Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

فرمائے، اگر کبھی مسلمان شکست کھا جائیں  تو یا ان کی اپنی غلطی ہو گی یا اس میں  اللہ تعالیٰ کی خا ص حکمت ہو گی اور یہ شکست بھی عارضی ہو گی۔اس سے معلوم ہوا کہ بہت دفعہ مسلمانوں  کا مغلوب ہو جانا اس آیت کے خلاف نہیں  ہے اور کافروں  کے غلبے کو بنیاد بنا کر اس آیت پر اعتراض نہیں  کیا جاسکتا۔

وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَیْهِمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہی ہے جس نے اُن کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے وادی مکہ میں  بعد اس کے کہ تمہیں  ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ  تمہارے کام دیکھتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے وادیٔ مکہ میں  کافروں  کے ہاتھ تم سے روک دئیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئیے حالانکہ اللہ نے تمہیں  ان پر قابو دے دیا تھا اور اللہ  تمہارے کام دیکھتا ہے۔

{وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ: اور وہی ہے جس نے کافروں  کے ہاتھ تم سے روک دئیے۔} ارشاد فرمایا: اللہ وہی ہے جس نے وادیٔ مکہ میں کافروں  کے ہاتھ تم سے( لڑائی کرنے سے) روک دئیے اور تمہارے ہاتھ ان کافروں  (کو قتل کرنے )سے روک دئیے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں  ان کافروں پر قابو دے دیا تھا( اور تم انہیں  آسانی سے قتل کر سکتے تھے،اگر تم انہیں  قتل کر دیتے تو دونوں  طرف سے لڑائی چھڑ جاتی اور اس لڑائی میں  اگرچہ مسلمان ہی غالب آتے لیکن اس موقع پر یہ مسلمانوں  کے حق زیادہ مفید نہ ہوتی ،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جنگ کا سبب پیدا ہی نہ ہونے دیا) اور اللہ تعالیٰ تمہارے کام دیکھتا ہے۔بعض مفسرین کے نزدیک یہ معاملہ فتحِ مکہ کے دن ہوا اور اسی سے امامِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ مکہ مکرمہ صلح سے نہیں  بلکہ قوت سے فتح ہوا تھا اور بعض مفسرین کے نزدیک صلحِ حدیبیہ کے موقع پر ایسا ہوا۔( مدارک ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۱۱۴۵)

            اور اس آیت کے شانِ نزول سے متعلق حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ اہلِ مکہ میں  سے80 ہتھیار بند جوان جبلِ تنعیم سے مسلمانوں  پر حملہ کرنے کے ارادہ سے اُترے ،مسلمانوں  نے انہیں  گرفتار کرکے سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضرکر دیا حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے معاف فرمایا اور چھوڑ دیا،اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔( در منثور ،  الفتح ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۷ / ۵۲۷ ،  خزائن العرفان، الفتح، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۹۴۴)

هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْهَدْیَ مَعْكُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّهٗؕ-وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْهُمْ اَنْ تَـطَــٴُـوْهُمْ فَتُصِیْبَكُمْ مِّنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍۚ-لِیُدْخِلَ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُۚ-لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ وہ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا اور تمہیں  مسجد ِحرام سے روکا اور قربانی کے جانور رُکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں  جن کی تمہیں  خبر نہیں  کہیں  تم اُنہیں  روند ڈالو تو تمہیں  اُن کی طرف سے انجانی میں  کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں  ان کے قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ  اپنی رحمت میں  داخل کرے جسے چاہے اگر وہ جدا ہوجاتے تو ہم ضرور ان میں  کے کافروں  کو دردناک عذاب دیتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ وہی لوگ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا اور تمہیں  مسجدحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں  کو (روکا) اس حال میں  کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچنے سے رُکے ہوئے تھے اور اگر (مکہ میں ) کچھ مسلمان مرد اورمسلمان عورتیں  نہ ہوتے جن کی تمہیں  خبر نہیں (اور یہ بات نہ ہوتی) کہ تم انہیں روند ڈالو گے پھر تمہیں  ان کی طرف سے لاعلمی میں کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے گی(تو ہم تمہیں  کفارِ مکہ سے جہاد کی اجازت دیدیتے۔ ان کا یہ بچاؤ) اس لیے ہے کہ اللہ  اپنی رحمت میں  داخل کرتاہے جسے چاہتا ہے۔ اگر مسلمان (وہاں  سے)ہٹ جاتے تو ہم ضرور ان میں  سے کافروں  کو دردناک عذاب دیتے۔

{هُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: وہ وہی لوگ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا۔} یعنی کفار ِمکہ وہی لوگ ہیں  جنہوں  نے کفر کیا اور تمہیں  حدیبیہ کے مقام پر مسجدِحرام تک پہنچنے اور کعبہ مُعَظَّمہ کا طواف کرنے سے روکا اور قربانی کے جانوروں  کو حرم میں  موجود اس مقام پر پہنچنے سے روکا جہاں  انہیں  ذبح کیا جانا تھااور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں  مکہ مکرمہ میں  موجود ہیں  جنہیں  تم پہچانتے نہیں  اور کہیں  ایسا نہ ہو کہ اپنے حملے میں تم انہیں  بھی روند ڈالو،پھر تمہیں  اس پر افسوس ہو کہ تم نے اپنے ہاتھوں  اپنے مسلمان بھائیوں  کو شہید کردیا، اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم تمہیں  اہلِ مکہ سے جہاد کی  اجازت دیدیتے لیکن مسلمان مَردوں ،عورتوں  کی مکہ میں  موجودگی کی وجہ سے ابھی تک مکہ کے کافروں  کی بھی بچت ہورہی ہے اور ان کا یہ بچاؤ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں  داخل کرتاہے ۔ اگر مسلمان کافروں  سے ممتاز ہو جاتے تو اس وقت ہم ضرور اہلِ مکہ میں  سے کافروں  کو تمہارے ہاتھ سے قتل کراکے اور تمہاری قید میں  لا کر دردناک عذاب دیتے۔( خازن ، الفتح ، تحت الآیۃ:۲۵ ، ۴ / ۱۵۹-۱۶۰ ،  جلالین مع صاوی ، الفتح ، تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۵ / ۱۹۷۸-۱۹۷۹ ،  ملتقطاً)

 نیک بندوں  کے طفیل بدکاروں  سے عذاب ٹل جاتا ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیک بندوں  کے طفیل بدکاروں  سے عذاب ٹل جاتا ہے جیسے آیت میں  مسلمانوں  کی وجہ سے کافروں  سے عذاب کے مُؤخّر ہونے کا تذکرہ ہے اور یہ معاملہ صرف دنیا میں  نہیں  بلکہ مسلمان گناہگاروں  کے حق میں  قبر و آخرت میں  بھی نیکوں  کے قرب کی برکتیں  ہوتی ہیں ،اسی مناسبت سے یہاں  ایک حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :میں  نے حضرت میاں  صاحب قبلہ قُدِّسَ سِرُّہٗ، کو فرماتے سنا:ایک جگہ کوئی قبر کھل گئی اور مردہ نظر آنے لگا ۔ دیکھا کہ گلاب کی دو شاخیں  اس کے بد ن سے لپٹی ہیں  اور گلاب کے دو پھول اس کے نتھنو ں  پر رکھے ہیں  ۔ اس کے عزیزوں  نے اِس خیال سے کہ یہاں  قبر پانی کے صدمہ سے کھل گئی، دوسری جگہ قبر کھود کر اس میں  رکھیں ، اب جو دیکھیں  تو دو اژدھے اس کے بدن سے لپٹے اپنے پَھنوں  سے اس کا منہ بھموڑ رہے ہیں ، حیران ہوئے ۔ کسی صاحبِ دل سے یہ واقعہ بیان کیا ، انہوں  نے فرمایا : وہاں  بھی یہ اژدھا ہی تھے مگر ایک وَلِیُّ اللہ کے مزار کا قرب تھا اس کی برکت سے وہ عذاب رحمت ہوگیا تھا، وہ اژدھے درخت ِگُل کی شکل ہوگئے تھے اور ان کے پَھن گلاب کے پھول۔ اِس کی خیریت چاہو تو وہیں  لے جاکر دفن کرو ۔ وہیں  لے جاکر رکھا پھر وہی درختِ گل تھے اور وہی گلاب کے پھول ۔( ملفوظات اعلیٰ حضرت،حصہ دوم، ص۲۷۰)

 



Total Pages: 250

Go To