Book Name:Yateem kisay kehtay hain?

یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی فضیلت

سُوال : یتیم کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے  کی بھی کوئی  فضیلت ہے؟

جواب : یتیم کے سا تھ حُسنِ سلوک کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے کی حدیثِ پاک میں  بڑی فضیلت آئی ہے چنانچہ حُسنِ اخلاق کے پیکر ، نبیوں کے تاجور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ روح پَرور ہے : مسلمانوں کے گھروں میں  بہترین گھر وہ ہےجس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو اور مسلمانوں کے گھروں میں بدترین  گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بُرا  برتاؤ کیا جاتا ہے۔([1])  ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا : جو شخص یتیم کے سر پر محض اللہ     عَزَّ     وَجَلَّ کی رِضاکے لیے ہاتھ پھیرے تو جتنے بالوں پر اُس کا ہاتھ گزرا ہر بال کے بدلے میں اُس کے لیے نیکیاں ہیں اور  جوشخص یتیم لڑکی یایتیم لڑکے پر اِحسان کرے میں اور وہ جنّت میں(دو اُنگلیوں کو   مِلا کر فرمایا کہ )اس طرح ہوں گے۔ ([2])

اِسحدیثِ پاک کے تحت مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : جوشخص اپنے عزیز یا اَجنبی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے محبت و شفقت کا یہ محبت صرف اللہ و رسول(عَزَّ وَجَلَّ   وَ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)کی رضا کے لیے ہو تو ہر بال کے عوض اسے نیکی ملے گی۔ یہ ثواب تو خالی ہاتھ پھیرنے کا ہے جو اس پر مال خرچ کرے ، اس کی خدمت کرے ، اسے تعلیم و تربیت دے سوچ لو کہ اس کا ثواب کتنا ہو گا۔ ([3]) یتیم کے سر پر ہا تھ پھیرنے سے  نیکیوں کے حصول کے ساتھ ساتھ  دِل کی سختی دُور ہوتی اور حاجتیں بھی  پوری ہوتی  ہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیٔ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ عظیم میں حاضر ہو کر  اپنے دل کی سختی کی شکایت کی ، تو اِرشاد فرمایا : کیا تو چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہو جائے اور تیری حاجتیں پوری ہوں ؟ تو یتیم پر رحم کیا کر اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کر اور اپنے کھانے میں سے اس کو کھلایا کر ایسا کرنے سے تیرا  دل نرم ہو گا اور حاجتیں پوری ہوں گی ۔ ([4])

یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا طریقہ

سُوال : یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب : جب بھی کسی یتیم بچے کے سر پر ہاتھ پھیرنا ہو تو سر کے پیچھے سے ہاتھ پھیرتے ہوئے آگے کی طرف لے آئیے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : لڑکا یتیم ہو تو اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے میں آگے کو لائے اور جب اس کا باپ ہو (یعنی بچہ یتیم نہ ہو)تو ہاتھ پھیرنے میں گردن کی طرف لے جائے۔ ([5])

یتیم کی د ی ہوئی چیز کھاپی نہیں سکتے

سُوال : یتیم کی ہبہ کی ہوئی چیز کھا پی سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب : یتیم کسی کو اپنی کوئی چیز ہبہ نہیں کر سکتا کیونکہ “ ہبہ  صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط ہبہ کرنے والے کا بالغ ہونا بھی ہے۔ “ ([6])جبکہ یتیم نابالغ ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی دوسرا بھی نابالغ کا مال ہبہ نہیں کر سکتا جیسا کہ صدرُ الشریعہ ، بدرُ الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : باپ کو یہ جائز نہیں کہ نابالغ لڑکے کا مال دوسرے لوگوں کو ہبہ کر دے اگرچہ معاوضہ لے کر ہبہ کرے کہ یہ بھی ناجائز ہے اور خود بچہ بھی اپنا  مال ہبہ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا یعنی اُس نے ہبہ کر دیا اور موہوب لہ کو دیدیا اُس سے واپس لیا جائے گا کہ ( نابالغ کا)ہبہ جائز ہی نہیں۔ یہی حکم صدقہ کا ہے کہ نابالغ اپنا مال نہ خود صدقہ کر سکتا ہے نہ اُس کا باپ۔ یہ بات نہایت یاد رکھنے کی ہے اکثر لوگ نابالغ سے چیز لے کر استعمال کر لیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اُس نے دے دی حالانکہ یہ دینا نہ دینے کے حکم میں ہے بعض لوگ دوسرے کے بچہ سے (کنوئیں سے)پانی بھروا کر پیتے یا وضو کرتے ہیں یا دوسری طرح استعمال کرتے ہیں یہ



   [1] ابنِ ماجہ  ، کتاب الأدب  ،  با ب حق الیتیم ، ۴ / ۱۹۳ ، حدیث : ۳۶۷۹

   [2] مُسْندِ اِمام اَحمد  ، مسند الانصار  ، حدیث أبی أمامة الباھلی  ، ۸ / ۲۷۲ ، حدیث : ۲۲۲۱۵ 

   [3] مِرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۶۲

   [4] مجمع الزوائد  ، کتاب البر والصلة  ،  باب ما جاء فی الایتام والارامل والمساکین ، ۸ / ۲۹۳ ،  حدیث : ۱۳۵۰۹  

   [5] مُعْجَمِ اَوْسَط ، من اسمہ احمد ، ۱ / ۳۵۱ ، حدیث : ۱۲۷۹ 

   [6] بہارِ شریعت ، ۳ / ۶۹ ، حصہ : ۱۴ملخصاً   



Total Pages: 10

Go To