Book Name:Khof e Khuda عزوجل

ہوجائے! کیا تجھے اپنے آپ پر قابو نہیں ہے ، تو کس طرح اللہ   تَعَالٰی  کے غضب سے بچ سکے گا؟‘‘یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ ایک رات اس کی ماں نے کہا، ’’بیٹا ! اپنے آپ پر ترس کھاؤ اور اتنی مشقت مت اٹھاؤ۔‘‘اس نے جواب دیا، ’’مجھے اسی حال پر رہنے دیں ، تھوڑی سی مشقت کے بعد شاید مجھے طویل آرام نصیب ہوجائے ، امی جان! میری نافرمانیوں کی ایک طویل فہرست رب   تَعَالٰی  کے سامنے موجود ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے مقامِ رحمت میں جانے کا حکم ہوگا یا وادیٔ ہلاکت میں ڈال دیا جاؤں گا؟ مجھے اس تکلیف کا خوف ہے جس کے بعد کوئی راحت نہیں ملے گی ، مجھے ایسی سزا کا ڈر ہے جس کے بعد بھی معافی نہیں ملے گی۔‘‘ ماں نے یہ سن کر کہا ، ’’اچھا ! تھوڑا سا تو آرام کر لو۔‘‘ وہ کہنے لگا ، ’’میں کیسے آرام کر سکتا ہوں کیا آپ میری مغفرت کی ضمانت دیتی ہیں ؟ کون میری بخشش کی ضمانت دے گا ؟ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے! ایسا نہ ہو کہ کل لوگ جنت کی جانب جارہے ہوں اور میں جہنم کی طرف…۔‘‘

        ایک مرتبہ اس کی ماں اس کے قریب سے گزری تو اس نے یہ آیت پڑھی ،   

فَوَرَبِّكَ لَنَسْــٴَـلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۹۲) عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ

تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے ، جو کچھ وہ کرتے تھے ۔(ترجمۂ کنزالایمان ۔پ۱۴، الحجر۹۲، ۹۳)‘‘

         اور اس پر غور کرنے لگا ، یہاں تک سانپ کی طرح لَوٹنے لگا ، بالآخر بے ہوش ہوگیا ۔ اس کی ماں نے اسے پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا ۔ وہ کہنے لگی، ’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک !اب کہاں ملاقات ہوگی ؟‘‘ نوجوان نے کمزور سی آواز میں جواب دیا ، ’’اگر میں قیامت کے دن میں آپ کو نہ مل سکوں تو درواغۂ جہنم سے پوچھ لینا۔‘‘ پھراس نے ایک چیخ ماری اور اس کی روح پرواز کر گئی۔

(کتاب التوابین ، ص۲۵۶ )

  (99)(مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا… )

        حضرت سَیِّدُنا صالح مری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  ایک محفل میں وعظ فرما رہے تھے ۔ انہوں نے اپنے سامنے بیٹھنے والے ایک نوجوان کو کہا، ’’کوئی آیت پڑھو۔‘‘ تو اس نے یہ آیت پڑھ دی،

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ۬ؕ-مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ(۱۸)

اورانہیں ڈراؤ اس نزدیک آنے والی آفت کے دن سے جب دل گلوں کے پاس آجائیں گے غم میں بھرے ۔ اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے ۔‘‘

(ترجمۂ کنزالایمان ، پ۲۴، المؤمن ۱۸)

        یہ آیت سن کر آپ نے فرمایا، ’’کوئی کیسے ظالم کا دوست یا مدد گار ہوسکتا ہے؟ کیونکہ وہ تواللہ   تَعَالٰی  کی گرفت میں ہوگا۔بے شک تم سرکشی کرنے والے گنہگاروں کو دیکھو گے کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہوگا اور وہ برہنہ پاؤں ہوں گے ، ان کے جسم بوجھل ، چہرے سیاہ اورآنکھیں خوف سے نیلی ہوں گی ۔‘‘وہ پکار کر کہیں گے، ’’ہم ہلاک ہو گئے ! ہم برباد ہوگئے! ہمیں کیوں جکڑا گیاہے، ہمیں کہاں لے جایا جارہا ہے اور ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟‘‘فرشتے انہیں آگ کے کوڑوں سے ہانکیں گے ، کبھی وہ منہ کے بل گریں گے اور کبھی انہیں گھسیٹ کر لے جایا جائے گا ۔ جب رو رو کر ان کے آنسو خشک ہوجائیں گے توخون کے آنسو رونا شروع کر دیں گے ، ان کے دل دہل جائیں گے اور حیران وپریشان ہوں گے ۔ اگر کوئی انہیں دیکھ لے تو ان پر نگاہ نہ جما سکے گا ، نہ دل کو سنبھال سکے گا اوریہ ہولناک منظر دیکھنے والے کے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے گا ۔‘‘

