Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :(اس آیت کا)شانِ نزول کچھ بھی ہو مگر یہ حکم سب کو عام ہے یعنی کسی بات میں  ،کسی کام میں  حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے آگے ہونا منع ہے ،اگر حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے ہمراہ راستہ  میں  جا رہے ہوں  تو آگے آگے چلنا منع ہے مگر خادم کی حیثیت سے یا کسی ضرورت سے اجازت لے کر(چلنا منع نہیں )، اگر ساتھ کھانا ہو تو پہلے شروع کر دینا ناجائز،اسی طرح اپنی عقل اور اپنی رائے کو حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی رائے سے مقدم کرنا حرام ہے۔( شان حبیب الرحمٰن، ص۲۲۴)

آیت ’’لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ‘‘ سے متعلق5باتیں :

            یہاں  اس آیت سے متعلق5باتیں  ملاحظہ ہوں

(1)…اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان اتنی بلند ہے کہ ان کی بارگاہ کے آداب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائے ہیں ۔

(2)…اس آیت میں  اللہ تعالیٰ اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دونوں  سے آگے نہ بڑھنے کا فرمایا گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ سے آگے ہونا ممکن ہی نہیں  ہے کیونکہ وہ نہ زمانہ میں  ہے نہ کسی مکان میں  اور آگے ہونا یا زمانہ میں  ہوتا ہے یا جگہ میں  ، معلوم ہوا کہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے آگے نہ بڑھو،ان کی بے ادبی دراصل اللہ تعالیٰ کی بے ادبی ہے۔( شان حبیب الرحمٰن،ص۲۲۴-۲۲۵، ملخصاً)

(3)…حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خادم کی حیثیت سے یا کسی ضرورت کی بنا پر آپ سے اجازت لے کر آگے بڑھنا اس ممانعت میں  داخل نہیں  ہے ،لہٰذا اَحادیث میں  جو بعض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کا نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آگے آگے چلنا مذکور ہے وہ اس آیت میں  داخل نہیں  کیونکہ ان کا چلنا خادم کی حیثیت سے تھا، یونہی حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا امامت کروانابھی اس میں  داخل نہیں  کیونکہ آپ کا یہ عمل حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اجازت سے تھا۔

(4)…علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :علماءِ کرام چونکہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں  اس لئے ان سے آگے بڑھنا بھی اس ممانعت میں  داخل ہے اور اس کی دلیل حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی وہ روایت ہے جس میں  آپ فرماتے ہیں:حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے آگے چلتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا’’اے ابو دردائ!کیا تم اس کے آگے چلتے ہو جو تم سے بلکہ ساری دنیا سے افضل ہے ۔( روح البیان ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۹ / ۶۲)

            یا درہے کہ یہ ادب ان علماءِ کرام کے لئے ہے جو اہلِ حق اور با عمل ہیں  کیونکہ یہی علماء در حقیقت انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث ہیں  جبکہ بد مذہبوں  کے علماء اور بے عمل عالِم اس ادب کے مستحق نہیں  ہیں ۔

(5)… بعض ادب والے لوگ بزرگوں  یا قرآن شریف کی طرف پیٹھ نہیں  کرتے، ان کے اس عمل کا ماخَذ یہ آیت ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اپنی آوازیں  اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی)کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّاکر نہ کہو جیسے آپس میں  ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں  تمہارے عمل اَکارت نہ ہوجائیں  اور تمہیں  خبر نہ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو اور ان کے حضور زیادہ بلند آواز سے کوئی بات نہ کہو جیسے ایک دوسرے کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے ہو کہ کہیں  تمہارے اعمال بربادنہ ہوجائیں  اور تمہیں  خبرنہ ہو۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ: اے ایمان والو! اپنی آوازیں  نبی کی آواز پر اونچی نہ کرو۔} اس آیت ِمبارکہ میں  بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں  کواپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دو عظیم آداب سکھائے ہیں ،پہلا ادب یہ ہے کہ اے ایمان والو! جب نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تم سے کلام فرمائیں  اور تم ان کی بارگاہ میں کچھ عرض کرو تو تم پر لازم ہے کہ تمہاری آواز ان کی آواز سے بلند نہ ہو بلکہ جو عرض کرنا ہے وہ آہستہ اور پَست آواز سے کرو ۔دوسرا ادب یہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ندا کرنے میں  ادب کا پورا لحاظ رکھو اور جیسے آپس میں  ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو اس طرح نہ پکارو بلکہ تمہیں  جو عرض کرنا ہو وہ ادب و تعظیم اور توصیف وتکریم کے کلمات اور عظمت والے اَلقاب کے ساتھ عرض کرو جیسے یوں  کہو: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یا نَبِیَّ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیونکہ ترکِ ادب سے نیکیوں  کے برباد ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کی تمہیں  خبر بھی نہ ہو گی ۔( قرطبی ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۸ / ۲۲۰ ،  الجزء السادس عشر)

            مفسرین نے اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں  مختلف روایات ذکر کی ہیں  ،ان میں  سے چندروایت درج ذیل ہیں :

(1)…حضرت ابن اَبی مُلیکہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : دو بہترین حضرات ہلاک ہونے کے قریب جا پہنچے تھے، ہُوا یوں  کہ حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  اس وقت اپنی آوازیں  اونچی کر دی تھیں  جب بنو تمیم کے سوار بارگاہِ رسالت میں  حاضر ہوئے تھے ،اُن میں  سے ایک صاحب نے بنی مجاشع کے بھائی اقرع بن حابس کی طرف اشارہ کیا(کہ انہیں  ان کی قوم کا حاکم بنا دیاجائے) اور دوسرے نے ایک اور شخص کی جانب اشارہ کیا۔حضرت ابو بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے کہا:آپ(یہ کہہ کر) میری مخالفت کرنا چاہتے ہیں  ۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے کہا:میں  تو آپ کی مخالفت کرنا نہیں  چاہتا۔ یہ گفتگو کرتے ہوئے ان دونوں  حضرات کی آوازیں  بلند ہو گئیں ،اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ۔۔۔الایہ‘‘۔ (بخاری ،  کتاب التفسیر ،  باب لا ترفعوا اصواتکم... الخ ،  ۳ / ۳۳۱ ،  الحدیث: ۴۸۴۵)

            صحیح بخاری شریف کی دوسری روایت میں  ہے ،حضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے یہی واقعہ مروی ہے ،البتہ اس کے آخر میں  یہ ہے کہ ’’اس گفتگو کے دوران ان کی آوازیں  بلند ہو گئیں  تو اس معاملے میں  یہ آیت نازل ہوئی ’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا‘‘ یہاں  تک کہ آیت (’’ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘ تک) پوری ہوگئی۔(بخاری ،  کتاب



Total Pages: 250

Go To