Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

جامع مسجد ’’جامع بنو اُمیہ ‘‘میں درس دے رہا تھا کہ اس دوران کچھ لوگ میرے اردگرد دنیاوی باتیں کرنے اور قہقہے لگانے لگے۔ میں نے عمومی طریقے پر(یعنی بغیرنام لئے )ان کی اِصلاح و خیر خواہی کی غرض سے قدرے بلند آواز سے پیارے آقا ، مکی مدنی مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ فرمانِ حقیقت بنیاد بیان کیاکہ آخری زمانے میں کچھ لوگ مسجدوں میں دنیا کی باتیں کریں گے۔ (صحیح ابن حبان،کتاب التاریخ،باب اخبارہ عما یکون۔۔۔الخ ، جزء : ۸ ، ۶ / ۲۶۷ ، ، حدیث : ۶۷۲۳) میں نے یہاں تک کہا : اے اللّٰہ کے بندو!یہود و نصاریٰ کے گرجا گھروں اور کنیسوں کو دیکھو !وہ کس طرح ان کو دنیا کی باتوں سے بچاتے ہیں حالانکہ ان کے گرجا گھر شیاطین کے ٹھکانے ہیں ، تو اے مسلمانو!تم اپنی مسجدوں کو دنیا کی باتوں سے کیوں نہیں بچاتے! حالانکہ تم اللّٰہ رب العزت کا یہ ارشاد بھی پڑھتے ہو :

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗۙ-یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ(۳۶) ۱۸ ،  النور : ۳۶)

(ترجمہ کنزالایمان : ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللّٰہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے اللّٰہ کی تسبیح کرتے ہیں ان میں صبح اور شام۔ )       لیکن میری بات پر توجہ دینے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے انہوں نے مجھ سے اِعراض کیا بلکہ اپنے جاہلوں کے ذریعے مجھے اذیت دینے پر اُتر آئے جس کی وجہ سے میں نے وہاں دَرْس دینا چھوڑدیا اور اب میں ’’جامع بنو اُمیہ ‘‘کے قریب اپنے گھر پر درس دیتا ہوں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّہماری اور ان کی اصلاح فرمائے۔  (حدیقہ ندیہ ، ۲ / ۳۱۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(20)  غیبت

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت بھی اُن گناہوں میں سے ہے جن کی وجہ سے نیکیاں ضائِع ہو جاتی ہیں جیسا کہ فرمانِ مصطفی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : اَلْغِیْبَۃُ تَاکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَاکُلُ النَّارُالْحَطَبَیعنی غیبت نیکیوں کو اس طرح کھاجاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (شرح ابن بطال،کتاب الادب،باب الغیبۃ،۹ / ۲۴۵)امام غزالی علیہ رحمۃ اللّٰہِ الوالی نقل کرتے ہیں : آگ بھی خشک لکڑیوں کو اتنی جلدی نہیں جلاتی جتنی جلدی غیبت بندے کی نیکیوں کوجلا کر رکھ دیتی ہے۔  (احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان،بیان العلاج۔۔۔الخ ، ۳ / ۱۸۳)

والدین میری نیکیوں کے زیادہ حقدار ہیں

          شارحِ بخاری ، ابوالحسن حضرت علامہ مولانا علی بن خلف المعروف ابنِ بطالعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الرزّاق فرماتے ہیں : چونکہ غیبت ایک بہت بڑا گناہ اور اعمال کا ثواب ضائع ہونے کا سبب ہے اس لئے علماء کی ایک جماعت تمام لوگوں کی غیبت سے اجتناب کرتی تھی یہاں تک کہ حضرت سیدنا عبدُاللّٰہ بن مبارک  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ارشاد فرمایا : اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والدین کی کرتا کیونکہ وہ دونوں تمام لوگوں سے زیادہ میری نیکیوں کے حقدار ہیں۔  (شرح ابن بطال،کتاب الادب،باب الغیبۃ ، ۹ / ۲۴۵)

میری نیکیاں کہاں گئیں؟

           رسولِ بے مثال ، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے روزانسان کے پاس اس کا کھلا ہو انامہ اعمال لایا جائے گا ، وہ کہے گا : میں نے جو فُلاں فُلاں نیکیاں کی تھیں وہ کہاں گئیں؟ کہا جائیگا : تُو نے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹا دی گئی ہیں۔  (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب،کتاب الادب،الترہیب من الغیبۃ۔۔۔الخ ، ۳ / ۴۰۶ ، حدیث : ۴۳۶۴)

مال دینے میں بخیل مگر نیکیاں لٹانے میں سخی!

          حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم غیبت کرنے والے کی سَرزَنِش کرتے (یعنی ڈانٹ پلاتے )ہوئے فرماتے ہیں :



Total Pages: 42

Go To