Book Name:Khof e Khuda عزوجل

آن بسے ۔ جب مجھے ان کا واقعہ معلوم ہوا تو میں نے انہیں تلاش کیا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا ، پھر میں نے بھی انہیں اپنا واقعہ سنایا۔ میں برابر ان سے ملاقات کے لئے آتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا اور یہیں ان کو دفن کر دیا گیا۔(کتاب التوابین ، ص۱۵۲ )

  (110)( پاؤں اندر داخل نہیں کیا… )

        بنی اسرائیل میں ایک بزرگرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  عرصہ دراز سے اپنے حجرہ میں مصروفِ عبادت تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے دروازے پر آن کھڑی ہوئی اور ان کی نگاہ اس عورت پر پڑی تو شیطان نے انہیں بہکا دیا ۔ چنانچہ آپ اس عورت کی طرف بڑھے لیکن جیسے ہی اپنا ایک پاؤں حجرہ سے باہر نکالا ، خوف ِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  آپ پر غالب آیا اور کہنے لگے، ’’نہیں ! مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہئے ۔‘‘پھر آپ کے دل میں خیال آیا کہ’’ یہ پاؤں جو دروازے سے باہر اللہ   تَعَالٰی  کی نافرمانی کے لئے نکلا ہے ، دوبارہ میرے حجرے میں داخل نہیں ہوگا ۔‘‘ چنانچہ آپ وہیں بیٹھ گئے اور اس قدم کو کمرے کے اندر نہ لے گئے ، یہاں تک کہ وہ پاؤں گرمی اور سردی کے اثرات سے گل سڑ کر آپ کے جسم سے الگ ہو گیا ۔ (کتاب التوابین ، ص۷۹ )

  (111)( غوث ِ اعظم رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کا خوف ِ خدا  عَزَّوَجَلَّ … )

        حضرت سَیِّدُنا شیخ سعدی شیرازی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ’’مسجد الحرام میں کچھ لوگ کعبۃ اللہ  شریف کے قریب عبادت میں مصروف تھے ۔ اچانک انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ دیوار ِ کعبہ سے لپٹ کر زاروقطار رو رہا ہے اور اس کے لبوں پر یہ دعا جاری ہے ، ’’اے اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ! اگر میرے اعمال تیری بارگاہ کے لائق نہیں ہیں تو بروزِ قیامت مجھے اندھا اٹھانا ۔‘‘

        لوگوں کو یہ عجیب وغریب دعا سن کر بڑا تعجب ہوا ، چنانچہ انہوں نے دعا مانگنے والے سے استفسار کیا ، ’’اے شیخ ! ہم تو قیامت میں عافیت کے طلب گار ہیں اور آپ اندھا اٹھائے جانے کی دعا فرما رہے ہیں ، اس میں کیا راز ہے ؟‘‘ اس شخص نے روتے ہوئے جواب دیا ، ’’ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے اعمال اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ کے لائق نہیں تو میں قیامت میں اس لئے اندھا اٹھایا جانا پسند کرتا ہوں کہ مجھے لوگوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے ۔‘‘ وہ سب لوگ اس عارفانہ جواب کو سن کر بے حد متأثر ہوئے لیکن اپنے مخاطب کو پہچانتے نہ تھے ، اس لئے پوچھا ، ’’ اے شیخ ! آپ کون ہیں ؟‘‘ اس نے جواب دیا ، ’’میں عبدالقادر جیلانی ہوں ۔‘‘(فیضان سنت بحوالہ گلستان ِ سعدی، ص۷۳۳ )

  (112)(جس کے حکم سے روزہ رکھا ہے… )

        سیدی اعلیٰ حضرت ، امامِ اہل سنت ، مجدددین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی روزہ کشائی کی تقریب کا حال بیان کرتے ہوئے مولانا سید ایوب علی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ’’رمضان مبارک کامقدس مہینہ ہے اورحضورِ پُرنورکے پہلے روزہ کشائی کی تقریب ہے ، کاشانۂ اقدس میں جہاں افطار کااوربہت قسم کا سامان ہے۔ ایک محفوظ کمرے میں فیرینی کے پیالے بھی جمانے کے لئے چُنے ہوئے تھے۔آفتاب نصف النہارپرہے، ٹھیک شدت کی گرمی کاوقت ہے کہ حضور کے والدِماجدآپ کو اسی کمرے میں لے جاتے ہیں اور دروازہ کے پٹ بندکرکے ایک پیالہ اٹھا کر دیتے ہیں کہ ’’ اِسے کھا لو۔‘‘

