Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! نبی کے گھروں  میں  نہ حاضر ہو جب تک اجازت نہ ہو جیسے کھانے کیلئے بلایا جائے۔ یوں  نہیں  کہ خود ہی اس کے پکنے کاانتظار کرتے رہو۔ ہاں  جب تمہیں  بلایا جائے تو داخل ہوجاؤ پھرجب کھانا کھا لوتو چلے جاؤ اور یہ نہ ہو کہ باتوں  سے دل بہلاتے ہوئے بیٹھے رہو۔ بیشک یہ بات نبی کو ایذادیتی تھی تو وہ تمہارا لحاظ فرماتے تھے اور اللہ حق فرمانے میں  شرماتا نہیں  اور جب تم نبی کی بیویوں  سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہرسے مانگو ۔ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں  کیلئے یہ زیادہ پاکیزگی کی بات ہے اور تمہارے لئے ہرگز جائز نہیں  کہ رسولُ اللہ کو ایذا دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد کبھی ان کی بیویوں  سے نکاح کرو ۔بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑی سخت بات ہے۔       ان آیات میں  دئیے گئے اَحکام سے صاف واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و تعظیم انتہائی مطلوب ہے اور ان کا ادب و تعظیم نہ کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  انتہائی سخت ناپسندیدہ ہے حتّٰی کہ اس پر سخت وعیدیں  بھی ارشاد فرمائی ہیں  ،اسی سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب وتعظیم کرنا شرک ہر گز نہیں  ہے ،جو لوگ اسے شرک کہتے ہیں  ان کا یہ کہنا مردود ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں  :

شرک ٹھہرے جس میں  تعظیمِ حبیب    اس بُرے مذہب پہ لعنت کیجئے

صحابہ ٔکرام ا ور تعظیم ِمصطفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:

            صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ وہ عظیم ہستیاں ہیں  جنہوں  نے اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ اقدس سے اللہ تعالیٰ کے وہ اَحکام سنے جن میں  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام کرنے کا فرمایاگیا ہے،اسی لئے ان عالی شان ہستیوں  نے اللہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم اور ان کی بابرکت بارگاہ کے اد ب و احترام کی انتہائی شاندار مثالیں  رقم کی ہیں  اور اگرچہ انہیں  حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت کا فیض بہت زیادہ حاصل تھا، یونہی یہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے انتہائی شدید محبت بھی کرتے تھے اس کے باوجود تعظیم و توقیر میں  کوتا ہی اور تقصیر کے کبھی مُرتکِب نہیں  ہوتے تھے بلکہ ہمیشہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم و توقیر میں  اضافہ ہی کرتے تھے ،جیسے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہترین اَلقاب کے ساتھ ، انتہائی عاجزی سے او ر آپ کے مرتبہ و مقام کی انتہائی رعایت کرتے ہوئے خطاب کرتے تھے اور جب کلام کرتے تو اس کی ابتداء میں  سلام کے بعد یوں  کہتے ’’فَدَیْتُکَ بِاَبِیْ وَ اُمِّیْ‘‘ میرے ماں  باپ بھی آپ پر فدا ہوں ،یایوں  کہتے ’’ بِنَفْسِیْ اَنْتَ یَارَسُوْل! ‘‘ میری جان آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نثار ہے۔

            حضرت اسامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  کہ میں  بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  حاضر ہو ا تو دیکھا کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے گرد اس طرح (ساکِن)بیٹھے ہوئے تھے گویا ان کے سروں  پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں ۔(شفاء ،  القسم الثانی ،  الباب الثالث ،  فصل فی عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ... الخ ،  ص۳۸ ،  الجزء الثانی)

            یہ تو ان کی اجتماعی تعظیم کا حال تھا اب اِنفرادی تعظیم پر مشتمل دو واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے بارے میں  روایت ہے کہ جب نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے حدیبیہ کے موقع پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو قریش کے پاس بھیجا توقریش نے حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو طوافِ کعبہ کی اجازت دے دی لیکن حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ’’ مَاکُنْتُ لِاَفْعَلَ حَتّٰی یَطُوْفَ بِہٖ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہ وَسَلَّمَ‘‘میں  اس وقت تک طواف نہیں  کرسکتا جب تک کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ طواف نہیں  کرتے۔( شفاء ،  القسم الثانی ،  الباب الثالث ،  فصل فی عادۃ الصحابۃ فی تعظیمہ... الخ ،  ص۳۹ ،  الجزء الثانی)

(2)…غَزْوَہِ خیبر سے واپسی میں  صہبا کے مقام پر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نما زِ عصر پڑھی، اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے (کسی وجہ سے ابھی تک) نماز ِعصر نہ پڑھی تھی ،یہ اپنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے، مگر اس خیال سے کہ زانو سَرکا تا ہوں  تو کہیں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک نیند میں  خَلل نہ آجائے ، زانو نہ ہٹایا، یہاں  تک کہ سورج غروب ہوگیا، جب نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی چشم ِمبارک کھلی تو حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنی نماز کا حال عرض کیا۔ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا فرمائی توسورج پلٹ آیا، حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نمازِ عصر ادا کی، پھر سورج ڈوب گیا۔(شفاء ، القسم الاول ، الباب الرابع ، فصل فی انشقاق القمر ، ص۲۸۴ ، الجزء الاول ، شواہدالنبوہ ، رکن سادس ، ص۲۲۰)

            حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم کی خاطر عبادات میں  سے افضل عبادت نماز اور وہ بھی درمیانی نماز یعنی نمازِ عصرقربان کردی ،نیزہجرت کے موقع پر یار ِغار حضرت ابوبکر صدیق ِاکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے جو جاں  نثاری کی مثال قائم کی ہے وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے اوران واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :

مَولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز        اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلیٰ خَطر کی ہے

صدیق بلکہ غار میں  جان اس پہ دے چکے             اور حفظِ جاں  تو جان فُروضِ غُرَر کی ہے

ہاں  تُو نے اُن کو جان اِنھیں  پھیر دی نماز             پَر وہ تو کر چکے تھے جو کرنی بشر کی ہے

ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فُروع ہیں                    اصل الاصول بندگی اس تاجْوَر کی ہے

            الغرض صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شاہکار تعظیم اور بے مثال ادب و احترام کیا کرتے تھے ،اللہ تعالیٰ ان کے ادب و تعظیم کا صدقہ ہمیں  بھی حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ادب و احترام کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

آیت ’’لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس آیت سے4 مسئلے معلوم ہوئے ،

 



Total Pages: 250

Go To