Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک جنہوں  نے کفرکیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعدکہ ان کیلئے ہدایت بالکل ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہیں  پہنچا سکیں  گے اور بہت جلد اللہ ان کے اعمال برباد کردے گا۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ: بیشک جنہوں  نے کفرکیا اور اللہ کی راہ سے روکا ۔} بعض مفسّرین کے نزدیک اس آیت میں  منافقوں  کے بارے میں  ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک وہ لوگ جنہوں  نے (ظاہری طور پر اسلام کا دعویٰ کیا اور باطنی طور پر) کفرکیا اور لوگوں  کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جوجہاد کرنے کا کہا اور اس کے علاوہ جو احکام دئیے اس میں  ان کی مخالفت کی حالانکہ ان کے سامنے ہدایت کے دلائل اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صداقت بالکل ظاہر ہوچکی تھی، وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں  پہنچا سکیں  گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ کوئی اسے نقصان پہنچا سکے بلکہ وہ لوگ ایسا کر کے اپنی ہی جانوں  کو نقصان پہنچا رہے ہیں  اور بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کے ظاہری نیک اعمال برباد کردے گا تو وہ آخرت میں  ان اعمال کا کوئی ثواب نہ دیکھیں  گے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہ کئے گئے تھے اور جو کام اللہ تعالیٰ کے لئے نہ ہو اس کا ثواب ہی کیا ؟

            بعض مفسّرین نے اس آیت کا شانِ نزول یہ بیان کیا ہے کہ جب کفارِ قریش جنگ ِبدر کے لئے نکلے تو وہ سال قحط کا تھا اور لشکر کا کھانا قریش کے دولت مند افراد نے ہرہر پڑاؤ پر اپنے ذمہ لے لیا تھا۔ مکۂ مکرمہ سے نکل کر سب سے پہلا کھانا ابوجہل کی طرف سے تھا جس کے لئے اس نے دس اونٹ ذبح کئے تھے ، پھر صَفْوان نے عُسْفان کے مقام میں  نواونٹ ، پھر سَہْل نے قُدَیْد کے مقام میں  دس اونٹ ذبح کئے ، یہاں  سے وہ لوگ سمندر کی طرف پھر گئے اور رستہ گُم ہوگیا تو ایک دن ٹھہرے رہے ،وہاں  شَیْبَہ کی طرف سے کھانا ہوا اور نو اونٹ ذبح ہوئے ، پھراَبْواء کے مقام میں  پہنچے ، وہاں  مِقْیَس جُمَحِی نے نو اونٹ ذبح کئے ۔ حضرت عباس کی طرف سے بھی دعوت ہوئی ، اس وقت تک آپ مشرف بہ اسلام نہ ہوئے تھے ، آپ کی طرف سے دس اونٹ ذبح کئے گئے ، پھر حارث کی طرف سے نو ، اور ابوالبَخْتَرِی کی طرف سے بدر کے چشمے پر دس اونٹ ذبح ہوئے ۔ ان کھانا دینے والوں  کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی۔اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہو گا کہ بیشک وہ لوگ جنہوں  نے خود کفرکیا اور دوسروں  کو اللہ تعالیٰ کے دین اسلام میں  داخل ہونے سے روکا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کا حق ہونا بالکل ظاہر ہونے کے بعد ان کی مخالفت کی، وہ اپنے کفر اور لوگوں  کو روکنے کے ذریعے ہرگز اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں  پہنچا سکیں  گے اور بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کے وہ اعمال برباد کردے گا جو انہوں  نے اللہ تعالیٰ کے دین کو مٹانے اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت میں  کئے ہیں ، چنانچہ وہ اپنے مقاصد کو پورا نہیں  کر سکیں  گے ۔(قرطبی  ،  محمد  ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۸ / ۱۸۲ ،  الجزء السادس عشر ،  خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۴ / ۱۴۲ ،  صاوی ،  محمد  ،  تحت الآیۃ : ۳۲  ،  ۵  /  ۱۹۶۲  ،  مدارک  ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ص۱۱۳۸ ،  روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۸ / ۵۲۲ ،  ملتقطاً)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال باطل نہ کرو۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ: اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو۔} اس سے پہلی آیت میں  بیان ہوا کہ کافروں  نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت کی اور اس آیت میں  ایمان والوں  کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرتے رہیں ، چنانچہ اس آیت میں  پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اے ایمان والو!تم جواللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ہو اور ان کی اطاعت کرتے ہو اس ایمان اورا طاعت پر قائم رہو ،اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ریاکاری یا منافقت کرکے اپنے اعمال باطل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو ریا کاری اور نفاق سے خالی ہو اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا گیا ہو۔

 عمل کو باطل کرنا منع ہے:

            اس آیت میں  عمل کو باطل کرنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے ،لہٰذا آدمی جو عمل شروع کرے خواہ وہ نفلی نماز یا  روزہ یا کوئی اور ہی عمل ہو ،اس پر لازم ہے کہ اس کو باطل نہ کرے بلکہ اسے پورا کرے۔

نیک اعمال کو برباد کر دینے والے اعمال:

            یہاں  آیت کی مناسبت سے ہم 6ایسے اعمال ذکر کرتے ہیں  جو نیک اعمال کو باطل اور برباد کر دیتے ہیں  تاکہ لوگ ان سے بچیں  اور اپنے اعمال کو برباد ہونے سے بچائیں ،

(1)…کفر و شرک:چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: ’’وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْؕ-هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘(اعراف:۱۴۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنہوں  نے ہماری آیتوں  اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا تو ان کے تمام اعمال برباد ہوئے،انہیں  ان کے اعمال ہی کا بدلہ دیا جائے گا۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ(۱۰۳) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵) ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا‘‘(کہف:۱۰۳۔۱۰۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں  بتادیں  کہ سب  سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟ وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں  برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان کررہے  ہیں  کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں ۔یہی وہ لوگ ہیں  جنہوں  نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں  گے۔یہ ان کا بدلہ ہے جہنم ،کیونکہ انہوں  نے کفر کیا اور میری آیتوں  اور میرے رسولوں  کو ہنسی مذاق بنالیا۔

 



Total Pages: 250

Go To