Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترقی کی بلندیوں  کو چھوا اور اسلام کے آخری زمانے میں  بھی ایک وقت ایسا آئے گا جس میں  مسلمان اتنے مالدار ہوجائیں  گے کہ ان میں  بڑی مشکل سے زکوٰۃ لینے والا ملے گا، جیسا کہ حضرت حارِثَہ بن وَہْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ایک شخص اپنا صدقہ لے کر چلے گا تو کوئی اسے قبول کرنے والا نہ ملے گا۔آدمی کہے گا: اگر تم کل لاتے تو میں  لے لیتا لیکن آج مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔( بخاری ،  کتاب الزکاۃ ،  باب الصّدقۃ قبل الرد ،  ۱ / ۴۷۶ ،  الحدیث: ۱۴۱۱)

            آج بھی اگرہمارے معاشرے کے مالدار مسلمان اپنی زکوٰۃ ہی صحیح طورپراپنے ملک کے غریبوں  کودے دیں  توشاید اس ملک میں  کوئی غریب نہ رہے اورغربت کے باعث آج معاشرے میں  جوبدامنی پھیلی ہوئی ہے وہ ختم ہوجائے اورپوراملک امن وسکون کاگہوارہ بن جائے ۔

 بخل کرنے کا دینی اور دنیوی نقصان:

            بخل کرنے کے بہت سے دینی اور دنیوی نقصانات ہیں  ،ہم یہاں  اس کے 5 دینی اور 6 دنیوی نقصانات ذکر کرتے ہیں  تاکہ لوگ بخل کرنے سے بچیں  ،چنانچہ ا س کے دینی نقصانات یہ ہیں  

(1)…بخل کرنے والا کبھی کامل مومن نہیں  بن سکتا بلکہ کبھی بخل ایمان سے بھی روک دیتا ہے اور انسان کو کفر کی طرف لے جاتا ہے ،جیسے قارون کو اس کے بخل نے کافر بنا دیا۔

(2)…بخل کرنے والا گویا کہ اس درخت کی شاخ پکڑ رہا ہے جو اسے جہنم کی آگ میں  داخل کر کے ہی چھوڑے گی۔

(3)…بخل کی وجہ سے جنت میں  داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

(4)…بخل کرنے والا مال خرچ کرنے کے ثواب سے محروم ہوجاتا اور نہ خرچ کرنے کے وبال میں  مبتلا ہو جاتا ہے۔

(5)…بخل کرنے والا حرص جیسی خطرناک باطنی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے اور اس پر مال جمع کرنے کی دھن سوار ہو جاتی ہے اور ا س کیلئے وہ جائز ناجائز تک کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

            اور بخل کے دنیوی نقصانات یہ ہیں :

(1)…بخل آدمی کی سب سے بدتر خامی ہے۔

(2)…بخل ملامت اور رسوائی کا ذریعہ ہے۔

(3)…بخل خونریزی اور فساد کی جڑ اور ہلاکت وبربادی کا سبب ہے ۔

(4)…بخل ظلم کرنے پر ابھارتا ہے۔

(5)…بخل کرنے سے رشتہ داریاں  ٹوٹتی ہیں  ۔

(6)…بخل کرنے کی وجہ سے آدمی مال کی برکت سے محروم ہوجاتا ہے۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنی راہ میں  مال خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور بخل جیسی بد ترین باطنی بیماری سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔

{وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا: اور اگر تم منہ پھیرو گے۔} علامہ احمدصاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :آیت کے اس حصے میں  صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ سے خطاب ہے(اگر ایسا ہے) تو (یہ تبدیلی بالفعل حاصل نہیں  ہوئی بلکہ) اس سے مقصود محض ڈرانا ہے کیونکہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ (کو یہ مقام حاصل ہے کہ ان) کے بعد کوئی شخص بھی ان کے رتبے تک نہیں  پہنچ سکتا اور شرط کے لئے یہ ضروری نہیں  کہ اس کا وقوع بھی ہو (یعنی جیسے کوئی اپنے نوکر سے کہے کہ اگر تم نے صحیح کام نہ کیا تو میں  تمہیں  نوکری سے نکال دوں  گا تو اس کہنے کے بعد ضروری نہیں  کہ نوکر غلط کام ضرور کرے گابلکہ یہ محض سمجھانا تھا)۔ یا یہاں  خطاب منافقوں  سے ہے،(اگر ایسا ہے) تو یہ تبدیلی بالفعل ہوئی ہے (اور ان کی جگہ دوسرے لوگ آئے ہیں  جو ان جیسے نہ تھے بلکہ مخلص اور انتہائی اطاعت گزار مومن تھے۔)( صاوی ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۵ / ۱۹۶۴)

سورۂ فتح

سورۂ فتح کاتعارف

مقامِ نزول:

             سورۂ فتح مدینۂ منورہ میں  نازل ہوئی ہے۔

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس میں  4رکوع اور29آیتیں ہیں ۔

’’ فتح ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

           اس سورتِ مبارکہ کی پہلی آیت میں حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو روشن فتح کی بشارت دی گئی ، اس مناسبت سے اس سورئہ مبارکہ کانام ’’سورۂ فتح‘‘ ہے ۔

سورۂ فتح کی فضیلت:

            حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  :ایک سفر کے دوران میں  نے حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہو کر سلام عرض کیا ،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’آج رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان تمام چیزوں  سے زیادہ پیاری ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے،پھر آپ نے(اس سورت کی) یہ آیت تلاوت فرمائی:

’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘

 



Total Pages: 250

Go To