Book Name:Khof e Khuda عزوجل

        امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے صفر المظفر ۱۴۲۴؁ھ میں مرکزی مجلس شورٰی ودیگر مجالس کے اراکین اور دوسرے اسلامی بھائیوں کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں تحریر فرمایا، …

محبت میں اپنی گمایاالٰہی  عَزَّوَجَلَّ  

نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الٰہی  عَزَّوَجَلَّ  

تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ

میں تھر تھر رہوں کانپتا یاالٰہی  عَزَّوَجَلَّ

   میرے دل سے دنیا کی الفت مٹا دے 

بنا عاشق ِ مصطفی صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   یا الٰہی  عَزَّوَجَلَّ  

(پھر لکھاکہ)

          میں اپنی قیام گاہ کے مکتب میں مغموم وملول قلم سنبھالے آپ حضرات کی بارگاہوں میں تحریراً دستک دے رہا ہوں ۔ آج کل یہاں طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں کہ جو دلوں کو خوفزدہ کر دیتی ہیں ، ہائے ہائے ! بڑھاپا آنکھیں پھاڑے پیچھا کئے چلا آرہا ہے اور موت کا پیغام سنا رہا ہے ، مگر نفس ِ امّارہ ہے کہ سر کشی میں بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ، کہیں  ہوا کا کوئی تیز وتُند جھونکا میری زندگی کے چراغ کو گل نہ کر دے ، اے مولیٰ  عَزَّوَجَلَّ  ! زندگی کا چراغ تو یقینا بجھ کر رہے گا ، میرے ایمان کی شمع سدا روشن رہے ، یا اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! مجھے گناہوں کے دلدل سے نکال دے ، کرم…کرم…کرم       

(ماخوذ از رسالہ غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱ )

  (116)(پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے… )

        صحرائے مدینہ ‘مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ۲۰۰۴ھ میں منعقد ہونے والے دعوت کے سنتوں بھرے سالانہ بین الاقوامی اجتماع میں ’’اللہ   تَعَالٰی  کی خفیہ تدبیر‘‘ کے موضوع پر رقت انگیزبیان کرتے ہوئے شیخ ِطریقت ، امیرِ اہل ِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری  نے جب ایمان کی حفاظت سے متعلق ترغیب دیتے ہوئے یہ واقعہ سنایا کہ

        ’’حضرت عبداللہ  مؤذن (رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ ) فرماتے ہیں کہ میں طواف ِ کعبہ میں مشغول تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ غلافِ کعبہ سے لپٹ کر ایک ہی دعا کی تکرار کر رہا ہے ، ’’یااللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! مجھے دنیا سے مسلمان ہی رخصت کرنا ۔‘‘ میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور دعا کیوں نہیں مانگتے ؟ اس نے کہا ، ’’میرے دوبھائی تھے ۔ میرا بڑا بھائی ایک عرصہ تک مسجد میں بلامعاوضہ اذان دیتا رہا ۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے قرآن پاک مانگا ، ہم نے اسے دیا تاکہ وہ اس سے برکتیں حاصل کرے ، مگر قرآن شریف ہاتھ میں لے کر وہ کہنے لگا ، ’’تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں قرآن کے تمام اعتقادات واحکامات سے بیزاری ظاہرکرتا ہوں اور نصرانی (یعنی عیسائی) مذہب اختیار کرتا ہوں ۔ چنانچہ وہ کفر کی حالت میں مر گیا۔ پھر دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجد میں فی سبیل اللہ   عَزَّوَجَلَّ  اذان دی ، مگر وہ بھی آخری وقت میں نصرانی ہو کر مرا ۔ لہٰذا! میں اپنے خاتمہ کے بارے میں بے حد فکر مند ہوں اور ہر وقت خاتمہ بالخیر کی دعا مانگتا رہتا ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ  مؤذن (رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ ) نے اس سے پوچھا کہ تمہارے دونوں بھائی آخر ایسا کون سا گناہ کرتے تھے جس کے سبب ان کا خاتمہ برا ہوا ؟ اس نے بتایا ، ’’ وہ غیر عورتوں میں دل چسپی لیتے تھے اور اَمردوں (یعنی بے ریش لڑکوں ) سے دوستی کرتے تھے ۔‘‘

        تو یہ واقعہ سنانے کے بعد خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کے غلبے کی وجہ سے امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کافی دیر تک روتے رہے اور بیان جاری نہ رکھ سکے ۔

مسلمان ہیں عطارؔ تیری عطا سے

ہو ایمان پر خاتمہ یاالٰہی  عَزَّوَجَلَّ

تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ

میں تھر تھر رہوں کانپتا یا الٰہی  عَزَّوَجَلَّ

  (117)(دیوار سے لپٹ کررونے لگے… )

        ماہ ذوالحجہ ۱۴۲۳ھ میں عید الاضحی کے موقع پر بانی ٔ دعوتِ اسلامی ، امیرِ اہلِ سنت، حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف سے اونٹ اور گائے کی قربانی دی گئی۔ قربانی کا انتظام ’’دعوت ِاسلامی‘‘ کے عالمی مدنی مرکز فیضان ِ مدینہ باب المدینہ کراچی کے باہرکیا گیا تھا۔وقت ِعصر سے کچھ دیر قبل قربانی کے وقت آپ بھی وہیں تشریف لے آئے ۔جب اس اونٹ کو نحر اور گائے کو ذبح کیاگیا تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ یکایک آپ کے چہرے پر اداسی طاری ہوگئی اور آپ بے حد غمگین نظر آنے لگے ۔ قربانی ہوجانے کے بعد آپ محراب کے پیچھے واقع اپنے کمرے کی طرف روانہ ہوگئے اور کمرے میں پہنچنے کے بعد دیوار سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگے۔ اتنے میں مؤذن اسلامی بھائی نے اذانِ عصر دی اورآپ نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں آ گئے ۔ نمازعصر ادا کرنے کے بعد(اپنے ہی کلام میں سے ) چند اشعار پڑھنے کا اشارہ فرمایا۔جب اسلامی بھائی نے ان اشعار کو پڑھنا شروع کیاتوآپ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔آپ کو روتا دیکھ کر وہاں پر موجود اسلامی بھائی بھی رونے لگے اورپوری فضاء سوگوار ہوگئی۔آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ نمازِ مغرب کا وقت ہوگیا ۔ ان اشعار میں چند یہ ہیں ، …

کاش !کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا

قبر وحشر کا سب غم ختم ہو گیا ہوتا

 



Total Pages: 42

Go To