        یہ کہنے کے بعد حضرت سَیِّدُنا صالح مری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  بہت روئے اور آہ بھر کر کہنے لگے، ’’افسوس! کیسا خوفناک منظر ہوگا۔‘‘ یہ کہہ کر پھر رونے لگے اور ان کو روتا دیکھ کر لوگ بھی رونے لگے ۔ اتنے میں ایک نوجوان کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا، ’’حضور!کیا یہ سارا منظر بروزِ قیامت ہوگا؟‘‘ آپ نے جواب دیا ، ’’ہاں ! اور یہ منظر زیادہ طویل نہیں ہوگا کیونکہ جب انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو ان کی آوازیں آنا بند ہوجائیں گی ۔‘‘یہ سن کر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور کہا، ’’ افسوس ! میں نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی، افسوس! میں کوتاہیوں کا شکار رہا، افسوس ! میں اپنے پرورد گار  عَزَّوَجَلَّ  کی اطاعت میں سستی کرتا رہا، آہ! میں نے اپنی زندگی ضائع کر دی ۔‘‘ اور رونے لگا ۔کچھ دیر بعد وہ کہنے لگا، ’’اے میرے رب  عَزَّوَجَلَّ ! میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، مجھے تیرے سوا کسی سے غرض نہیں ، مجھ میں جو برائیاں ہیں انہیں معاف فرما کر مجھے قبول کر لے، میرے گناہ معاف کردے ، مجھ سمیت تمام حاضرین پر اپنا کرم وفضل فرما اور ہمیں اپنی سخاوت سے مالا مال کردے ، یاارحم الراحمین ! میں نے گناہوں کی گٹھڑی تیرے سامنے رکھ دی ہے اور صدقِ دل سے تیرے سامنے حاضر ہوں ، اگر تو مجھے قبول نہیں کرے گا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ نوجوان غش کھا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا ۔ اور چند دن بسترِ علالت پر گزار کر انتقال کر گیا۔

         اس کے جنازے میں کثیر لوگ شامل ہوئے اور رو رو کر اس کے لئے دعائیں کی گئیں ۔ حضرت سَیِّدُنا صالح مری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  اکثر اس کا ذکر اپنے وعظ میں کیا کرتے ۔ ایک دن کسی نے اس نوجوان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا، ’’ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟‘‘تو اس نے جواب دیا ، ’’مجھے حضرت صالح مری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی محفل سے برکتیں ملیں اور مجھے جنت میں داخل کر دیا گیا۔‘‘(کتاب التوابین ، ص۲۵۱ )

  (100)( اللہ   عَزَّوَجَلَّ   دیکھ رہا ہے… )

        ایک شخص کسی شامی عورت کے پیچھے لگ گیا اورایک مقام پراسے خنجر کے بل بوتے پر یرغمال بنا لیا ۔ جو کوئی اس عورت کو بچانے کے لئے آگے بڑھتا ، وہ اسے زخمی کردیتا ۔ وہ عورت مسلسل مدد کے لئے پکار رہی تھی ۔ اتنے میں حضرت سَیِّدُنا بشر بن حارثرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ   وہاں سے گزرے تو اس شخص کو کندھا مارتے ہوئے آگے نکل گئے ۔ وہ شخص پسینے سے شرابور ہو کر زمین پر گر گیا اور وہ عورت اس کے چنگل سے آزاد ہو کر ایک طرف کو چل دی ۔ اس کے ارد گرد جمع ہونے والے لوگوں نے اس سے پوچھا ، ’’تجھے کیا ہوا؟‘‘اس نے کہا، ’’میں نہیں جانتا ! لیکن جب وہ بزرگ گزرنے لگے تو مجھے کندھا مار کر کہا، ’’اللہ   عَزَّوَجَلَّ  دیکھ رہا ہے ۔‘‘ ان کی یہ بات سن کر میں ہیبت زدہ ہوگیا ، نہ جانے وہ کون تھے؟‘‘ لوگوں نے اسے بتایا، ’’یہ حضرت سَیِّدُنا بشر بن حارث رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  تھے۔ ‘‘ تو اس نے کہا ، ’’آہ میری بد نصیبی! میں آج کے بعد ان سے نگاہ نہیں ملا پاؤں گا ۔‘‘ پھر اس شخص کو بخار آگیا اور ساتویں دن اس کا انتقال ہو گیا ۔(کتاب التوابین ، ص۲۱۳ )

  (101)( میں کس گنتی میں آتا ہوں ؟… )

         ایک مرتبہ حضرت سیدنا داؤدطائی رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  نے امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، ’’آپ چونکہ اہل ِ بیت میں سے ہیں ، اس لئے مجھے کوئی



Total Pages: 42

Go To