Book Name:Khof e Khuda عزوجل

        مزید ایک مقام پر ہے ،

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا

تر جمۂ کنزالایمان : پھر ہم ڈر والو ں کو بچا لیں گے۔ ( پ۱۶، مریم  :  ۷۲ )

(جہنم سے چھٹکارا۔۔۔۔۔)

        اپنے پروردگار  عَزَّوَجَلَّ  کا خوف جہنم سے چھٹکارے کا ذریعہ ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے ،

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ

تر جمۂ کنزالایمان : اور بہت اس سے دور رکھا جائے گا، جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ۔( پ۳۰، اللیل  ؛ ۱۷)

(ذریعۂ نجات۔۔۔۔۔)

         رب   تَعَالٰی  کا خوف ذریعہ ٔنجات ہے ۔چنانچہ ارشاد فرمایا،

وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ

تر جمۂ کنزالایمان :   اور جو اللہ  سے ڈرے اللہ  اس کے لیے نجات کی راہ نکا لدے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔( پ۲۸، الطلاق ؛۲، ۳)

پیارے اسلامی بھائیو!

         سلطانِ مدینہ ، فیض گنجینہصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی زبانِ اقدس سے نکلنے والے خوف ِ خدا   عَزَّوَجَلَّ کے فضائل بھی ملاحظہ ہوں …

(اسے امن میں رکھوں گا۔۔۔۔۔)

        حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ سرور ِعالم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ   تَعَالٰی  فرماتا ہے، ’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ! میں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دو امن جمع کروں گا ، اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلاء کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروزِ قیامت اسے امن میں رکھوں گا ۔ ‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ  تعالٰی ، ج۱، ص۴۸۳، رقم الحدیث۷۷۷  )

(ہر چیز اس سے ڈرتی ہے ۔۔۔۔۔)

        سرکارِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عبرت نشان ہے ، ’’جو شخص اللہ  سے ڈرتا ہے ، ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو اللہ   تَعَالٰی  کے سواکسی سے ڈرتا ہے تو اللہ   تَعَالٰی  اسے ہر شے سے خوف زدہ کرتا ہے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ  تعالٰی ، ج۱، ص۵۴۱، رقم الحدیث ۹۸۴ )

(جہنم سے رہائی۔۔۔۔)

        سَرورِ عالم ، شفیع معظمصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، ’’جس مؤمن کی آنکھوں سے اللہ   تَعَالٰی  کے خوف سے آنسو نکلتا ہے اگرچہ مکھی کے پر کے برابر ہو ، پھروہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے تک پہنچیں تو اللہ   تَعَالٰی  اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ  تعالٰی، ج۱، ص۴۹۰، رقم الحدیث۸۰۲ )   

(جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔۔۔۔)

        رسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا، ’’جب مؤمن کا دل اللہ   تَعَالٰی  کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ  تعالٰی ، ج۱، ص۴۹۱، رقم الحدیث ۸۰۳ )

(اسے آگ سے نکالو۔۔۔۔)

        حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ رحمتِ کونین صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’اللہ   تَعَالٰی  فرمائے گا کہ اسے آگ سے نکالو جس نے مجھے کبھی یاد کیا ہو یا کسی مقام میں میرا خوف کیا ہو۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ  تعالٰی ، ج۱، ص۴۷۰، رقم الحدیث ۷۴۰)

(جس سے وہ ڈرتا ہے۔۔۔۔)

        سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ایک ایسے نوجوان کے پاس تشریف لائے جو قریب المرگ تھا۔ آپ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے پوچھا، ’’تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کی ، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! مجھے معافی کی امید بھی ہے اور میں گناہوں کے وجہ سے اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرتا بھی ہوں ۔‘‘تو نبی اکرم صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا، ’’ایسی حالت میں جب بھی یہ دو باتیں جمع ہوتی ہیں تو اللہ   تَعَالٰی  اس کی امید کے مطابق اسے عطا کرتا ہے اور اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۱۹۶)

(سبز موتیوں کا محل۔۔۔۔)

        حضرت  سَیِّدُنا کعب االاحباررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ’’ اللہ   تَعَالٰی  نے سبز موتی کا ایک محل پیدا فرمایا ہے جس میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار کمرے ہیں ۔ اس میں وہ شخص داخل ہوگا جس کے سامنے حرام پیش کیا جائے اور وہ محض اللہ  کے خوف سے اسے چھوڑ دے ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۱۰)

(کامل عقل والا۔۔۔۔)

        مدنی آقا صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’تم میں سے سب سے بڑھ کر کامل عقل والا وہ ہے جو رب   تَعَالٰی  سے زیادہ ڈرنے والا ہے اور جو تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اللہ   تَعَالٰی  کے اوامر ونواہی(یعنی احکام )میں زیادہ غور کرتا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۹۹)

 



Total Pages: 42

Go To