Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

           حضرتِ سیدنا عمرو ابن عاص  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں کہ مجھے سرکارِمدینۂ منوّرہ ، سردارِمکّۂ مکرّمہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پیغام بھیجا کہ اپنے ہتھیار اور اپنے کپڑے پہن لو پھر میرے پاس آؤ۔ میں حضورپُر نور صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے پاس حاضر ہوا تو آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم وضو کررہے تھے۔ فرمایا : اے عمرو! میں نے تمہیں اس لئے پیغام بھیجا تاکہ تمہیں ایک کام میں بھیجوں ، تمہیں خدا تعالیٰ سلامت لوٹائے گا اور غنیمت دے گااور ہم تم کو کچھ مال بھی عطا فرمائیں گے ، تو میں نے عرض کی : یارسولَاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّممیری ہجرت مال کے لئے نہ تھی وہ تو صرف اللّٰہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے لئے تھی ، فرمایا : نیک آدمی کے لیے اچھا مال بہت ہی اچھا ہے۔  (مشکاۃ المصابیح،کتاب الامارۃ والقضاء،باب رزق الولاۃ وھدایاہم ، ۲ / ۱۷ ، حدیث : ۳۷۵۶)

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : یعنی ثواب ، عزت کے علاوہ ہم تم کو اُجرت و معاوضہ بھی عطا فرمائیں گے ، یہ حدیث حکام کی تنخواہ کی اصل ہے مقرر اِس لئے نہ فرمائی کہ حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)مالک ہیں ، غلاموں کو جو چاہیں عطا فرمادیں ، یہ محض تنخواہ نہ تھی بلکہ عطیہ شاہانہ بھی تھا اور اب تنخواہ کا مقررکرنا ضروری ہے کہ اِجارہ میں کام و مال دونوں مقرر ہونے چاہئیں لہٰذا حدیث واضح ہے اس پر اِعتراض نہیں۔  ’’میری ہجرت مال کے لئے نہ تھی ‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں : یعنی میں بغیر معاوضہ یہ خدمت انجام دوں گا کیونکہ میرا اسلام لانا ہجرت کرنا ، عہدہ حاصل کرنے بڑی تنخواہ لینے کے لیے نہ تھا۔ سبحٰن اﷲ!یہ تھا اخلاص۔ ’’نیک آدمی کے لیے اچھا مال بہت ہی اچھا ہے‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں :  یعنی اس مال کے قبول سے تمہارے ثواب میں کمی نہ ہوگی یہ تو رب  تعالٰی کی نعمت ہے۔ خیال رہے کہ مردِ صالح وہ ہے جو نیکی پہچانے اور کرے اور مال صالح وہ ہے جو اچھے راستے آئے اور اچھی راہ جائے یعنی حلال کمائی بھلائی میں خرچ ہو ، اللّٰہ تعالٰی نصیب فرمائے۔ (مراۃ المناجیح ، ۵ / ۳۹۰)

ریا کی وجہ سے نیکی نہ چھوڑے

                           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : ریا سے اکثر عمل کا ثواب کم ہوجاتا ہے عمل باطل نہیں ہوتا اسی لئے ریا کار پر ریا سے کی ہوئی عبادت کا لوٹانا واجب نہیں اور اگر بعد میں توبہ نصیب ہوجائے تو اِنْ شَآءَاللہ (عَزَّوَجَلَّ )وہ کمی بھی پوری ہوجاتی ہے ، پھر ریا کی بھی دو قسمیں ہیں : (۱)ریا نفسِ عمل(میں) ، یہی کہ اگر لوگ نہ دیکھتے ہوں اور رائے ناموری کی امید نہ ہو تو نیکی کرے ہی نہیں۔ (۲)دوسرے ریا کمالِ عمل میں ، اگر لوگوں کے دکھاوے کو اچھی طرح نیکی کرے ورنہ معمولی طرح ، پہلی زیادہ خطرناک ہے دوسری ریا ہلکی۔ خیال رہے کہ کوئی شخص ریا کی وجہ سے عمل نہ چھوڑ دے ، اخلاص کی دعا کرے اور عمل کرتا جائے کبھی رب تعالیٰ اخلاص بھی نصیب کر ہی دے گا ، مکھیوں کی وجہ سے کھانا نہ چھوڑے۔  (مراۃ المناجیح ، ۵ / ۴۴۹)

کیا دینی خدمت پر تنخواہ لینے سے ثواب کم ہوجاتا ہے؟

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : اگر نیت خیر ہو تو دینی خدمت پر تنخواہ لینے کی وجہ سے اس کا ثواب کم نہیں ہوتا ، دیکھو ان عاملوں کو پوری اُجرت دی جاتی تھی مگر ساتھ میں یہ ثواب بھی تھا۔ چنانچہ مجاہد کو غنیمت بھی ملتی ہے اور ثواب بھی ، حضرات خلفائے راشدین سوائے حضرت عثمان غنی(رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم) کے سب نے خلافت پر تنخواہیں لیں مگر ثواب کسی کا کم نہیں ہوا ، ایسے ہی وہ علماء یا امام و مؤذن جو تنخواہ لے کر تعلیم ، اذان ، امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں اگر ان کی نیت خدمت دین کی ہے تو اِنْ شَآءَاللہثواب بھی ضرور پائیں گے۔ (مراۃ المناجیح ، ۳ / ۱۸)ایک اور حدیث کی شرح میں مفتی



Total Pages: 42

Go To