        آپ عرض کرتے ہیں ’’میرا توروزہ ہے کیسے کھاؤں ؟‘‘ارشاد ہوتا ہے’’بچوں کا روزہ ایسا ہی ہوتا ہے ، لو کھالو ، میں نے دروازہ بند کردیا ہے ، کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے ۔‘‘ آپ عرض کرتے ہیں ، ’’جس کے حکم سے روزہ رکھا ہے ، وہ تو دیکھ رہا ہے ۔‘‘یہ سنتے ہی حضور کے والدِ ماجد کی چشمانِ مبارک سے اشکوں کا تاربندھ گیا اور کمرہ کھول کر باہرلے آئے ۔ (حیات اعلیٰ حضرت ص ۸۷)

  (113)(بے ہوشی میں دعا… )

         تبلیغ ِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ، امیرِ اہلِ سنت حضرت مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کو سالہاسال سے کثرت ِ پیشاب کا عارضہ لاحق تھا ۔ بالآخردسمبر ۲۰۰۲ء میں ڈاکٹروں نے آپریشن تجویز کیا جس کے لئے آپ ہی کے مطالبے پر نمازِ عشاء کے بعد کا وقت طے کیا گیا تاکہ آپ کی کوئی نماز قضانہ ہونے پائے ۔ آپریشن ہوجانے کے بعد نیم بے ہوشی کے عالم میں درد سے کراہنے یا چلانے کی بجائے آپ نے وقتاً فوقتاً جن کلمات کی بار بارکی تکرار کی وہ یہ تھے، …

        ’’سب لوگ گواہ ہوجاؤمیں مسلمان ہوں ، …یااللہ   عَزَّوَجَلَّ ! میں مسلمان ہوں ، میں تیرا حقیر بندہ ہوں ، … یارسول اللہ صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ! میں آپ کا ادنیٰ غلام ہوں ، …اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّوَجَلَّ  !  میں غوث الاعظم (رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ ) کا غلام ہوں ، …اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! میرے گناہوں کو بخش دے، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! میری مغفرت فرما، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! میرے ماں باپ کی مغفرت فرما، …اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! میرے بھائی بہنوں کی مغفرت فرما، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  ! میرے تمام مریدوں کی مغفرت فرما، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! (مجلس شورٰی کے مرحوم نگران) حاجی مشتاق کی مغفرت فرما، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ  !تمام دعوت ِ اسلامی والوں اور والیوں کی مغفرت فرما، … اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ ! (اپنے)محبوب صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ساری امت کی مغفرت فرما۔… 

(ملخصاً ، ماخوذاز امیر اہل سنت مدظلہ العالی کے آپریشن کی ایمان افروز جھلکیاں ص۳)

  (114)(مجھے اپنے رب  تَعَالٰی ٰ کا ڈر ہے … )

        سندھ باب الاسلام کی سطح پر۲، ۳، ۴ محرم الحرام ۱۴۲۵ھ کو ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں ہونے والے بیان کے دوران شیخِ طریقت ، امیر اہل سنت، با نیٔ دعوت ِ اسلامی علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے توبہ کی شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے وہاں موجود لاکھوں اسلامی بھائیوں اورٹیلی فون وغیرہ کے ذریعے سننے والی اسلامی بہنوں سے ارشاد فرمایا، ’’توبہ کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ جس کی حق تلفی کی ہو یا اذیت پہنچائی ہو اس سے معافی مانگی جائے ، (پھر بطور عاجزی ارشاد فرمایا)جس کے تعلقات جتنے زیادہ ہوتے ہیں اتنا ہی دوسروں کی دل آزاری ہوجانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے ، اور میرے تعلقات یقینا آپ سب سے زیادہ ہیں ، لہٰذا میری درخواست ہے کہ میری طرف سے اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہو ، کوئی حق تلف ہوگیا ہو، کبھی ڈانٹ دیا ہو، ملاقات نہ کرنے پر آپ ناراض ہوگئے ہوں ، تو ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے مجھے معاف کر دیجئے ، مجھے آپ سے نہیں اپنے رب   تَعَالٰی  سے ڈر لگتا ہے ، کہہ دیجئے ، ’’جا معاف کیا۔‘‘

        اور پھراس کا اقرار کرنے والوں کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا، ’’جس نے معاف کر دیا ، اللہ   تَعَالٰی  اسے جلد مدینہ دکھائے ، جو کیسٹ میں سنیں ، یا انٹرنیٹ یا فون کے ذریعے سن رہے ہوں ، وہ بھی معاف کردیں ۔‘‘ملخصًا

  (115)(ایمان کی شمع سدا روشن رہے… )

 



Total Pages: 42

Go To