Book Name:Khof e Khuda عزوجل

        اس کے بعد آنکھیں کھول دیں اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یہ کہئے کہ ’’ابھی میں زندہ ہوں ، ابھی میری سانسیں چل رہی ہیں ، ان حسرت آمیز لمحات کے آنے سے پہلے پہلے میں اپنی قبر کو جنت کا باغ بنانے کی جدوجہد میں لگ جاؤں گا ، خوب نیکیاں کروں گا ، گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کروں گا تاکہ کل مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔ ‘‘

     (3)کبھی اس طرح تصور کریں کہ

        ’’میں نے قبر میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد اربوں کھربوں مُردوں کی طرح وہاں سے نکل کر بارگاہ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ میں حاضری کے لئے میدان محشر کی طرف بڑھنا شروع کردیا ہے۔ صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ہر ایک کو پسینوں پر پسینے آرہے ہیں جس کی بدبو سے دماغ پھٹا جارہا ہے…، سورج نہایت کم فاصلے پر ہے اور آگ برسا رہا ہے لیکن اس کی تپش سے بچنے کے لئے کوئی سایہ بھی میسر نہیں …، گرمی اور پیاس سے برا حال ہے…، ہجوم کی کثرت کی وجہ سے دھکے لگ رہے ہیں …۔ جبکہ اندرونی کیفیت یہ ہے کہ زندگی بھر کی جانے والی اللہ   تَعَالٰی  کی نافرمانیوں کا سوچ کر دل ڈوبا جارہا ہے…، ان کے نتیجے میں ملنے والی جہنم کی ہولناک سزاؤں کے تصور سے ہی کلیجہ کانپ رہا ہے…، دل بھی بے چینی کا شکار ہے کہ یہ تووہی امتحان گاہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انسان اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک ان پانچ سوالات کے جوابات نہ دے لے(۱)تم نے زندگی کیسے بسر کی؟(۲)جوانی کس طرح گزاری ؟ (۳)مال کہاں سے کمایا ؟اور…(۴)کہاں کہاں خرچ کیا ؟(۵)اپنے علم کے مطابق کہاں تک عمل کیا ؟

         اب عمر بھر کی کمائی کا حساب دینے کا وقت آن پہنچا لیکن افسوس!مجھے اپنے دامن میں سوائے گناہوں کے کچھ دکھائی نہیں دے رہا… ، شدت کی بے بسی کے عالم میں امداد طلب نگاہیں ادھر ادھردوڑا رہا ہوں لیکن کوئی سہارا دکھائی نہیں دے رہا… ، پچھتاوے کا احساس بھی ستا رہا ہے کہ اللہ   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے میرے پاس کچھ بھی تو نہیں … ۔کیونکہ شریعت نے جو کرنے کا حکم دیا وہ میں نے کیا نہیں مثلاًمجھے روزانہ پانچ وقت مسجد میں باجماعت نمازپڑھنے کا حکم ملا لیکن افسوس! میں نیند ، مصروفیت ، تھکن ، دوستوں کی محفل وغیرہ کے سبب ان کو قضاء کر دیتا رہا…، مجھے رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے کا کہا گیا لیکن افسوس میں معمولی بیماری اور مختلف حیلوں بہانوں سے روزہ رکھنے کی سعادت سے محروم ہوتا رہا…، مجھے مخصوص شرائط کے پورا ہونے پر زکوۃوحج کی ادائیگی کا حکم ہوا ، لیکن افسوس! میں مال کی محبت کی وجہ سے زکوۃ وحج کی ادائیگی سے کتراتا رہا ، ۔۔۔ اور۔۔۔ جس جس گناہ سے بچنے کی تلقین کی گئی تھی ، میں انہی گناہوں میں ملوث ہوتا رہا مثلاً مجھے کسی مسلمان کو بلااجازت ِ شرعی تکلیف دینے سے روکا گیا لیکن آہ! میں مسلمانوں پر ظلم ڈھاتا رہا… ، والدین کو ستانے سے منع کیا گیا لیکن آہ! میں نے والدین کی نافرمانی کر کے ان کو ستانا اپنی عادت بنا لیاتھا… ، کسی نامحرم عورت کو بشہوت یا بلا شہوت دونوں صورتوں میں دیکھنے سے روکا گیا لیکن آہ! میں نے اپنی نگاہوں کی حفاظت نہ کی…، جھوٹ، غیبت چغلی ، فحش کلامی اور گالی گلوچ سے اپنی زبان پاک رکھنے کا کہا گیا لیکن آہ! میں اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھ سکا …، مجھے غیبت ، فحش کلامی وغیرہ سننے سے روکا گیا لیکن میں اپنی سماعت پاکیزہ نہ رکھ سکا…، دل کو بغض، حسد، تکبر، بدگمانی، شماتت، ناجائز لالچ وغصہ وغیرہ سے خالی رکھنے کا ارشاد ہوا لیکن آہ! میں اپنے دل کو ان غلاظتوں سے نہ بچا سکا …۔

