Book Name:Khof e Khuda عزوجل

ہوئے محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ اس دن سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی یہاں تک کہ آج تم نے اس کی وفات کی خبر دی ۔‘‘ (حکایات الصالحین، ص ۶۷)

  (91)(مجھے اللہ   تَعَالٰی  کے سوا کسی کا خوف نہیں … )

        حضرت علقمہ بن اسود رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں سَیِّدُنا عامر بن قیسرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  سے زیادہ خشوع وخضوع اور انہماک کے ساتھ نماز ادا کرنے والا کوئی نہ پایا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ شیطان ملعون ایک بہت بڑے اژدھے کی صورت اختیار کر کے مسجد میں گھس جاتا اور لوگ اس کے خوف سے ادھر ادھر دوڑنے لگتے بلکہ بعض تو مسجد ہی سے نکل بھاگتے۔ لیکن وہی سانپ جب حضرت عامر بن قیسرَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  کی قمیض میں داخل ہوتا اور اپنا منہ گریبان سے باہر نکالتاتوآپ اس کی مطلقاً پرواہ نہ کرتے اور اسی طرح خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے میں مصروف رہتے ۔ ایک دن لوگوں نے آپ سے پوچھا ، ’’حضور!کیا آپ کو اتنے بڑے سانپ سے خوف نہیں آتا ؟‘‘آپ نے جواب دیا ، ’’مجھے اللہ  کے سوا کسی سے خوف نہیں آتا ۔‘‘ سچ ہے کہ جو اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرتے ہیں وہ اورکسی سے نہیں ڈرتے اور جو رب   تَعَالٰی  سے نہیں ڈرتا وہ ہر ایک سے ڈرتا ہے ۔(حکایات الصالحین، ص۱۰۴)

  (92)( اپنے خوف کے سبب بخش دیا… )

        ایک شخص کسی عورت پر فریفتہ ہوگیا ۔جب وہ عورت کسی کام سے قافلے کے ساتھ سفر پر روانہ ہوئی تو یہ آدمی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ جب جنگل میں پہنچ کر سب لوگ سو گئے تو اس آدمی نے اس عورت سے اپنا حالِ دل بیان کیا ۔ عورت نے اس سے پوچھا، ’’کیا سب لوگ سو گئے ہیں ؟‘‘ یہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ شاید یہ عورت بھی میری طرف مائل ہو گئی ہے چنانچہ وہ اٹھا اور قافلے کے گرد گھوم کر جائزہ لیا تو سب لوگ سورہے تھے ۔ واپس آکر اس نے عورت کو بتایا کہ’’ہاں ! سب لوگ سو گئے ہیں ۔‘‘ یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی ، ’’اللہ   تَعَالٰی  کے بارے میں تم کیا کہتے ہو، کیا وہ بھی اس وقت سو رہا ہے؟‘‘مرد نے جواب دیا ، ’’اللہ   تَعَالٰی  نہ سوتا ہے ، نہ اسے نیند آتی ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے ۔‘‘ عورت نے کہا ، ’’جو نہ کبھی سویا اور نہ سوئے گا ، اوروہ ہمیں بھی دیکھ رہاہے اگرچہ لوگ نہیں دیکھ رہے تو ہمیں اس سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔‘‘ یہ بات سن کر اس آدمی نے رب   تَعَالٰی  کے خوف کے سبب اس عورت کو چھوڑ دیا اور گناہ کے ارادے سے باز آگیا۔

        جب اس شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا ، ’’مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللہ   تَعَالٰی  نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟‘‘ تو اس نے جواب دیا ، ’’اللہ   تَعَالٰی  نے مجھے ترکِ گناہ اور اپنے خوف کے سبب بخش دیا۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۱۱)

  (93)( تمام گناہوں کی مغفرت ہوگئی… )

        بنی اسرائیل میں ایک عیال دار شخص نہایت عبادت گزار تھا ۔ اس پر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنے اہل وعیال سمیت فاقے میں مبتلاء ہوگیا۔ایک دن اس نے مجبور ہو کر اپنی بیوی کو بچوں کے لئے کچھ لانے کے لئے باہر بھیجا۔ اس کی بیوی ایک تاجر کے دروازے پر پہنچی اور اس سے سوال کیا تاکہ بچوں کو کھانا کھلائے ۔ اس تاجر نے کہا ، ’’ٹھیک ہے میں تمہاری مدد کروں گا لیکن اس شرط پر کہ تم اپنا آپ میرے حوالے کردو۔‘‘یہ جواب سن کروہ عورت خاموشی سے گھر واپس آگئی ۔ گھر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ بچے بھوک کی شدت سے چلاّ رہے ہیں اورکہہ رہے ہیں ، ’’اے امی جان! ہم بھوک سے مرے جارہے ہیں ، ہمیں کھانے کو کچھ دیجئے ۔‘‘ بچوں کی یہ حالت دیکھ کر وہ مجبوراً دوبارہ اس تاجر کے پاس گئی اور اسے اپنی مجبوری بتائی ۔ اس تاجر نے پوچھا ، ’’کیا تمہیں میرا مطالبہ منظور ہے ؟‘‘اس عورت نے کہا، ’’ہاں !‘‘

