Book Name:Nekiyan Barbad Honay Say Bachaiye

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(7) ریاکاری

          ہمارا ہر نیک عمل اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے ہونا چاہئے ، نام ونَمُود اور واہ واہ کی خواہش ، شہرت کی تڑپ ہمارے کئے کرائے پر پر پانی پھیر سکتی ہے ، قراٰن کریم پارہ 12سورۂ ھُود کی آیت 15 اور16میں ارشاد ہوتا ہے : مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۶) ۱۲ ، ھود : ۱۶ ، ۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان : جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہوہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے ، یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے۔

          حضرت سیدنا ابنِ عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ریاکاروں کے حق میں نازل ہوئی۔

(روح البیان ، ۴ / ۱۰۸ ، ھود،تحت الآیۃ : ۱۵)

اعمال رَد ہوجائیں گے

        نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمارشادفرماتے ہیں کہ  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ     کا فرمانِ ہدایت نشان ہے : میں شریک سے بے نیاز ہوں جس نے کسی عمل میں کسی کو میرے ساتھ شریک کیا میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دوں گا ، اور جب قیامت کادن آئے گا تو ایک مُہربند صحیفہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میںپیش کیاجائے گا  اللّٰہعَزَّوَجَلَّفرشتوں سے فرمائے گا : اِنہیں قبول کر لو اور اُنہیں چھوڑ دو۔ فرشتے عرض کریں گے : یارب عَزَّوَجَلَّ ! تیری عزت کی قسم! ہم ان میں خیر کے علاوہ کچھ نہیں پاتے۔  اللّٰہعَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا : تم درست کہتے ہومگر یہ میرے غیر کے لئے ہیں اور آج میں صرف وہی اعمال قبول کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔ (کنزالعمال ، ۳ / ۱۸۹ ، حدیث : ۷۴۷۱ ، ۷۴۷۲)

اس کا عمل برباد ہوگیا

          حضرتِ سیدناعبد اللّٰہ بن ابی زکریا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے : جس نے اپنے عمل میں ریاکاری کی اس کا سارا عمل برباد ہوگیا۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، کلام الحسن البصری ، ۸؍۲۶۶ ، رقم : ۱۱۱)

 بروزِ قیامت ندامت کا سامنا

        رسولِ اکرم ، نورِ مجسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  جب لوگ اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو ریاکاروںسے کہا جائے گا : ان کے پاس جاؤجن کے لئے تم ریا کاری کیا کرتے تھے اور ان کے پاس اپنا اجر تلاش کرو۔  (معجم کبیر ، ۴ / ۲۵۳ ، حدیث : ۴۳۰۱)

 رِیاکاروں کا انجام

           رسولِ بے مثال ، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے : ’’قِیامَت کے دن سب سے پہلے ایک شہید کا فیصلہ ہو گا جب اُسے لایاجائے گا تو  اللّٰہعَزَّوَجَلَّاُسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ اِن نعمتوں کا اِقرار کرے گا پھر  اللّٰہعَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا : تُو نے اِن نعمتوں کے بدلے میں کیا عمل کیا؟ وہ عَرْض کرے گا : میں نے تیری راہ میں جِہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّارشاد فرمائے گا : تُو جھوٹا ہے تو نے جہاد اس لئے کیاتھا کہ تجھے بہادُر کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا  ،   پھر اس کے بارے میںجہنّم میں جانے کا حکم دے گا تو اسے منہ کے بل



Total Pages: 42

Go To