Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

اے جھوٹے انسان!تُو اپنے دوستوں کو دنیا کا حقیر مال دینے سے توبُخْل کر تا رہا مگر آخِرت کا مال (یعنی نیکیوں کا خزانہ)تونے اپنے دشمنوں پر لُٹا دیا!نہ تیرا دُنیوی بُخْل قابلِ قُبول نہ غیبتیں کر کرکے نیکیاں لُٹانے والی سخاوت مقبول۔  (تَنبِیہُ الْغافِلین ، ص۸۷)

اپنی بُرائیاں یاد کر لِیا کرو

          حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کا فرمان ہے : اِذَا اَرَدْتَ اَنْ تَذْکُرَ عُیُوْبَ صَاحِبِکَ فَاذْکُرْ عُیُوبَکَ جب تم اپنے ساتھی کی بُرائیاں بیان کرنا چاہو تو اپنی بُرائیاں یاد کر لِیا کرو۔  (الموسوعۃ لابن ابی الدنیا،باب الغیبۃ و ذمہا ، ۷؍۱۳۶ ، رقم : ۱۹۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(21)  تعریف کی خواہش

          سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ نصیحت نشان ہے :  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طاعت کو بندوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کی محبت سے ملانے سے بچتے رہو ، کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں۔  (فردوس الاخبار ، ۱ / ۲۲۳ ، حدیث : ۱۵۶۷)

ایک سوال کے 2جواب!(حکایت:28)

          حضرتِ سیِّدُنا طاہر بن حسین رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ایک مرتبہ کسی سے پوچھا : آپ کو عراق آئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے ؟ جواب دیا : میں بیس سال سے عراق میں ہوں اور تیس سال سے روزے رکھ رہا ہوں ، فرمایا : میں نے آپ سے ایک سوال پوچھا تھا آپ نے جواب دو دئیے ! (یعنی یہی کافی تھا کہ آپ عراق میں اتنے عرصے سے ہیں ، روزے کا ذکر کس لئے کردیا؟)  (ادب الدنیا والدین ، ص ۸۶)

اس کا عمل بے کار ہوگیا

         سرکارِ دو عالم ، نُورِ مجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : جس نے کسی نیک عمل پراپنی تعریف کی اس کا شکر ضائع اور عمل بے کار ہو گیا۔ (کنزالعمال ، جزء : ۳ ، ۲ / ۲۰۶ ، حدیث : ۷۶۷۴)

میرا روزہ بھی ہے(حکایت:29)

          حضرتِ سیِّدُنا اِمام اَصْمَعِی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : ایک اَعرابی نماز پڑھ رہا تھا اور بہت دیر تک نماز میں مشغول رہا ، اس کے قریب کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو لوگوں نے بولا : تم تو بڑی اچھی نماز پڑھتے ہو ، اس اعرابی نے کہا نماز تو ہے ہی ساتھ ساتھ میں روزے سے بھی ہوں ، یہ بات سن کر اس مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک د وسرے اعرابی نے یہ شعر کہا :

صَلّٰی فَاَعْجَبَنِیْ وَصَامَ فَرَابَنِیْ                               نَحِّ الْقُلُوْصَ عَنِ الْمُصَلِّیْ الصَّائِمِ

ترجمہ : اس نے نماز پڑھی تو اس کی نماز مجھے اچھی لگی ، اس نے روزہ رکھا جس نے مجھے تَرَدُّد میں ڈال دیا ، لہٰذا اپنے اونٹوں کو اس نمازی اور روزے دار سے دور لے جاؤ ! (یعنی یہ آدمی اس قدر عبادت گزار ہے اور ساتھ ساتھ ریا کار ی کا بھی شکار ہے ، اس سے دور بھاگو ! اس کے پاس بیٹھنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے)۔

 (ادب الدنیا والدین ، ص ۸۶)

اخلاص کامل ہوتو واہ واہ سے ثواب کم نہیں ہوتا

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان لکھتے  ہیں : اگر غازی میں اِخلاص ہوتو لوگوں کی واہ واہ سے ثواب کم نہیں ہوگا۔ یہ تو رب کی طرف سے دُنیوی انعام ہے۔ صحابہ کرام(علیہم الرضوان) اور خودنبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی



Total Pages: 42

Go To