$header_html

Book Name:Khof e Khuda عزوجل

نیز ’’دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس المدینۃ العلمیۃ کے تمام شعبۂ جات کو دن پچیسوں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے اور ہمیں نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے لئے دن رات کوششیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن (صَلَّی اللہ   تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) 

شعبۂ اصلاحی کتب (المد ینۃ العلمیۃ )   

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ طاَمَّا بَعْد

پیارے اسلامی بھائیو!

                اس حقیقت سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہوسکتا کہ مختصر سی زندگی کے ایام گزارنے کے بعدہر ایک کو اپنے پروردگار  عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں حاضر ہوکر تمام اعمال کا حساب دینا ہے۔جس کے بعد رحمت ِ الٰہی  عَزَّوَجَلَّ ہماری طرف متوجہ ہونے کی صورت میں جنت کی اعلیٰ نعمتیں ہمارا مقدر بنیں گی یا پھر گناہوں کی شامت کے سبب جہنم کی ہولناک سزائیں ہمارا نصیب ہوں گی۔  (والعیاذ باللّٰہ ) لہذا !اس دنیاوی زندگی کی رونقوں ، مسرتوں ، اوررعنائیوں میں کھوکر حساب ِآخرت کے بارے میں غفلت کا شکار ہوجانا یقینا نادانی ہے ۔یاد رکھئے! ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم رب ِ کائنات  عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں اور گناہوں کے ارتکاب سے پرہیز کریں ۔اس مقصدِ عظیم میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے دل میں خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے ۔ کیونکہ جب تک یہ نعمت حاصل نہ ہو ‘ گناہوں سے فرار اور نیکیوں سے پیار تقریباً ناممکن ہے۔ اس نعمت ِ عظمیٰ کے حصول میں کامیابی کی خواہش رکھنے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے لئے درجِ ذیل سطور کامطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا۔اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ     

 خوفِ خدا کا مطلب :                            

        یاد رکھئے کہ مطلقاًخوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہومثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔۔۔۔۔

        جبکہ خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ  کامطلب یہ ہے کہ اللہ   تَعَالٰی  کی بے نیازی ، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلاء ہوجائے۔(ماخوذ من احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، ج ۴ )

 پیارے اسلامی بھائیو!

                 رب العالمین جل جلالہ نے خود قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس صفت کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے ، جسے درجِ ذیل آیات میں ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔

 (1) وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ

ترجمۂ کنزالایمان :  اور بیشک تاکید فرما دی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور تم کو کہ اللہ  سے ڈرتے رہو  ۔۵، النسآء : ۱۳۱ )

 (2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ

ترجمۂ کنزالایمان :  اے ایمان والو! اللہ  سے ڈرو اور سید ھی بات کہو ۔( پ۲۲، الا حزاب :   ۷۰)

 (3) فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِؕ

ترجمۂ کنزالایمان : تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو ۔ ( پ۶، المائدۃ : ۳)   

 (4) یٰۤاَیُّهَا  النَّاسُ   اتَّقُوْا  رَبَّكُمُ  الَّذِیْ  خَلَقَكُمْ  مِّنْ  نَّفْسٍ  وَّاحِدَةٍ 

ترجمۂ کنزالایمان : اے لوگو ـــ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پید ا کیا۔(پ۴، ا لنساء :  ۱  )

 (5) یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اتَّقُوا  اللّٰهَ  حَقَّ  تُقٰتِهٖ  وَ  لَا  تَمُوْتُنَّ  اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ

ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو ؛ اللہ  سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا ، مگر مسلمان۔۴، آل عمران :  ۱۰۲ )

 (6) وَ  خَافُوْنِ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ

ترجمۂ کنزالایمان :  اور مجھ سے ڈرو ، اگر ایمان رکھتے ہو۔ ۴، آل عمران ۱۷۵ )

 (7) وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ

ترجمۂ کنزالایمان : اور خاص میرا ہی ڈر رکھو۔ ۱، ا لبقرۃ :  ۴۰ )

 (8) یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ

ترجمۂ کنزالایمان :  اللہ  تمہیں اپنے غضب سے ڈرا تا ہے۔ ۳، آل عمران ۲۸ )

 (9) وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ

ترجمۂ کنزالایمان :  اورڈرو اس دن سے جس میں اللہ  کی طرف پھرو گے۔۳، ا لبقر  ۃ : ۲۸۱)

 پیارے اسلامی بھائیو!

 



Total Pages: 42

Go To
$footer_html