Book Name:Kitab ul Aqiad

’’المدینۃ العلمیۃ ۔ ایک تعارف‘‘

           بحمدہٖ  تَعَالٰی ٰالمدینۃ العلمیۃایک ایسا تحقیقی و اشاعتی ادارہ ہے جو علمائے اہلسنت خصوصًا اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ  احمد رضا خان رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی گراں مایہ تصنیفات کو عصر حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر سہل ترین اسلوب میں پیش کرنے کا عزم رکھتا ہے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ  اس انقلابی عزم کی تکمیل اپنے ابتدائی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔

         المدینۃ العلمیۃ کا منصوبہ بفضلہ  تَعَالٰی ٰ وسیع پیمانہ پر مشتمل ہے جس میں علوم مروّجہ کی تقریبًا ہر صنف پر تحقیقی و اشاعتی کام شامل منشور ہے یوں وقتًا فوقتًا گراں قدراسلامی تحقیقی لٹریچر منظر عام پر لاکر متعارف کروایا جائے گا اور علوم اسلامیہ کے محققین حضرات کے ذوق تحقیق کی تسکین کا بھی وسیع پیمانہ پر سامان کیا جائے گا نیز مرور زمانہ کی وجہ سے جن تصنیفات کا لب و لہجہ اور انداز تفہیم متاثر ہو چکا ہے ان کو نئے اسلوب و آہنگ اور جدید انداز تفہیم سے آراستہ کر کے ایک عام پڑھے لکھے فرد کیلئے قابلِ مطالعہ بنانا بھی المدینۃ العلمیۃ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

        امام اہلسنت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکے حوالے سے المدینۃ العلمیۃایک مضبوط و مستحکم لائحہ عمل کا حامل ہے جو اس کے قیام کی اغراض میں سے سب سے اوّلین ترجیح ہے۔ امام اہلسنت رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُکی علمی و تحقیقی تصنیفات بلاشبہ علوم اسلامیہ کا شاہکار ہیں مگر عصر حاضر میں نشرو اشاعت کے جو نئے رجحانات متعارف ہو چکے ہیں ان کا تقاضہ ہے کہ علوم اسلامیہ کے ان شہ پاروں کو حواشی و تسہیل کے زیور سے آراستہ کر کے شائع کیا جائے جس سے نہ صرف یہ فائدہ ہو گا کہ ان تصنیفات کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا بلکہ ہر عام و خاص یکساں طور پر ان سے مستفید بھی ہو سکے گا۔

        اس کے علاوہ دیگر جدید و قدیم علمائے اہلسنت علیہم الرحمۃ کی تصنیفات کو مع تراجم، حواشی، تخریج اورشروح کے منظر عام پر لایا جارہا ہے جن میں نصابی اور غیر نصابی دونوں طرح کی تصنیفات شامل ہیں ، نصابی کتب کے حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ نہ صرف دینی مدارس کی نصابی کتب پر کام ہورہا ہے بلکہ اسکول ،کالجز اور جامعات کی نصابی کتب پر بھی کام منشور میں شامل ہے اس قدر وسیع پیمانہ پر تحقیقی کام  یقینا بغیر تعاون کے نا ممکن العمل ہے لہذا  اسلامی  علوم کے شائقین کے ہر طبقہ سے گزارش ہے کہ تحقیق و اشاعت کے اس میدان میں ہمارے ساتھ علمی و قلمی تعاون کے سلسلے میں رابطہ فرمائیے۔ آئیے مل کر علوم اسلامیہ کے تحقیقی واشاعتی انقلاب کے لئے صف بہ صف کھڑے ہوجائیں اور اپنی قلمی کاوشوں سے اس کی بنیادوں کو مضبوط کر یں ۔

باسمہٖ تعالٰی

        عقیدہ کے لغوی معنی دل میں جما یا ہوا یقین ، ایمان اوراعتقاد کے ہیں ۔ عقیدہ کی جمع ’’عقائد ‘‘ہے۔ مومن ہونے کیلئے جن باتوں کی دل سے تصدیق اورزبان سے اقرار ضروری ہے ان کو اسلامی عقائد کہا جاتاہے ۔ عقائد کی اصلاح ودرستگی کے بغیر اچھے سے اچھا عمل بھی  اللہ  تَعَالٰی کی بارگاہ میں قبول نہیں ۔ ارشاد خدا  عَزَّ وَجَلَّ  ہے  :