         آہ صد آہ ! یہ دونوں حکم توڑنے کے بعدمیں کس منہ سے اس قہّار وجبّار عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے اعمال ِ زندگی کا حساب دوں گا؟…اورپھر ایسی خطر ناک صورت حال کہ خود میرے اعضائے جسمانی مثلاً ہاتھ ، پاؤں ، آنکھ ، کان ، زبان وغیرہ میرے خلاف گواہی دینے کے لئے بالکل تیار ہیں …۔دوسری طرف اپنی مختصر سی زندگی میں نیک اعمال اختیار کرنے والوں کو ملنے والے انعامات دیکھ کر اپنے کرتوتوں پرشدید افسوس ہو رہا ہے ، کہ وہ اطاعت گزار بندے تو سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال لے کر شاداں وفرحاں جنت کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں لیکن نامعلوم میرا انجام کیا ہو گا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے جہنم میں جانے کا حکم سناکر الٹے ہاتھ میں اعمال نامہ تھما دیا جائے ، اور سارے عزیز واقارب کی نظروں کے سامنے مجھے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے، ہائے میری ہلاکت!ہائے میری رسوائی… (والعیاذ باللہ )

        یہاں پہنچ کراپنی آنکھیں کھول دیجئے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یوں کہئے کہ ’’گھبراؤ مت !ابھی یہ وقت نہیں آیا ، ابھی میں تودنیامیں ہوں …، اس مختصر سی زندگی کو غنیمت جانو اوراپنی آخر ت سنوارنے کی کوشش میں مصروف ہوجاؤ۔‘‘پھر پختہ ارادہ کیجئے کہ’’میں اپنے رب   تَعَالٰی  کا اطاعت گزار بندہ بننے کے لئے اس کے احکامات پر ابھی اور اسی وقت عمل شروع کر دوں گا تاکہ کل میدانِ محشر میں مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔‘‘

       پیارے اسلامی بھائیو! فکرمدینہ کے دوران ہو سکے تو رونے کی کوشش کیجئے اور اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی صورت بنا لیجئے کہ یہ رونا ہمیں رب   تَعَالٰی  کی ناراضگی سے بچا کر اس کی رضا تک پہنچائے گا ، بطور ِ ترغیب ان روایات کو ملاحظہ فرمائیں ……

(ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا…)

        رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا، ’’ جو شخص اللہ   تَعَالٰی  کے خوف سے روتا ہے ، وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا حتی کہ دودھ (جانور کے )تھن میں واپس آجائے ۔‘‘

(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۹۰، رقم الحدیث ۸۰۰ )

(بخشش کا پروانہ…)

        حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا، ’’ جو شخص اللہ   تَعَالٰی  کے خوف سے روئے ، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔‘‘(کنز العمال ، ، ج۳، ص۶۳، رقم الحدیث ۵۹۰۹ )

(نجات کیا ہے؟…)

        حضرت سَیِّدُناعقبہ بن عامررَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے عرض کی ، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! نجات کیا ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا، ’’ اپنی زبان کو قابو میں رکھو، تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے (یعنی بلاضرورت باہر نہ جاؤ) اور اپنی خطاؤں پر آنسو بہاؤ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ   تَعَالٰی  ، ج۱، ص۴۹۲، رقم الحدیث ۸۰۵ )

(بلا حساب جنت میں …)

        ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تعالٰی عَنہا   فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی، ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !کیاآپ کی امت میں سے کوئی بلاحساب بھی جنت میں



Total Pages: 42

Go To