Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: ہم تمہارے دوست ہیں  دنیا کی زندگی میں  اور آخرت میں  اور تمہارے لیے ہے اس میں  جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں  جو مانگو۔  مہمانی بخشنے والے مہربان کی طرف سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم دنیا کی زندگی میں  اور آخرت میں  تمہارے دوست ہیں  اور تمہارے لیے جنت میں  ہر وہ چیز ہے جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے اس میں  ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو۔ بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔

{نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ: ہم تمہارے دوست ہیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ فرشتے ایمان والوں  کو جنت کی بشارت دینے کے ساتھ یہ کہیں  گے کہ ہم تمہارے دوست ہیں  ،دنیا کی زندگی میں  ہم تمہاری حفاظت کرتے تھے اور آخرت میں  بھی تمہارے ساتھ رہیں  گے اور جب تک تم جنت میں  داخل نہ ہو جاؤ تب تک تم سے جدا نہ ہوں  گے اور تمہارے لیے جنت میں  ہر وہ کرامت ، نعمت اور لذّت ہے جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے اس میں  ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو۔یہ اس رب تعالیٰ کی طرف سے تمہاری مہمانی ہے جو بڑے بڑے گناہوں  کو بخشنے والا، گناہوں  کو اپنی رحمت سے نیکیوں  میں  تبدیل فرما دینے والا اور اطاعت گزار مومنوں  پر خاص رحم فرمانے والا ہے۔( جلالین،فصلت، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۲، ص۳۹۹، خازن، فصلت، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۲، ۴ / ۸۵-۸۶، روح البیان، حم السجدۃ، تحت الآیۃ: ۳۱-۳۲، ۸ / ۲۵۶-۲۵۷، ملتقطاً)

جنتی نعمتوں  کے بارے میں  ایک حدیث ِپاک:

            یہاں  جنت کی نعمتوں  کے بارے میں  ایک حدیثِ پاک ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’ جنتی اپنی مجلس میں  ہوں  گے کہ ان کے لیے جنت کے دروازے پرایک نورظاہرہوگا۔وہ اپناسراٹھائیں  گے توکیادیکھیں  گے کہ ان کا رب عَزَّوَجَلَّ جلوہ فرماہے۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرمائے گا’’اے جَنّتیو!مجھ سے مانگو۔وہ عرض کریں  گے:ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں  کہ توہم سے راضی ہوجا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا’’میری رضانے ہی توتمہیں  میرے اس گھرمیں  اتاراہے اور تمہیں  یہ عزت دی ہے،تو تم مجھ سے (کچھ اور) مانگو۔جنتی عرض کریں  گے: ہم تجھ سے مزید نعمتوں کاسوال کرتے ہیں ۔ توانہیں  سرخ یاقوت کے گھوڑے عطا کیے جائیں  گے جن کی لگامیں  سبززَبَرْجَد اورسرخ یاقوت کی ہوں  گی، وہ جنتی ان پر سوار ہوں گے اوروہ گھوڑے اپنے قدم حد ِنگاہ پر رکھیں  گے ۔اللہ تعالیٰ درختوں  کو حکم دے گا تو ان پر پھل آ جائیں  گے اور جنتیوں  کے پاس حورِعِین آئیں  گی، جو کہیں  گی: ہم نرم ونازک ہیں  اورہم سخت نہیں ہیں  ،ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں  ہم پرموت نہیں  آتی اور معزز لوگوں کی بیویاں  ہیں  ۔اللہ تعالیٰ کستوری کے ٹیلے کوحکم دے گاجوسفید اورمہکتاہوگا،تووہ ان پرخوشبوبکھیردے گاجسے مثیرہ کہتے ہیں  یہاں  تک کہ فرشتے انہیں  جنت ِعدن میں لے جائیں  گے جو جنت کاوَسط ہے ۔فرشتے کہیں  گے: اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، لوگ حاضرہوگئے ہیں  ،تو کہا جائے گا:صادقین کوخو ش آمدید !اطاعت گزاروں  کو خوش آمدید!توان کے لیے حجاب اٹھادیاجائے گا،وہ اللہ تعالیٰ کادیدارکریں  گے اور رحمٰن کے نورسے لطف اٹھائیں  گے یہاں  تک کہ وہ ایک دوسرے کو نہیں  دیکھیں  گے، پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا’’تم اپنے محلات کی طرف تحائف کے ساتھ واپس لوٹ جاؤ۔ وہ اس حال میں  واپس لوٹیں  گے کہ ایک دوسرے کودیکھ رہے ہوں  گے۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’نُزُلًا مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ‘‘ کا یہی مفہوم ہے ۔( البعث و النشور للبیہقی ، باب قول اللّٰہ عزّوجل : و للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ ، ص۲۶۲، الحدیث: ۴۴۸، حلیۃ الاولیائ، ذکر طوائف من النساک والعباد، الفضل بن عیسی الرقاشی، ۶ / ۲۲۶)

وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں  مسلمان ہوں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے کہ بیشک میں  مسلمان ہوں ۔

{وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کے جو اَقوال ذکر فرمائے گئے، ان سے معلوم ہوتا تھا کہ کفارسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دعوتِ حق سے بہت زیادہ منہ موڑتے ہیں ،جیسے کافروں  نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا: ہمارے دل اس بات سے پردوں  میں  ہیں  جس کی طرف تم ہمیں  بلاتے ہو۔( حم السجدہ:۵)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم آپ کی بات کو قبول نہیں  کرتے اور نہ ہی آپ کی دی ہوئی دلیل کی طرف متوجہ ہوں  گے۔ یونہی کافروں  نے اپنی جہالت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں  سے کہا کہ’’اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں  فضول شوروغل کرو۔( حم السجدہ:۲۶) اور اب گویا کہ یہاں  سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کافروں  نے اگرچہ آپ سے بہت دل آزاری والی باتیں  کی ہیں  لیکن آپ ان کی باتوں  اور جاہلانہ حرکتوں  کی پرواہ نہ فرمائیں  اور مسلسل تبلیغ فرماتے رہیں  کیونکہ دین حق کی دعوت دینا سب سے بڑی عبادت اور سب سے اہم اطاعت ہے اور اس سے زیادہ کسی کی بات اچھی نہیں  جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں  مسلمان ہوں ۔( تفسیرکبیر، فصلت، تحت الآیۃ: ۳۳، ۹ / ۵۶۲، ملتقطاً)

            یہاں  دعوت دینے والے سے کون مراد ہے،اس کے بارے میں  مفسرین کا ایک قول تو یہی ہے کہ اس سے مراد حضورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے وہ مومن مراد ہے جس نے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی دعوت کو قبول کیا اور دوسروں  کو نیکی کی دعوت دی ،اورحضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت مُؤذِّنوں  کے حق میں  نازل ہوئی، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو کوئی کسی طریقے پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے، وہ اس آیت میں  داخل ہے ۔( خازن، فصلت، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴ / ۸۶)

اللہ تعالٰی کی طرف بلانے کے مَراتب:

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے کئی مرتبے ہیں ،

 



Total Pages: 250

Go To