Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

جواب : جہیز عورت کی مِلک ہوتا ہے۔ ([1]) شادی بیاہ کے موقع پر لڑکی کو جو کچھ جہیز میں(زیورات اور دیگر سامان وغیرہ)والدین ، عزیز و اَقارِب اور لڑکے والوں کی طرف سے دیا جاتا ہے ، وہ سب لڑکی کی مِلکیَّت ہوتا ہے کیونکہ جہیز کے معاملے میں فقہا نے عُرف (معاشرے میں جیسا رواج ہے اس)کو معتبر جانا ہے۔ فِقہ کی کتابوں میں عرب و عجم کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ جہیز اور شادی کے وقت لڑکی کو دونوں جانب سے جو زیورات اور کپڑے وغیرہ دیئے جاتے ہیں وہ لڑکی ہی کی مِلکیَّت ہوتے ہیں لہٰذا عُرف کا اِعتبار ہو گا۔ نیز طلاق کے بعد بھی یہ تمام زیورات وغیرہ جو لڑکے والوں کی جانب سے لڑکی کو ملے ہیں یہ سب لڑکی کی مِلکیَّت ہوں گے۔ پاک و ہند میں ایسا ہی عُرف ہے کہ شادی کے وقت لڑکی کو مالِک بنا کر زیورات وغیرہ دے دیئے جاتے ہیں نہ کہ عاریۃً (واپس لی جانے والی چیز)طلاق کے بعد اگرکسی برادری (خاندان)میں یہ عُرف ہو کہ لڑکے والے اپنے زیورات واپس لے لیتے ہیں تو اس عُرف کا اعتبار نہ ہو گا۔ لڑکی جس چیز کی مالِک ہو چکی ہے ، اس میں برادری(خاندان) والے اگر یہ فیصلہ کریں کہ طلاق کے بعد اس سے اس کی ملکیت سلب کر لی جائے گی تو یہ رَواج شریعت کے خلاف ہے۔ ہاں! اگر کسی برادری(خاندان)میں یہ رَواج ہو کہ دیتے وقت مالِک بنا کر نہ دیتے ہوں بلکہ عارِیت کے طور پر دیتے ہوں اور برادری(خاندان) والے اس عُرف پر شاھد ہوں تو اس عُرف کا اعتبار ہو گا اور لڑکی مالِک نہ ہو گی۔([2])

یہاں تک کہ اگر باپ نے بیٹی کے لیے جہیز تیار کیا اور اسے بیٹی کے  سپرد  کر دیا یعنی مالِکانہ طور پر دے دیا  تو اب باپ بھی واپس نہیں لے سکتا جیسا کہ دُرِّمختار میں ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیٹی کو کچھ جہیز دیا اور وہ اس کے سپرد بھی کر دیا تو اب اس سے واپس نہیں لے سکتا اور نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اُس کے وارث واپس لے سکتے ہیں بلکہ وہ خاص عورت کی مِلکیَّت ہے اور اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے بشرطیکہ اس نے یہ جہیز حالتِ صحت میں بیٹی کے سپرد کیا ہو (یعنی مرض الموت میں نہ دیا ہو)۔([3])

شوہر زوجہ کا جہیز نہیں رکھ سکتا

سُوال : زوجہ فوت ہو جائے  تو کیا سارا جہیز شوہر رکھ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب : زوجہ  فوت ہو جائے تو شوہر یا کوئی اور اس کے جہیز وغیرہ  کا تنہا مالِک یا حقدار نہیں ہو سکتا بلکہ وہ سارا سامان جو عورت کی ذاتی  ملکیت تھا ، اس کے مرنے کے بعد شرعی قانون کے مطابق وُرَثاء میں تقسیم ہو گا جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : جہیز ہمارے بِلاد کے عُرفِ عام شائع سے خاص مِلکِ زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں ، طلاق ہوئی تو کُل لے گی اور مَر گئی تو  اسی کے وُرَثاء پر تقسیم ہو گا۔([4])

زوجہ کے تَرکے میں شوہر کا حصّہ

سُوال : اگر زوجہ فوت ہو جائے تو اس کے مال  میں سے شوہر کو کیا ملے گا ؟

جواب : زوجہ فوت ہوجائے تو اس کے مال  میں سے سب سے پہلے سنَّت کے مطابق اس کی تجہیز وتکفین اور تدفین کا اِہتمام کیا جائے ، پھر اس کے بعد اس کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے ، پھر اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کے مال کے تیسرے حصّے سے اس کی وصیت کو پورا کیا جائے ، پھر اس کے بعد جو مال بچ جائے اس میں سے شوہر کو حصَّہ ملنے کی دو صورتیں ہیں اگر زوجہ کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی میں سے کوئی  نہ ہوتو اس صورت میں شوہر کو کل مال کا آدھا ملے گا اور اگر زوجہ  کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی میں سے کوئی  ہوتو اس صورت میں شوہر کوکُل مال کا چوتھائی حصّہ ملے گا چنانچہ پارہ 4سورۃُ النسآء کی آیت نمبر 12میں خدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ  کا فرمانِ عالیشان ہے :

وَ  لَكُمْ  نِصْفُ  مَا  تَرَكَ  اَزْوَاجُكُمْ  اِنْ  لَّمْ  یَكُنْ  لَّهُنَّ  وَلَدٌۚفَاِنْ  كَانَ  لَهُنَّ  وَلَدٌ  فَلَكُمُ  الرُّبُعُ  مِمَّا  تَرَكْنَ  مِنْۢ  بَعْدِ  وَصِیَّةٍ  یُّوْصِیْنَ  بِهَاۤ  اَوْ  دَیْنٍؕ-

ترجمۂ کنزالایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت



   [1] رَدُّالْمُحْتار ، کتاب الطلاق ، مطلب  فیما لوزفت الیہ بلاجھاز یلیق  بہ ، ۵ / ۳۰۲ 

   [2] وقارُالفتاویٰ ، ۳ / ۲۵۶ ملخصاً

   [3] دُرِّمُخْتار  ، کتاب النکاح  ، باب المھر ، ۴ / ۳۰۴

   [4] فتاویٰ رضویہ ، ۱۲ / ۲۰۳



Total Pages: 10

Go To