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ(۱۸) ( ابراہیم /  ۱۸ )

ترجمۂ کنزالایمان  : اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا ۔ یہی ہے دورکی گمراہی ۔

        لہٰذا ثابت ہوا کہ اگر کوئی انسان کثیر نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کرلے لیکن اس کے عقائد میں فساد ہوتو یہ ذخیرہ راکھ کا ڈھیر ثابت ہوں گے ۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے علماء اہلسنت نے عقائد کے موضوع پر بہت کچھ لکھا ۔ انہیں میں سے ایک مختصر کتاب سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت رضی  اللہ  عنہ کے خلیفہ صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ  الھادی نے تحریر فرمائی جس میں آپ علیہ الرحمۃ نے نہایت سلیس اورعام فہم زبان میں اسلامی عقائد بیان کئے ہیں جس سے ایک عام قاری بھی استفادہ کرسکتاہے ۔

        اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ  المدینۃ العلمیۃ یہ کتاب پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے۔ اس کتاب کو مرتب کرنے کیلئے مولانا محمد حنیف عطاری اورمولانا محمد نوید رضا العطاری جو جامعۃ المدینۃ کے فاضل متخرجین ہیں ، کی خدمات حاصل کی گئیں ۔اس کتاب کی اشاعت میں درج ذیل چیزوں کا اہتمام کیا گیا ہے ۔

 ۱۔    اردو اورعربی کی عبارات میں جو کتابت کی غلطیاں تھیں ان کی تصحیح کردی گئی ہے ۔

۲۔   مختلف مقامات پر دقیق عبارتوں کو باآسانی سمجھنے کے لئے حواشی کا اہتمام بھی کیا گیا ہے                جس کی وجہ سے استفادہ مزید آسان ہوگیا۔

۳۔   کتاب کے مصنف صدرا لافاضل نعیم الدین مرادآبادی کی مختصر سوانح عمری بھی پیش کی       گئی ہے ۔

۴۔    مصنف علیہ الرحمۃ نے اس کتاب میں جن جھوٹے مدعیانِ نبوت کا تذکرہ فرمایا ہے ان کے بارے میں تفصیل (رسالہ کی شکل میں ) آخر ی صفحات میں پیش کی ہے۔ یہ وہ کاوش ہے جو   ا ب تک چھپنے والے تمام ایڈیشن میں سے کسی میں بھی نہیں ۔ اس طرح یہ کتاب دیگر نسخوں میں انفرادی حیثیت کی حامل ہے ۔

         اللہ  تَعَالٰی ہمیں اسلامی عقائد پر استقامت عطافرمائے۔ گمراہ اوربدعقیدہ لوگوں اوربدعقیدگی سے ہماری اورہماری نسلوں کی حفاظت فرمائے ۔

        اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  

المدینہ العلمیۃ

کچھ مصنف کے بارے میں

        صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِاعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ،عظیم البرکت ،عظیم المرتبت ، مجددِدین وملت مولانا شاہ امام احمدر ضاخان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن                   کے خلفاء کرام میں سے ایک قابلِ فخرشخصیت ہیں آپ نے اپنی زندگی دین اسلام کی خدمت کیلئے وقف کررکھی تھی ۔دم ِآخر تک آپ دین کی خدمت اوراحیاء سنت نبوی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں مشغول رہے ۔

        آپ کا نام نامی محمد نعیم الدین اورلقب صدرالافاضل تھا ۔۲۱ صفرالمظفر ۱۳۰۰ھ ، بمطابق یکم جنوری1883 ء بروز پیر مرادآباد (یو۔پی، ہندوستان ) میں پیداہوئے ۔اوراسی نسبت سے مرادآبادی کہلائے ۔آپ کا ساراخاندان علم وفضل میں یکتائے روزگارتھاچنانچہ آٹھ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعدا بتدائی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا محمد معین الدین علیہ الرحمۃ سے حاصل کی پھر مولانا شاہ فضل احمد رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِکی خدمت میں حاضر  ہوئے اورسلسلہ تعلیم کو آگے بڑھایا ۔آپ نے درس نظامی کی تکمیل مدرسہ امدادیہ مراد آباد سے کی اورپھر کم وبیش ایک سال تک فتوٰی نویسی فرماتے رہے ۔ اپنی اعلیٰ علمی استعداد اورقابلیت کی بناء پر مدرسہ امدادیہ میں دستار فضیلت حاصل کی۔

 



Total Pages: 19

Go To