Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

الْمَسْجِدُ بَیْتُہٗ بِالرَّوْحِ وَالرَّحْمَۃِ وَالْجَوَازِ عَلَی الصِّرَاطِ اِلٰی رِضْوَانِ اللّٰہِ اِلَی الْجَنَّۃِ یعنی مسجد ہر متقی کا گھر ہے ، جو شخص مسجد کو اپنا گھر بنالے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اس کے لئے راحت ، رحمت اور پل صراط سے گزار کر اپنی رضا اورجنت تک لے جانے کا کفیل ہے۔

 (الترغیب والترہیب، کتاب الصلاۃ،الترغیب فی لزوم المساجد ، ۱ / ۱۶۹ ، حدیث : ۵۰۴)

          فیض القدیر شرح جامع صغیر میں علامہ مناوی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی’’مسجد ہر متقی کا گھر ہے‘‘کی وضاحت میں لکھتے ہیں : علامہ زَیْن عراقیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی نے فرمایا : اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ مسجد میں ان کاموں کے لئے زیادہ دیر رُکا جائے جن کے لئے مسجد بنائی جاتی ہے مثلاً اِعتکاف ، نماز ، تلاوت وغیرہ۔ بعض علماء کرام نے فرمایا : اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ اُمّت میں سے زیادہ تقویٰ والوں کا ٹھکانہ ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ کسی ایسے کام میں مصروف نہ ہوں جس کے لئے مسجد نہیں بنائی جاتی تو جو مسجد کو اپنی رہائش گاہ ، جائے تجارت اور دنیا کی باتیں کرنے کی جگہ بنالے وہ شخص قابلِ نفرت ہے ۔  (فیض القدیر ، ۶ / ۳۴۹ ، تحت الحدیث : ۹۲۰۳)

مسجد سے سر باہر نکال کر جواب دیا(حکایت:26)

          بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین مسجد میں مباح (یعنی جائز)دنیوی بات چیت بھی نہیں کیا کرتے تھے ، حضرت خَلَف بن ایوب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ ایک مرتبہ مسجد میں موجود تھے کہ کسی نے ان سے کوئی بات پوچھی تو پہلے انہوں نے اپنا سر مسجد سے باہر نکالا پھر اس کی بات کا جواب دیا ۔  (فیض القدیر ، ۶ / ۳۴۹ ، تحت الحدیث : ۹۲۰۳)

مسجد میں دنیا کی باتوں کے حوالے سے دو اہم سوال جواب

          {1}میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے پوچھا گیا کہ کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ مساجد میں معاملاتِ دنیا کی باتیں کرنے والوں پر کیا مما نعت ہے اور بروزِ حشر کیا مواخذہ ہوگا؟اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے جواب دیا : دنیا کی باتوں کے لئے مسجدمیں جاکر بیٹھنا حرام ہے۔ اِشباہ ونظائر میں فتح القدیر سے نقل فرمایا :  ’’ مسجد میں دنیا کا کلام نیکیوں کو ایسا کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ ‘‘یہ مباح باتوں کا حکم ہے پھر اگر باتیں خود بُری ہوئیں تو اس کا کیا ذکر ہے ، دونوں سخت حرام دَر حرام ، مُوجِبِ عذابِ شدید ہے ۔ واﷲتعالٰی اعلم (فتاوی رضویہ ، ۸ / ۱۱۲)

          {2}کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں شور وشَرکرنا اور دنیا کی باتیں کرنا اور اسی طرح وضو میں درست ہے یا نہیں ، اور اپنے پاس سے غیبت کرنے والوں اور تہمت رکھنے والوں اور جن میں شیوہ منافقت کا مفسدہ کا اندازپایا جائے نکلوادینا جائز ہے یا نہیں؟

          الجواب : مسجد میں شور وشَر کرنا حرام ہے اور دنیوی بات کے لئے مسجد میں بیٹھنا حرام ، اور نماز کے لئے جاکر دُنیوی تذکرہ مسجد میں مکروہ اور وضو میں بے ضرورت دُنیوی کلام نہ چاہئے ، اور غیبت کرنے والوں اور تہمت اٹھانے والوں مُنافِقوں مُفْسِدوں کو نکلوادینے پر قادِر ہو تو نکلوا دے جبکہ فتنہ نہ اُٹھے ورنہ خود اُن کے پاس سے اُٹھ جائے۔ واﷲتعالٰی اعلم (فتاوی رضویہ ، ۸ / ۱۱۲)

6  اہم مدنی پھول

 



Total Pages: 42

Go To