Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

نیک اور بد سبھی کھاتے ہیں ۔ آگاہ رہو کہ آخرت سچا وعدہ ہے جس میں  قدرت والا بادشاہ فیصلہ فرمائے گا۔ خبردار! ساری راحت اپنے کناروں  سمیت جنت میں  ہے اور پوری مصیبت اپنے کناروں  سمیت جہنم کی آگ میں  ہے ۔ خبر دار! تم اللہ سے ڈرتے ہوئے نیک عمل کیا کرو (کہ نہ معلوم یہ عمل قبول ہوں  یا نہ ہوں ) اور یاد رکھو! تم پر تمہارے اعمال پیش کیے جائیں  گے توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھ لے گا۔(سنن الکبری للبیہقی ،  کتاب الجمعۃ ،  باب کیف یستحبّ ان تکون الخطبۃ ،  ۳ / ۳۰۶ ،  الحدیث: ۵۸۰۸)

            اس لئے ہمیں  چاہئے کہ ہم اس باقی رہ جانے والے عرصے کو غنیمت جانتے ہوئے فوری طور پر اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دئیے ہوئے احکامات پرعمل پیراہوجائیں  اور جن چیزوں  سے ہمیں  منع کیا گیا ہے ان سے بازآ جائیں  اور دنیا کی قلیل زندگی سے دھوکہ کھا کر اپنی آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی کو خراب نہ کر لیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں  نیک اعمال میں  جلدی کرنے اور تاخیر کی آفت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَاۚ-وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَاۙ-وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّؕ-اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اس کی جلدی مچارہے ہیں  وہ جو اس پر ایمان نہیں  رکھتے اور جنھیں  اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈر رہے ہیں  اورجانتے ہیں  کہ بے شک وہ حق ہے سنتے ہو بے شک جو قیامت میں  شک کرتے ہیں  ضرور دُور کی گمراہی میں  ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: قیامت کی جلدی مچارہے ہیں  وہ جو اس پر ایمان نہیں  رکھتے اورجو ایمان والے ہیں  وہ اس سے ڈر رہے ہیں  اورجانتے ہیں  کہ بیشک وہ حق ہے۔سن لو! بیشک قیامت کے بارے میں  شک کرنے والے ضرور دُور کی گمراہی میں  ہیں۔

{یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا: قیامت کی جلدی مچارہے ہیں  وہ جو اس پر ایمان نہیں  رکھتے۔} ارشاد فرمایا کہ قیامت پر ایمان نہ لانے والے اس کے قائم ہونے کی جلدی مچارہے ہیں  کیونکہ وہ یہ گمان کرتے ہیں  کہ قیامت قائم ہونے والی ہی نہیں  ،اسی لئے وہ مذاق اڑانے کے طور پر جلدی مچاتے ہیں  اورایمان والے ثواب ملنے کی توقُّع کے باوجود قیامت سے ڈر رہے ہیں  اوراس کی ہَولْناکیوں  سے کانپ رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں  کہ بیشک قیامت حق ہے اور اس کے آنے میں  کوئی شک نہیں  اسی لئے وہ اس کی تیاری کر رہے ہیں  اور اس دن کے لئے نیک اعمال کرنے میں  مصروف ہیں ۔سن لو! بیشک قیامت کے بارے میں  شک کرنے والے ضرور دور کی گمراہی میں  ہیں  کیونکہ قیامت قائم کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی بعید نہیں ۔(مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ:۱۸ ،  ص۱۰۸۵ ،  ابن کثیر ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۷ / ۱۸۰ ،  خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۴ / ۹۳ ،  ملتقطاً)

          قیامت پر ایمان رکھنے والے کو چاہئے کہ وہ نیک اعمال کر کے اس دن کی تیاری کرنے میں  مصروف رہے۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :میں  نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مکانِ عالیشان میں آپ کے پاس تھا تو ایک شخص نے سوال کیا: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قیامت کب آئے گی؟نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک وہ ضرور قائم ہو گی تو تم نے ا س کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ اس شخص نے عرض کی:میں  نے بہت زیادہ نیک عمل تو نہیں  کئے البتہ میں  اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے محبت رکھتا ہوں ۔ ارشاد فرمایا’’بے شک تم انہی کے ساتھ ہو گے جن سے تم محبت رکھتے ہو اور تمہیں  وہی ثواب ملے گا جس کی تم امید رکھتے ہو۔( مسند امام احمد ،  مسند انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ ،  ۴ / ۴۵۰ ،  الحدیث: ۱۳۳۶۱)

             اس حدیث ِپاک سے بھی معلوم ہو اکہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سوال کرنے والے شخص کو قیامت کے وقت کے بارے میں  نہیں  بتایا بلکہ اسے قیامت کے دن کی تیاری کرنے کاحکم ارشاد فرمایا۔

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہاپنے بندوں  پر لطف فرماتا ہے جسے چاہے روزی دیتا ہے اور وہی قوت و عزت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ اپنے بندوں  پر لطف فرمانے والا ہے،جسے چاہتا ہے روزی دیتا ہے اور وہی قوت والا، عزت والا ہے۔

{اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ: اللہ اپنے بندوں  پر لطف فرمانے والا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں  پر بے شمار احسانات کرتا ہے اور اس کے احسانات کے دائرے میں  نیک اور بد سبھی داخل ہیں  حتّٰی کہ بندے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں  میں  مشغول رہتے ہیں  اس کے باوجود وہ انہیں  بھوک سے ہلاک نہیں  کرتا۔اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی حکمت کے تقاضوں  کے مطابق روزی دیتا ہے اور وسعت ِعیش عطا فرماتا ہے اور اس میں  مؤمن اور کافر سبھی داخل ہیں ۔( خازن ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۴ / ۹۳-۹۴)

رزق کی وسعت اور تنگی حکمت کے مطابق ہے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض بندوں  کو زیادہ اور بعض کو کم رزق عطا فرماتا ہے اور اس وسعت اور تنگی میں  اللہ تعالیٰ کی بے شمار حکمتیں  ہیں  ۔ اسی سورت میں  ایک اور مقام پر اس کی ایک حکمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ‘‘(شوری:۲۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر اللہ اپنے سب بندوں  کیلئے رزق وسیع کردیتا تو ضرور وہ زمین میں  فساد پھیلاتے لیکن اللہ اندازہ سے جتنا چاہتا ہے اتارتا ہے ، بیشک وہ اپنے بندوں  سے خبردار (ہے، انہیں ) دیکھ رہاہے۔

             اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بعض مؤمن بندے ایسے ہیں  کہ مالداری اُن کے ایمان کی قوت کا باعث ہے اگر میں  انہیں  فقیر محتاج کردوں  تو اُن کے عقیدے فاسد ہوجائیں  اور بعض بندے ایسے ہیں  کہ تنگی اور محتاجی ان کے ایمان کی قوت کا باعث ہے، اگر میں  انہیں  غنی مالدار کردوں  تو اُن کے عقیدے خراب ہوجائیں ۔( تاریخ بغداد ،  حرف الالف من آباء الابراہیمین ،  ۳۰۴۴-ابراہیم بن احمد بن الحسن۔۔۔ الخ ،  ۶ / ۱۴-۱۵)

            لہٰذا جسے رزق میں  تنگی کا سامنا ہے وہ یہ نہ سوچے کہ فلاں  شخص کو اتنا مال ملا ہے،فلاں  کو اتنی دولت عطا ہوئی ہے جبکہ میں  رزق کے معاملے میں  تنگیوں  کا سامنا کر رہا ہوں  بلکہ



Total Pages: 250

Go To