Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

بے شک جس میں تو مگن ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ، بظاہر جو تیری ملکیت ہے وہ حقیقتاً ہلاکت ہے ، جو فرح وسرور ہے وہ حقیقت میں لَھْو وغرور ہے ، جوآج ہے اس کا کل کچھ پتہ نہیں ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جلدی حاضر ہوجاؤ کیونکہ اس کا فرمان ہے :  وَ  سَارِعُوْۤا  اِلٰى  مَغْفِرَةٍ  مِّنْ  رَّبِّكُمْ  وَ  جَنَّةٍ  عَرْضُهَا  السَّمٰوٰتُ  وَ  الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳) ( پ۴ ، اٰل عمران : ۱۳۳)

 ترجمۂ کنزالایمان : اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان اور زمین آجائیں ، پرہیز گاروں کے لئے تیار کر رکھی ہے ۔ جب یہ نیند سے بیدار ہوئے تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا : یہ  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے تنبیہ اور نصیحت ہے ۔ پھر کسی کو کچھ بتائے بغیر یہ اپنے ملک سے نکل آئے اور ان پہاڑوں میں آ بسے ۔ جب مجھے ان کا واقعہ معلوم ہوا تو میں نے انہیں تلاش کیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا ، پھر میں نے بھی انہیں اپنا واقعہ سنایا۔ میں برابر ان سے ملاقات کے لئے آتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا اور یہیں ان کو دفن کر دیا گیا۔ (کتاب التوابین ، ص۱۵۳)

کون سی دُنیا اچھی،کون سی قابلِ مَذَمَّت؟

          دنیاوی اَشیاء کی تین قسمیں ہیں : {۱}وہ دُنیاوی اَشیا ء جو آخِرت میں ساتھ دیتی ہیں اور ان کا نَفع موت کے بعد بھی ملتا ہے ، ایسی چیزیں صِرف دو ہیں : عِلم اور عمل ، عمل سے مرُاد ہے ، اخلاص کے ساتھ اللہ تعالٰی کی عبادت کرنا اور دنیا کی یہ قِسم محمود( یعنی بَہُت عمدہ) ہے {۲}وہ چیزیں جن کا فائدہ صِرف دنیا تک ہی مَحدود رہتا ہے آخِرت میں ان کا کوئی پھل نہیں ملتا جیسے جائز چیزوں سے ضَرورت سے زیادہ فائدہ اُٹھانا مَثَلاً زمین ، جائیداد ، سونا چاندی ، عمدہ کپڑے اور اچھے اچھے کھانے کھانااور یہ دنیا کی مذموم(یعنی قابلِ مذمَّت) قِسم میں شامل ہیں {۳} وہ اشیاء جو نیکیوں پر مدد گار ہوں جیسے ضَروری غذا ، کپڑے وغیرہ۔ یہ قسم بھی محمود(اچھی) ہے لیکن اگر محض دنیا کا فوری فائدہ اور لذَّت مقصود ہو تو اب یہ دنیا مذموم( قابلِ مذمَّت) کہلائے گی ۔ (احیاء علوم الدین،کتاب ذم الدنیا،بیان حقیقۃ الدنیا۔۔۔الخ ، ۳ / ۲۷۰ملخصاً)

دنیا کے نظاروں سے بھَلا کیا ہو سَروکار

عُشَّاق کو بس عشق ہے گلزارِنبی سے

(وسائلِ بخشش ، ص۴۰۵)

مالِ دُنیانے رُلادیا(حکایت:17)

           حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وَقَّاص  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی عیادت کے لئے گئے توانہیں روتے دیکھ کرپوچھا : کیوں رورہے ہیں؟آپ توحوضِ کوثرپراپنے دوستوں (یعنی صحابۂ کرام رضوانُ اللّٰہ تعالٰی عَلَیْہِم اَجمعین) اورحضورنبی ٔاکرم ، رسولِ محتشمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملنے والے ہیں اورآپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا سے تشریف لے جاتے وقت آپ سے راضی تھے۔ فرمایا : میں موت کے  ڈریادنیا چھوٹنے کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ میں تو اس وجہ سے رورہا ہوں کہ میرے ارد گرد کثیر ساز و سامان پڑا ہوا ہے حالانکہ حضورنبی ٔ اکرمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہم سے عہد لیا تھا کہ ’’تمہارے پاس دنیاوی سامان صرف اتنا ہونا چاہئے جتنا ایک مسافر کے پاس زادِ راہ ہوتا ہے۔ ‘‘راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت ان کے پاس جو سامان تھا وہ صرف ایک برتن تھا جو وضو کرنے یا کپڑے دھونے کے کام آتا تھا۔  (حلیۃ الاولیاء ، ۱ / ۲۵۳)

پیچھا مِرا دنیا کی محبت سے چُھڑا دے

یا رب مجھے دیوانہ مدینے کا بنا دے

(وسائل بخشش ، ص۱۱۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد



Total Pages: 42

Go To