس سے ایک مسلمان کی تحقیر اور اس کی ایذاء رسانی ہوتی ہے اور کسی مسلمان کی تحقیر کرنا اوردکھ دینا سخت حرام اور جہنم میں  لے جانے والا کام ہے۔( جہنم کے خطرات،ص۱۷۳)

            کثیر اَحادیث میں  اس فعل سے ممانعت اور اس کی شدید مذمت اور شناعت بیان کی گئی ہے ،جیسا کہ حضرت عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو، نہ اس کا مذاق اڑاؤ، نہ اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو۔( ترمذی ،  کتاب البرّ والصّلۃ ،  باب ما جاء فی المرائ ،  ۳ / ۴۰۰ ،  الحدیث: ۲۰۰۲)

            اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’  میں  کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں  کرتا اگرچہ اس کے بدلے میں  مجھے بہت مال ملے۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی الغیبۃ ،  ۴ / ۳۵۳ ،  الحدیث: ۴۸۷۵)

            حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگوں  کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ، تو وہ بہت ہی بے چینی اور غم میں  ڈوبا ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی وہ دروازے کے پاس پہنچے گا وہ دروازہ بند ہو جائے گا ،پھر ایک دوسرا جنت کا دروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائے گا: آؤ یہاں  آؤ، چنانچہ یہ بے چینی اور رنج وغم میں  ڈوبا ہوا اس دروازے کے پاس جائے گا تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا،اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہو تا رہے گا یہاں  تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکارپڑے گی تو وہ ناامیدی کی وجہ سے نہیں  جائے گا۔ (اس طرح وہ جنت میں  داخل ہو نے سے محروم رہے گا)( موسوعۃ ابن ابی دنیا ،  الصّمت وآداب اللّسان ،  باب ما نہی عنہ العباد ان یسخر... الخ ،  ۷ / ۱۸۳ ،  الحدیث: ۲۸۷)

             حضرت علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی تحقیر کرنے کے لیے اس کی خامیوں  کو ظاہر کرنا ،اس کا مذاق اڑانا،اس



Total Pages: 250

Go To