Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔

( بخاری ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب فضل سورۃ الفتح ،  ۳ / ۴۰۶ ،  الحدیث: ۵۰۱۲)

سورۂ فتح کے مضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  صلحِ حدیبیہ کا واقعہ بیان کیاگیاہے اور مسلمانوں  کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ یہ صلح مکۂ مکرمہ کی فتح کا پیش خیمہ ہے اور اب مسلمانوں  کو کفار پر مکمل غلبہ حاصل ہونے کا وقت قریب ہے اور اس سورت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں  :

(1)…اس سورت کی ابتداء میں  فتحِ مکہ کی بشارت دی گئی اور یہ بتایا گیا کہ اس مہم سے مسلمانوں  کوعظیم کامیابی اور جنت حاصل ہو گی اور یہ مہم ان منافقوں  کے لئے اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی لعنت کا سبب بنی جنہوں  نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  یہ بد گمانی کی کہ وہ مسلمانوں  کو موت کے منہ میں  لے جارہے ہیں  اور اب ان میں  سے کوئی بھی زندہ بچ کر واپس نہیں  آئے گا۔

(2)… حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوصاف بیان کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کوحاضر و ناظر ، خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا ہے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اورحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں  اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعظیم وتوقیر کریں ۔

(3)…منافقوں  کی صفات بیان کی گئیں  اور یہ بتایا گیا کہ جو مسلمان اندھے ،لنگڑے اور بیمار ہیں  وہ اپنے اس عذر کی وجہ سے جہاد میں  شامل نہ ہو سکیں  تو ان پر کوئی حرج نہیں  ،وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں  اللہ تعالیٰ انہیں  جنت عطا فرما دے گا۔

(4)…حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرنے والے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو رضائے الہٰی کی بشارت دی گئی اور مسلمانوں  سے بہت سی غنیمتوں  کا وعدہ فرمایا گیا۔

(5)…حدیبیہ کے مقام پر کفارِ مکہ سے جنگ کی بجائے صلح ہونے میں  مسلمانوں  پر جو اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا وہ بیان کیا گیا اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خواب کی تصدیق اور اس کی تعبیر میں  تاخیر کی حکمت بیان کی گئی ۔

(6)…اس سورت کے آخر میں  بتایاگیا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ہدایت اور دین ِحق کے ساتھ بھیجا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اسے سب دینوں  پر غالب کردے اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے صحابۂ کرام آپس میں  نرم دل جبکہ کافروں  پر سخت ہیں ،نیز نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں  سے مغفرت اور عظیم ثواب کا وعدہ فرمایا گیا۔

سورۂ محمد کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ فتح کی اپنے سے ما قبل سورت ’’سورۂ محمد‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ محمدمیں  جہاد کی کیفیت بتائی گئی کہ جب کفار سے معرکہ آرائی ہو تو انہیں  قتل کیاجائے اور جو قتل ہونے سے بچ جائیں  انہیں  قید کر لیا جائے اور سورۂ فتح میں  اس کیفیت کا نتیجہ اور ثمرہ بیان کیا گیا کہ اس طرح کرنے سے مدد اور فتح حاصل ہو گی ۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں  سورتوں  میں  مسلمانوں ،مشرکوں  اور منافقوں  کی صفات بیان کی گئی ہیں ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔

اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرمادی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔

{اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا: بیشک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا۔} اس آیت میں  صرف نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا گیا ہے اور ا س کا معنی یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک ہم نے آپ کے لئے ایسی فتح کا فیصلہ فرما دیاہے جو انتہائی عظیم ،روشن اور ظاہر ہے۔

          شانِ نزول:حضرت اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :جب ’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘ سے لے کر ’’فَوْزًا عَظِیْمًا‘‘ تک آیات نازل ہوئیں  ا س وقت حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حدیبیہ سے واپس لوٹ رہے تھے اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کو بہت حزن وملال تھا اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حدیبیہ میں  اونٹ نحر فرما دیا تھا، (جب یہ آیات نازل ہوئیں ) تو ارشاد فرمایا: ’’مجھ پرایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہے۔( مسلم ،  کتاب الجہاد والسّیر ،  باب صلح الحدیبیۃ فی الحدیبیۃ ،  ص۹۸۷ ،  الحدیث: ۹۷(۱۷۸۶))

            ترمذی شریف کی روایت میں  ہے،حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ حدیبیہ سے واپسی پرنبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پریہ آیت نازل ہوئی ’’لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا: ’’ آج مجھ پرایسی آیت نازل ہوئی ہے جومجھے روئے زمین پر موجود تمام چیزوں  سے زیادہ محبوب ہے ،پھرنبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی توانہوں  نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کومبارک ہو،بیشک اللہ تعالیٰ نے بیان فرمادیاکہ آپ کے ساتھ کیامعاملہ کیاجائے گالیکن (ابھی تک یہ بیان نہیں  فرمایا گیاکہ) ہمارے ساتھ کیاکیاجائے گا؟ پھرحضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ یُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عِنْدَ اللّٰهِ



Total Pages: 250

Go To