        جب وہ دونوں تنہائی میں پہنچے اور مرد نے اپنا مقصد پورا کرنا چاہا تو وہ عورت تھرتھر کانپنے لگی ، قریب تھا کہ اس کے جسم کے جوڑ الگ ہوجائیں ۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر تاجر نے دریافت کیا ، ’’یہ تجھے کیا ہوا؟‘‘ عورت نے جواب دیا، ’’مجھے اپنے رب  تَعَالٰی  کا خوف ہے۔‘‘یہ سن کر تاجر نے کہا، ’’تم فقر وفاقہ کی حالت میں بھی اللہ   تَعَالٰی  سے ڈرتی ہو ، مجھے تو اس سے بھی زیادہ ڈرنا چاہئیے۔‘‘ چنانچہ وہ گناہ کے ارادے سے باز آگیا اور اس عورت کی ضرورت پوری کر دی ۔ وہ عورت بہت سارا مال لے کر اپنے بچوں کے پاس آئی اور وہ خوش ہو گئے۔

        اللہ   تَعَالٰی  نے حضرت سَیِّدُنا موسی ں کو وحی بھیجی کہ’’ فلاں ابن فلاں کو بتا دیں کہ میں نے اس کے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ۔‘‘ حضرت موسٰیں یہ پیغام لے کر اس آدمی کے پاس پہنچے اور اس سے پوچھا ، ’’شاید تو نے کوئی ایسی نیکی کی ہے جو تجھے یا تیرے رب کو معلوم ہے۔‘‘اس شخص نے سارا واقعہ آپ کو بتادیا تو آپ نے اسے بتایاکہ’’اللہ   تَعَالٰی  نے تیرے تمام گناہوں کی مغفرت کر دی ہے ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۱۱)   

  (94)( اللہ   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں حاضری کا خوف… )

        حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ  تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ’’ایک فاحشہ عورت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دنیا کا تہائی حسن اس کے پاس ہے۔وہ اپنا آپ کسی کو سونپنے کا معاوضہ سو دینار لیتی تھی۔ایک مرتبہ ایک عابد کی نگاہ اس پر پڑ گئی ، اور وہ اس کا قُرب پانے کے لئے بے چین ہو کر سو دینار جمع کرنے میں مشغول ہو گیا ۔جب مطلوبہ رقم پوری ہو گئی تو وہ اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ’’تیرے حسن نے مجھے دیوانہ کر دیا ہے ، میں نے تجھے حاصل کرنے کے لئے اپنے ہاتھ کی محنت سے یہ سو دینار جمع کئے ہیں ۔‘‘ اس فاحشہ نے کہا ’’یہ میرے وکیل کو دے دو ، تاکہ وہ پرکھ لے۔‘‘جب وکیل نے دینار پرکھ لئے تو اس نے عابد کو اندر آنیکی اجازت دے دی ۔

        جب وہ گناہ کے لئے فاحشہ کے نزدیک بیٹھا ، تو اس پر اللہ   تَعَالٰی  کی بارگاہ میں پیشی کا خوف غالب آ گیا اور وہ تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی شہوت جاتی رہی۔اس نے فاحشہ سے کہا ، ’’مجھے چھوڑ دے میں واپس جانا چاہتا ہوں ، اور یہ سو دینار بھی تو ہی رکھ لے۔‘‘عورت نے کہا، ’’یہ کیا؟میں تجھے پسند آئی، تو نے اتنی محنت سے یہ دینار جمع کئے اور اب جبکہ تیری خواہش پوری ہونے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی، تو واپس جانا چاہتا ہے؟‘‘عابد نے کہا، ’’میں اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا ہوں ، اس لئے میرا تمام عیش ہوا ہو گیا ہے ۔‘‘

        وہ طوائف یہ بات سن کر بہت متأثر ہوئی، چنانچہ اس نے کہا کہ’’اگر واقعی یہ بات ہے تو میرا خاوند تیرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔‘‘عابد نے کہا ’’مجھے چھوڑ دے، میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں ۔‘‘عورت نے کہا ، ’’میں تجھے صرف اس شرط پر جانے دوں گی کہ تو مجھ سے شادی کر لے۔‘‘عابد نے کہا کہ’’جب تک میں یہاں سے نکل نہ جاؤں ، یہ ممکن نہیں ۔‘‘عورت نے کہا کہ’’ٹھیک ہے!لیکن اگر میں بعد میں تیرے پاس آؤں تو کیا تو مجھ سے شادی کر لے گا ؟‘‘عابد نے کہا ’’ٹھیک ہے۔‘‘پھر اس عابد نے منہ چھپایا اور اپنے شہر کو نکل کھڑا ہوا ۔

 



Total Pages: 42

Go To