Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

والی بات کی پیروی کی اور انہوں  نے اللہ کی خوشنودی کو پسند نہ کیا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔

{فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ: تو ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کریں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ منافق لوگ اپنی زندگی میں سازشیں  کر رہے ہیں تو ا س وقت ان کاکیسا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لئے ان کے پاس آئیں  گے اور وہ ان کے منہ اور ان کی پیٹھوں  پر لوہے کے گُرزوں  سے ضربیں  مارتے ہوئے ان کی روح قبض کریں  گے۔ان کی اس ہولناک طریقے سے روح قبض کرنااس لیے ہے کہ انہوں  نے ا س بات کی پیروی کی جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی ہے اوراس چیز کو ناپسند کیا جس میں  اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے تو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے وہ تمام نیک اعمال ضائع کردئیے جو انہوں  نے ایمان کی حالت میں  کئے تھے اور یہ چیز ان کے لئے سزا کا باعث بنی ۔

            مفسّرین فرماتے ہیں  کہ یہاں  اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی بات سے مرادلوگوں  کو رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جہاد میں  جانے سے روکنا اور کافروں  کی مدد کرنا ہے ۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ وہ بات تورات کے ان مضامین کو چھپانا ہے جن میں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت شریف ہے ۔

            اورجس چیز میں  اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے اس سے مرادایمان وطاعت ، مسلمانوں  کی مدد اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ جہاد میں  حاضر ہونا ہے۔( روح البیان  ،  محمد  ،  تحت الآیۃ : ۲۷ - ۲۸  ،  ۸ / ۵۱۹ ،  ابن کثیر ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۷ / ۲۹۶ ،  خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۷-۲۸ ،  ۴ / ۱۴۱ ،  ملتقطاً)

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِ جَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا جن کے دلوں  میں  بیماری ہے اس گھمنڈ میں  ہیں  کہ اللہ  ان کے چھپے بَیر ظاہر نہ فرمائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا جن کے دلوں  میں  بیماری ہے وہ اس گھمنڈ میں  ہیں  کہ اللہ ان کے چھپے ہوئے بغض و کینے کو ظاہر نہ فرمائے گا۔

{اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ: جن کے دلوں  میں  بیماری ہے۔} یعنی وہ لوگ جن کے دلوں  میں  نفاق کی بیماری ہے کیا وہ اس گُھمنڈ میں  ہیں  کہ اسلام اور مسلمانوں  کے خلاف ان کے دلوں  میں  موجود نفرت و عداوت کو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں  کے سامنے ظاہر نہیں  فرمائے گا اور ان کے معاملات اسی طرح چھپے رہیں  گے، ایسا نہیں  ہے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں  رسوا فرمائے گا اور ان کا پردہ فاش فرما دے گا۔( روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۸ / ۵۲۰ ،  مدارک ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۱۱۳۷ ،  ملتقطاً)

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْؕ-وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ(۳۰)وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَۙ-وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہم چاہیں  تو تمہیں  ان کو دکھادیں  کہ تم ان کی صورت سے پہچان لو اور ضرور تم انہیں  بات کے اسلوب میں  پہچان لو گے اور اللہ  تمہارے عمل جانتا ہے۔اور ضرور ہم تمہیں  جانچیں  گے یہاں  تک کہ دیکھ لیں  تمہارے جہاد کرنے والوں  اور صابروں  کو اور تمہاری خبریں  آزمالیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم چاہتے تو تمہیں  وہ منافقین دکھادیتے تو تم انہیں  ان کی صورت سے پہچان لیتے اور ضرور تم انہیں  گفتگو کے انداز میں  پہچان لو گے اور اللہ  تمہارے اعمال جانتا ہے۔اور ضرور ہم تمہیں  آزمائیں گے یہاں  تک کہ ہم تم میں  سے جہاد کرنے والوں  اور صبرکرنے والوں  کودیکھ لیں  اور تمہاری خبریں  آزمالیں ۔

{وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ: اور اگر ہم چاہتے تو تمہیں  وہ منافقین دکھادیتے ۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر ہم چاہتے تو آپ کو دلائل اور علامات کے ذریعے ان منافقوں  کی پہچان کروا دیتے یہاں  تک کہ آپ انہیں  ان کی صورت سے ہی پہچان لیتے۔

             حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ نے سورہِ براء ت میں  اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو منافقوں  کی پہچان کروا دی ہے ۔

            اور حضرت اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کوئی منافق پوشیدہ نہ رہا، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سب کو ان کی صورتوں  سے پہچانتے تھے ۔

            مزید ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ضرور انہیں  گفتگو کے انداز سے پہچان لو گے اور وہ اپنے ضمیر کا حال آپ سے چھپا نہ سکیں  گے ، چنانچہ اس کے بعد جو منافق لب ہلاتا تھا حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کے نفاق کو اس کی بات سے اور اس کے اندازِ کلام سے پہچان لیتے تھے ۔

            آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ اللہ تعا لیٰ اپنے بندوں  کے تمام اعمال جانتا ہے اور ہر ایک کو اس کے لائق جزا دے گا۔( تفسیر قرطبی  ،  محمد  ،  تحت الآیۃ : ۳۰  ،  ۸  /  ۱۸۱ - ۱۸۲  ،  الجزء السادس عشر  ،  خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۴ / ۱۴۱-۱۴۲ ،  ملتقطاً)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جوبہت سی اقسام کا علم عطا فرمایا ہے ، ان میں  صورت سے پہچاننا اور بات سے پہچاننا بھی داخل ہے۔

{وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ: اور ضرور ہم تمہیں  آزمائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! ہم تمہیں  جہادکا حکم دے کر ضرورآزمائش میں  ڈالیں  گے یہاں  تک کہ ہم تم میں  سے جہاد کرنے والوں  اوراس پر صبرکرنے والوں  کوظاہرفرما دیں  اور تمہاری خبروں  کو آزما لیں تاکہ ظاہر ہوجائے کہ طاعت و اخلاص کے دعوے میں  تم میں  سے کون سچا ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰىۙ-لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جنہوں  نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ہدایت اُن پر ظاہر ہوچکی تھی وہ ہرگز اللہ کو کچھ نقصان نہ پہنچائیں  گے اور بہت جلد اللہ ان کا کیا دھرا اَکارت کردے گا۔

 



Total Pages: 250

Go To